پامالیوں کا جائزہ لینے کیلئے خصوصی ٹیمیں وادی بھیجنے کی اپیل

 سرینگر//انسانی حقوق کے عالمی دن پرمزاحمتی جماعتوں نے جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال کوتشویشناک قرار دیتے ہوئے عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کا جائزہ لینے کیلئے خصوصی ٹیمیں یہاں روانہ کریں۔انجمن شرعی شیعیان،تحریک مزاحمت ،پیپلز لیگ،لبریشن فرنٹ ( آر )، اتحاد المسلمین ،حریت (جے کے)،سالویشن مومنٹ،پیروان ولایت ،اسلامک پولیٹکل پارٹی اور ووئس آف وکٹمزنے انسانی حقوق کیلئے سرگرم عالمی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی توجہ کشمیر کی طرف مبذول کریں اور کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں پر پابندی لگانے کیلئے بھارت پر اپنا اثرو رسوخ استعمال کریں۔انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما آغا سید حسن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی صورتحال بد سے بد تر ہوتی جارہی ہے، جس کی بنیادی وجہ عالمی طاقتوں کی بدلتی ہوئی ترجیحات ، دوہرا معیار اور جانبدارانہ کردار ہے ۔ آغا حسن نے کہا کہ یمن، میانمار، فلسطین اور کشمیرمیں سالہاسال سے حقوق البشر کی بدترین پامالیاں کا سلسلہ جاری ہے ۔آغا حسن نے کہا کہ اس حوالے سے عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کی عدم توجہی ایک افسوس ناک امر ہے ۔ اننہوں نے کہا کہ عالمی برادری ان مسائل کی طرف وہ خاطر خواہ توجہ نہیں دیتی جس کاتقاضا ان مظلومین کی صورتحال کر رہی ہے۔انہوں نے بیت المقدس سے متعلق امریکہ کے فیصلے پر عالمی رد عمل کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس شرمناک فیصلے کا واحد مقصد فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کا خاتمہ اور گریٹر اسرائیل کے خواب کو پورا کرنے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دورکرنا ہے۔ تحریک مزاحمت کے چیئرمین بلال صدیقی نے اقوام عالم کو ریاست میںانسانی حقوق کی پامالیوں کا جائزہ لینے کیلئے خصوصی ٹیمیںروانہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی اداروں اور فورسز کی جانب سے خواتین کے ساتھ ذلت آمیز رویہ ، تشدد ،زیر حراست ہلاکتیں ،گرفتاریاں،ماورائے عدالت قتل ،شبانہ چھاپے اور زیر حراست تشد د کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے اور یہ سلسلہ ہر چڑھتے سورج کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ بلال صدیقی نے اپنے بیان میں کہا کہ ظلم ستم کے ہتھکنڈے کھلے عام اور دن کی روشنی میں بلا کسی محاسبہ کے انجام دئے جارہے ہیں ۔انہوں نے اس سلسلے میں اقوام عالم کی خاموشی کو بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے رویہ نے ظلم ڈھانے والوں کے حوصلے بڑھادئے ہیں۔ پیپلز لیگ کے ایک دھڑے نے ایک بیان میں اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل پر زور دیا کہ وہ لیگ کے محبوس چیئرمین غلام محمد خان سوپوری سمیت دیگر سبھی نظربندوں کی فوری رہائی کو یقینی بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ لیگ کے قائمقام چیئرمین سیدمحمد شفیع نے کہا کہ جب پوری دنیا حقوق انسانی عالمی کا دن منارہی ہے،یہاں کشمیر میں والدین اپنے بچوں کو پولیس تھانوں اور جیلوںسے چھڑانے میں مصروف ہیں۔انہوں نے کہا کہ وردی پوش اہلکاروں نے سر زمین کشمیر کو جہنم زار بنا رکھا ہے۔انہوں نے عالمی اداروں پرزور دیا کہ وہ کشمیر کے طول و عرض میں بے جا گرفتاریوں، بے نام قبروں کی موجودگی، شہریوں کولاپتہ کئے جانے، خواتین کیخلاف جنسی زیادتیوں اور بھارتی فورسز کے ہاتھوں دیگر پامالیوں سے متعلق جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کا سنجیدہ نوٹس لیکر اس بات کو یقینی بنائیں کہ آج کے دن محض تقاریب کا اہتمام نہ ہو بلکہ زمینی سطح پر ایسے اقدامات کئے جائیں جن سے متاثرہ لوگوں کو کچھ راحت نصیب ہو اور کشمیر میں جاری خون خرابے کو ہمیشہ کیلئے روکا جاسکے۔ پیپلز لگ کے ایک اور دھڑے کے مطابق لیگ چیئرمین ایڈوکیٹ بشیر احمد طوطا کی صدارت میں ایک اجلاس منعقد کیا گیا جس میں سینئر ممبران محمد مقبول صوفی ،حاجی محمد فاروق وانی ،ملک منظور احمداورنذیر احمد کے علاوہ دیگر کارکنان نے شرکت کی ۔اجلاس میںایک قرار داد پاس کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ اپنی توجہ کشمیر کی طرف فی الفور مبذول کریں اور کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں پر پابندی لگانے کیلئے بھارت پر اپنا اثرو رسوخ استعمال کریں۔لبریشن فرنٹ ( آر ) کے جنرل سیکریٹری وجاہت بشیر قریشی نے اپنے بیان میں اقوام عالم سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ حالات کا جائزہ لینے کے لئے ایک خصوصی ٹیم بھیجیں اور اس بات کا جائزہ لیں کہ کس طرح فورسز نہتے عوام کے خلاف بر سر جنگ ہے۔قریشی نے اس بات پرافسوس کا اظہار کیا کہ پیلٹ گن کو کشمیر کے بغیر دنیا میں کسی بھی جگہ انسانوں کے خلاف استعمال نہیںکیا جارہا ہے ۔