پاسپورٹ اور سرکاری ملازمت کیلئے حفاظتی ایجنسیوں کی ہری جھنڈی کاحکم

سرینگر//انٹرنیشنل پاسپورٹ اورسرکاری ملازمت کے حصول کیلئے سیکورٹی ایجنسیوں کی کلیرئنس کولازمی قرار دئیے جانے پر سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی وعمرعبداللہ، اپنی پارٹی صد سیدالطاف بخاری، پی ڈی ایف سربراہ حکیم محمد یاسین اورپیپلزکانفرنس نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خبردارکیاہے کہ اس طرح کے صوابدیدی فیصلے نوجوانوں کو مزید اجنبیت کی طرف دھکیلیں گے۔کے این ایس کے مطابق پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا الزام ہے کہ سرکاری نوکری یا پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے کشمیریوں کی سخت جانچ پڑتال کی جا رہی ہے جبکہ جنگجوؤں کی مدد کرنے والے پولیس افسر کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کا کشمیریوں کے ساتھ کھیلے جا رہے گندے کھیل اور دوہرے معیار کا برملا ثبوت ہے۔محبوبہ مفتی نے ایک ٹویٹ میں لکھاکہ کشمیریوں کوبے گناہ ثابت ہونے تک مجرم سمجھاجاتاہے ۔انہوں نے کہاکہ چاہے سرکاری ملازمت ہو یا پاسپورٹ ، وہ (کشمیری) بدترین قسم کی جانچ پڑتال کا شکار ہیں۔ لیکن جب ایک پولیس اہلکار کے بارے میں جانا جاتا ہے کہ اس نے جنگجوئوں کو سہولت فراہم کی ہے تو اسے چھوڑ دیا جاتا ہے۔محبوبہ مفتی کے بقول’’ دوہرے معیار اور گندے کھیل واضح ہیں‘‘۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت گرفتار بے گناہ کشمیری برسوں سے جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔ایک اورٹویٹ میں پی ڈی پی صدر نے لکھاکہ معصوم کشمیری انسداد دہشت گردی قانون کے تحت برسوں سے جیلوں میں سڑرہے ہیں،اورٹرائل کاوقت اُن کیلئے سزا بن جاتاہے۔محبوبہ مفتی کے بقول لیکن حکومت ہندجنگجوئوں کیساتھ رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ایک سابق پولیس افسرکیخلاف انکوائری یاتحقیقات نہیں چاہتی ہے۔انہوں نے سوالیہ انداز میں لکھاکہ کیا اسکی وجہ یہ ہے کہ برطرف شدہ پولیس افسرنے اس نظام کیساتھ گھل ملکر کچھ گھنائونے واقعات کوانجام دیا؟۔اُدھر جموں وکشمیر کے سابق وزیراعلیٰ اورنیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمرعبداللہ نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا،’’ جرم یا بے گناہی عدالت میں ثابت ہونی چاہیے اور غیر مبہم پولیس رپورٹس کی بنیاد پر نہیں‘‘۔ ایک ایگزیکٹو آرڈر قانون کی یا عدالت کی جگہ نہیں لے سکتا۔عمرعبداللہ نے ایک ٹویٹ میں لکھا،’’ایک’منفی پولیس رپورٹ،قانون کی عدالت میں مجرم پائے جانے کا متبادل نہیں ہو سکتی‘‘۔انہوں نے کہاکہ ڈیڑھ سال قبل جموں وکشمیر پولیس پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت میری حراست کو جائز قرار دینے کیلئے ایک’’منفی پولیس رپورٹ‘‘ بنانے میں کامیاب ہوئی جو کبھی بھی قانونی چیلنج کیلئے کھڑی نہ ہوتی۔اُدھر سابق وزیراوراپنی پارٹی کے صدر سیدمحمدالطاف بخاری نے بھی انٹرنیشنل پاسپورٹ اورسرکاری ملازمت کے حصول کیلئے سیکورٹی ایجنسیوں کی کلیرنس کولازمی قرار دئیے جانے پرسخت ردعمل ظاہرکیا ہے ۔انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ اس طرح کے فیصلے کشمیر سے متعلق وزیراعظم کے نظریے کی نفی کرتے ہیں ۔الطاف بخاری نے اپنے بیان میں جموں وکشمیرکی انتظامیہ کے اُس آرڈرکوہدف تنقید بنایا ،جس میں کہاگیا ہے کہ سنگ باری کے واقعات یادیگرخلاف قانونی سرگرمیوں میں ملوث افرادکو انٹرنیشنل پاسپورٹ یاسرکاری ملازمت نہیں دی جائیگی ۔الطاف بخاری نے خبردارکیاکہ اس طرح کے صوابدیدی فیصلے نوجوانوں کو مزید اجنبیت کی طرف دھکیلیں گے اور ایسے فیصلے جموں و کشمیر میں امن اور مفاہمت کے عمل کے خلاف ہیں۔اپنی پارٹی کے صدر نے کہاکہ ہم مفاہمت کے عمل سے گزر رہے ہیں جس کا مقصد ہر ایک کو جذب کرنا ہے جو پہلے الگ تھلگ یا مایوس محسوس کرتا تھا۔ انہوں نے کہاکہ تازہ ترین آرڈر مکمل طور پر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ کے وعدوں اور نظریے کے برعکس ہے جو کہ جموں و کشمیر کے لوگوں بالخصوص اس کے پرامید نوجوانوں کے بہتر اور خوشحال مستقبل کا تصور کرتے ہیں۔الطاف بخاری نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا پر زور دیا کہ وہ اس اہم معاملے کا سنجیدہ نوٹس لیں جو کہ جموں و کشمیر میں امن و استحکام کو متاثر کرنے کی کافی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ موجودہ کوششیں لوگوں کو مرکزی دھارے کی سرگرمیوں میں شامل کرنے پر مرکوز ہیں۔ادھرجموں و کشمیر پیپلز کانفرنس نے مجرمانہ تفتیش ڈیپارٹمنٹ ، اسپیشل برانچ کشمیر کی طرف سے پاسپورٹ ، سرکاری اسکیموں اور سرکاری ملازمت میں بھرتی سے متعلق تصدیق کے بارے میں جاری کردہ سخت حکم کی مذمت کی ہے۔ پارٹی کے مطابق یہ حکم نہ صرف ا سپیشل برانچ کے اہلکاروں کو صوابدیدی اختیارات دیتا ہے بلکہ انہیں اس معاملے میں جج ، جیوری اور جلاد کے طور پر بھی مقرر کرتا ہے۔پیپلز کانفرنس کے ترجمان نے کہاکہ بیان بازی کے بغیر یہ ہماری عاجزانہ اپیل ہے کہ ان قوانین کو لکھنے والے لوگوں کو اپنی مدت کے 2 سے 2 سال سے آگے دیکھنے کی اپیل کریں۔ انہوں نے کہاکہ یہ غیر سوچی سمجھی ساختی تبدیلیاں کئی دہائیوں تک منفی اثرات مرتب کریں گی۔ ہماری بیوروکریسی سے پرزور اپیل ہے: براہ کرم ہماری آنے والی نسلوں کے لیے غصے اور زہر کے بیج نہ بوئیں۔پیپلزڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین حکیم محمد یاسین نے بھی حکومت کے اس فیصلے کوغیرقانونی اور غیرجمہوری قرار دیا جس میں پاسپورٹ اور ملازمت کے حصول کیلئے سیکورٹی اداروں کی ہری جھنڈی کو لازمی قرار دیاگیا ہے۔ایک بیان میں حکیم یاسین نے کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ وزیراعظم کے اس بیان کے منافی ہے جس میں انہوں نے دل کی دوریوں اور دلی سے دوری کو مٹانے پرزوردیاتھا۔حکیم یاسین نے انتظامیہ کے فیصلے کو تنگ نظری سے تعبیر کیا۔
 
