پاندچھ وائیل شاہراہ کی کشادگی کا کام کھٹائی میں | 4 برس میں آدھ کلومیٹر سڑک کاکام بھی مکمل نہ ہوسکا

گاندربل// گاندربل کی مرکزی شاہراہ کی کشادگی کا کام سال 2018 میں دو مرحلوں میں شروع کیا گیا تھا تاہم چار سال گزرنے کے باوجود بھی ابھی تک شاہراہ کا آدھا کلو میٹر بھی مکمل نہ ہوسکا جس کی وجہ سے گاندربل کے درجنوں علاقوں میں رہائش پذیر آبادی کو گوناگوں مشکلات درپیش  ہیں۔سال 2007 میں دیگر آٹھ اضلاع کے ساتھ ساتھ گاندربل کو ضلع کا درجہ حاصل ہوا تھا، تاہم 15 سال گزر چکے ہیں گاندربل کو ضلع بنے ہوئے لیکن اس کے باوجود بھی اہم ترین ترقیاتی منصوبوں پر کام مکمل نہیں کیا جاسکا، جن میں پاندچھ وائیل شاہراہ کی کشادگی، اکہال اور کنگن کو ملانے والا رابطہ پل، نالہ سندھ پر وائیل کے مقام پر پل کی تعمیر،نالہ سندھ پر سربل سے لیکر شادی پورہ تک 7 زیر تعمیر پلوں کا کام نامکمل ہونے کی وجہ سے مقامی آبادی کو گوناگوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔پاندچھ سے بی ہامہ تک 18 کلومیٹر شاہراہ کی کشادگی کا کام دو مرحلوں میں شروع کیا گیا تھا جس کے تحت پہلے مرحلے میں پاندچھ سے لیکر بی ہامہ چوک تک 4 کلومیٹر سے زائد شاہراہ کا کام سال 2018 کے اپریل کے مہینے میں شروع کیا گیا تھا جس پر 65 کروڑ روپے لاگت آنے کاتخمینہ لگایا گیا تھا۔شاہراہ کی کشادگی کا منصوبہ مرکزی حکومت کے زیر انتظام سنٹرل سڑک فنڈز سکیم کے تحت واگزار کئے گئے تھے۔65 کروڑ روپے میں 20 کروڑ روپے شاہراہ کی کشادگی اور تعمیر و تجدید کے لئے مختص کئے گئے تھے جبکہ باقی ماندہ 45 کروڑ روپے اُن مالکان کے لئے رکھے گئے جن کی ملکیتی اراضی، تعمیراتی ڈھانچہ جن میں رہائشی مکان اور دکانیں اور درخت شاہراہ کی کشادگی کے دائرے میں آتے تھے، ان کومعاوضے کے طورادا کرنے تھے۔سرینگر سے سونمرگ تک موجود درجنوں علاقوں میں رہائش پذیر لاکھوں کی آبادی کا انحصار اسی شاہراہ پر ہے.جس پر روزانہ ہزاروں نجی، کمرشل، سیاحوں کی گاڑیاں صبح شام دوڑتی رہتی ہیں۔سال 1950 سے لیکر سال 2010 تک  لداخ فوجی اور سول کانوائے، امرناتھ یاترا کانوائے، سیاحتی مقام سونمرگ سے لطف اندوز ہونے کے لئے سیاحوں کی گاڑیاں سمیت گاندربل کے درجنوں علاقوں کے لئے جانے والی گاڑیوں کیلئے یہی شاہراہ تھی تاہم سال 2010 میں سمبل سوناواری سے لیکر منیگام بائی پاس روڈ کی تعمیر سے اس پر لداخ جانی والی فوجی اور سیول کانوائے بائی پاس سے چھوڑی گئی،لیکن سرینگر سے لیکر سونمرگ،صفاپورہ ،شالہ بگ ،لار ،سمیت دیگر درجنوں علاقوں کے لئے سرینگر ناگہ بل بی ہامہ شاہراہ ہی مرکزی اور اہم شاہراہ ابھی بھی ہے جو سال 1950 سے لیکر جوں کی توں ہے ۔تب سے اب گاندربل میں نجی گاڑیوں کی تعداد زبردست اضافہ ہوا لیکن شاہراہ وہی ہے جس کی کشادگی کا کام 2018 میں شروع تو کیا گیا لیکن ختم کب ہوگا،یہ معلوم ہی نہیں ہے۔ عوامی حلقوں میں تشویش ہے کیونکہ چار سال میں آدھا کلومیٹر شاہراہ مکمل نہیں ہوسکی تو 18 کلومیٹر کب مکمل ہوگی۔ اس بارے میں جب کشمیر عظمی نے محکمہ تعمیرات عامہ گاندربل کے ایگزیکٹو انجینئر ظفر قریشی سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ سرینگر پاندچھ بی ہامہ کی کشادگی کا کام اور دیکھ بھال اب ہائی وے اتھارٹی آف ہندوستان نے اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے ،جو آنے والے دو تین ماہ میں کام شروع کریں گے لیکن ابھی جو کشادگی کا کام ہے اس کا دو کلومیٹر کا کام ہمارا محکمہ ہی دو تین ماہ میں مکمل کرے گا ۔