انہوں نے محبوسین سے متعلق اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بغیر کسی چارہ جوئی کے سالہاسال تک بند رکھا جارہا ہے اور ان کی مدت قید کو ایک یا دوسرے بہانے سے طو ل دیا جارہا ہے۔ انہوں نے عالمی حقوق کے دن کے موقع پر اقوام عالم سے اپیل کی کہ وہ ریاستی عوام کے پامال کئے گئے حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریاںپوری کرکے ریاست کے لوگوں سے ان کے سیاسی مستقبل سے متعلق ان کی رائے جاننے کے بارے میں اقدامات کریں۔ اتحاد المسلمین کے سرپرست اعلیٰ اور سینئر حریت رہنما مولانا محمد عباس انصاری نے اپنے بیان میں کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام عالم سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر میں جاری نسل کشی اور انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں روکنے میں جلد از جلد کوئی مو¿ثر اقدام کریں۔ مولانا نے کہا کہ دہائیوں سے بھارت نے کشمیری قوم کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا ہے وہ قابل تشویش ہے ۔انہوں نے کہا کہ آئے روز کریک ڈاون، کرفیو ،بندشیں ،حریت پسند رہنماﺅں کی نظر بندیاں، گرفتاریاں اور انٹرنیٹ پر پابندی انسانی حقوق کی کھلم کھلا توہین ہے۔انہوں نے کہاکہ عالمی برادری کو چاہئے کہ بھارت کی ان حرکتوں کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں پر روک لگادیں۔حریت (جے کے)کے کنوینئرشبیر احمد ڈارنے ایک بیا ن میں کہا ہے کہ بشر حقوق کا عالمی دن کشمیر میں منانا کسی مذاق سے کم نہیں کیونکہ کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا بدترین شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں آج عالمی انسانی حقوق کے دن کے حوالے سے مختلف تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے مگر جموں کشمیر واحد ایک ایسا خطہ ہے جہاں اس روز بھی پرامن پروگراموں پرپابندی عائد ہے ۔انہوں نے بشری حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ اب خاموشی توڑ کر کشمیریوں کو انصاف دلانے میں اپنا اخلاقی فرض نبھائیں ۔سالویشن مومنٹ بیان کے مطابق تنظیم کے چیئرمین ظفر اکبر بٹ کی رہائش گاہ پر ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں لبریشن فرنٹ (ح)چیئرمین جاوید احمد میر ،سالویشن مومنٹ کی خواتین ونگ رقیہ بھاجی، پیلٹ وکٹمز ایسوسی ایشن کے بشیر احمد،افیکٹیڈ فیملیز کی نسیمہ جان اور سالویشن مومنٹ کے کارکنوں نے شرکت کی ۔مجلس میں ایک قرار داد پاس کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ اپنی توجہ کشمیر کی طرف فی الفور مبذول کریں اور کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں پر پابندی لگانے کیلئے بھارت پر اپنا اثر ورسوخ استعمال کریں۔پیروان ولایت نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے کشمیر میں ہورہی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھارت کے خلاف سخت نوٹس لینے کی اپیل کی ہے ۔تنظیم کے سیکریٹری جنرل آغا سید یعسوب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جمہوریت کے دعویدار بھارت کو جمہوری ملک کہلانے کا کوئی حق نہیں رکھتے ۔انہوں نے کہا کہ آئے روز کرفیو، کریک ڈاﺅن، بندشیں، گرفتاریاں ، این آئی اے چھاپے اورتعلیمی اداروں کو بند رکھنا جمہوریت کے ماتھے پر بدنما داغ ہے۔انہوںنے عالمی برداری خاص طور پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کی جانب سے کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر فوری روک لگادیں۔ اسلامک پولیٹکل پارٹی ترجمان نے کہا کہ پوری دنیا انسانی حقوق کے تحفظات کےلئے تقاریب کا اہتمام کرتی ہے لیکن سرزمین کشمیر میںآج بھی پابندیاں اس بات کو واضح کر رہی ہے کہ کشمیر کے مکین کس درد و کرب میں اپنی شب و روز گذر کر رہے ہیں۔انسانی حقوق کیلئے سرگرم تنظیم ووئس آف وکٹمز(وی او وی) کے زیراہتمام بارہمولہ میںگمنام قبروں ،حراستی ہلاکتوں و گمشدگیوں اوردیگر حقوق انسانی پامالیوںکواُجاگر کرنے کیلئے خاموش احتجاج کیا گیا ،جس میں فورم کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عبدالقدیر ڈار،کارڈی نیٹر عبدالرﺅف خان اور دیگر ممبران کے ساتھ ساتھ سماج کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی ۔بیان کے مطابق اس احتجاجی دھرنے کامقصد اقوام عالم تک اس حقیقت کو پہنچاناتھا کہ جموں و کشمیر میں فوج ،فورسزاوردیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے ہاتھوں 1990سے ہوئی خلاف ورزیوں ،زیادتیوں اور ہرقسم کی ناانصافیوں پر عالمی برادری نے کیوں خاموشی اختیار کررکھی ہے اورکیوں اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورم اس خطہ ارض میں رہنے والے انسانوں کے بنیادی حقوق پامال ہونے پر چُپ سادھ لئے ہوئے ہےں۔خاموش احتجاج کے دوران عبدالقدیر ڈار نے بتایاکہ انٹرنیٹ اورمواصلاتی انقلاب کے موجودہ دورمیں جموں و کشمیر میں آئے روز پابندیاں عائد کی جاتی ہیں جو افسوسناک ہے۔