 

عوام کُش اور جمہورمخالف احکامات کی اجرائی ایک المیہ:حریت(ع)

سرینگر//حریت کانفرنس (ع)نے گورنر انتظامیہ کی طرف سے آئے روز کشمیری عوام کے مفادات کیخلاف احکامات جاری کرنے اور یہاں کے عوام پر روزگار کے دروازے اور وسائل بند اور محدود کرنے کے نت نئے قوانین کے نفاذ پر فکر و تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ایک بیان میں حریت نے کہا کہ 5 اگست2019 کو حکومت ہند کی طرف سے جموں وکشمیر کے حوالے سے لئے گئے یکطرفہ فیصلے کے بعد یہاں مسلسل ایسے قوانین نافذ کئے جارہے ہیں جو نہ صرف کشمیر دشمن اور عوام کش ہیں بلکہ جمہور مخالف بھی ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ مبینہ شکایتوں کے بعد درجنوں سرکاری ملازمین کی جبراً برطرفی کے بعد اب حکام کی جانب سے سنگ بازی کی آڑ میں نوجوانوں کو پاسپورٹ کی فراہمی اور سرکاری ملازمت کی سہولت سے محروم رکھنے کی پالیسی حد درجہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ کشمیری عوام یہ بات پوری شدت کے ساتھ محسوس کررہے ہیں کہ حکومت ایک منصوبے کے تحت جموں وکشمیر کے تمام طبقوں کو نشانہ بناکر ان پر معاش اور روزگار کے دروازے بند کرکے انکے مفادات پر کاری ضرب لگا رہی ہے اور اس طرح اپنے اہداف حاصل کرنا چاہتی ہے جو ایک المیہ ہے۔