پانتہ چھوک کے سیلاب متاثرہ تاجر امداد سے ہنوز محروم

سرینگر// 2014میں آئے تباہ کن سیلاب سے متاثر ہوئے پانتہ چھوک کے تاجروں نے سرکار کی طرف سے انہیں نظر انداز کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ تاجروں نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے جہاں وادی کے اطراف و اکناف میں تباہی مچی،وہیں پانتہ چھوک کا علاقہ بھی بچ نہ پایا اور تاجروں کو کافی نقصانات کا سامنا کرنا  پڑا۔کشمیر عظمیٰ دفتر پر آئے دکانداروں کے ایک وفد نے بتایا کہ بعد میں سرکار نے تاجروں کو معاوضہ و امداد فراہم کرنے کا اعلان کیااورتمام دستاویزات اور دیگر ضروری کاغذات کو جمع کرنے کے علاوہ انتظامیہ نے دکانداروں کو ہوئے نقصانات کا جائزہ بھی لیا،تاہم صرف منظور نظر تاجروں کو ہی امداد دی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ ابھی بھی50کے قریب ایسے چھوٹے دکاندار ہیںجن کا بقول انکے اثر ورسوخ حاصل نہیں تھا،کو 4 برس گزر جانے کے باوجود بھی امداد فرہم نہیں کی گئی،جس کی وجہ سے انہیں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وفدنے مزید بتایا کہ اس حوالے سے کئی بار انتظامیہ کی نوٹس میں یہ بات لائی گئی،تاہم اس کے باوجود بھی  انہیں در در کی ٹھوکریں کھانے کیلئے مجبور کیا گیا۔تاجروں نے گورنر انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں۔ادھر کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن کے ایک دھڑے کے ترجمان اعلیٰ ہلال احمد منڈو نے کہا کہ عنقریب ہی انکی میٹنگ گورنر کے مشیر بی بی ویاس کے ساتھ ہو رہی ہے،جس کے دوران یہ معاملہ بھی انکی نوٹس میں لایا جائے گا۔