پارٹی کارکن کے قتل کیخلاف سرینگر میں بھاجپا کا احتجاج انتظامیہ پر سیکورٹی کی درخواستوں کو نظر انداز کرنے کا الزام

عظمیٰ نیوزسروس

شوپیان//بی جے پی نے اتوار کو شوپیاں میں پارٹی کارکن اور سابق سرپنچ اعزاز احمد شیخ کے قتل کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا اور جموں و کشمیر سول انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ دہشت گردی کے خطرات کا سامنا کرنے والے کچھ اہم عہدیداروں کی حفاظت کی درخواستوں کو نظر انداز کر رہی ہیں۔ کے این ایس کے مطابق بھاجپا کارکنان شوپیان منی سیکرٹریٹ کے باہر جمع ہوئے اور پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو محفوظ رہائش فراہم نہ کرنے پر ضلع انتظامیہ کے خلاف نعرے لگائے۔جموں و کشمیر کے شوپیان اور اننت ناگ اضلاع میں ہفتہ کو دیر گئے دو حملوں میں اہک ہلاک اور راجستھان کا ایک سیاح جوڑا زخمی ہو گیا۔مظاہرین میں سے ایک نے کہا، ’’ہم ایک سال سے ڈپٹی کمشنر سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ ہمارے رہنماؤں اور کارکنوں کو محفوظ رہائش فراہم کریں لیکن وہ تاخیر کر رہے ہیں۔ اب ہم نے ایک کارکن کھو دیا ہے‘‘۔پارٹی کے ترجمان الطاف ٹھاکر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کسی سطح پر کوتاہی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں دہشت گردی کو دوبارہ سر اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی لیکن انتظامیہ کی طرف سے بھی کوتاہی ہوئی ہے۔ اعجازکی شہادت کی ذمہ داری ڈپٹی کمشنر پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’کچھ دیر پہلے، ہم نے ڈپٹی کمشنر کو لکھا تھا کہ اعجاز کو دھمکی آمیز کالیں موصول ہو رہی ہیں لیکن انہوں نے اسے نظر انداز کر دیا۔‘‘ ۔دریں اثنا، پڑوسیوں اور رشتہ داروں نے شوپیان کے ہیر پورہ میں شیخ کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور تعزیت کی۔شیخ کے پسماندگان میں ان کی والدہ، ان کی بیوہ شبنم کوثر اور ان کے تین بچے ہیں جن میں ایک دو ماہ کی بیٹی بھی شامل ہے۔کوثر نے کہا کہ شیخ نے علاقے کی ترقی کے لیے کام کیا اور لوگوں کو پردھان منتری آواس یوجنا اور سوچھ بھارت ابھیان جیسی اسکیموں سے آگاہ کیا۔میں اس (حملہ آور) سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ میرے شوہر نے اس کے ساتھ کیا کیا؟ کیا اس نے اس کی جائیداد لی کہ اس نے اسے قتل کیا؟ اس نے میرے تینوں بچوں کو یتیم اور مجھے بے سہارا کر دیا۔ اللہ اس کے (خاندان) کے ساتھ بھی ایسا ہی کرے۔‘‘

ملوثین کو بخشا نہیں جائیگا:رینہ، قتل انسانیت سوز، قابلِ مذمت:آزاد
عظمیٰ نیوز سروس
جموں// بھارتیہ جنتاپارٹی کے جموں وکشمیر یونٹ کے صدر رویندر رینہ نے اتوار کو کہاکہ ہر پورہ شوپیاں میں ملی ٹینٹوں نے بی جے پی کارکن کا بے دردی کے ساتھ قتل کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ دہشت گردوں نے انسانیت کو داغدار کیا اور اوپر والا بھی انہیں معاوف نہیں کرئے گا۔ رویندر رینہ نے کہاکہ ملوث دہشت گردوں کو بہت جلد کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔ ان باتوں کا اظہار موصوف نے جموں میں نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کیا۔انہوں نے کہا “ہر پورہ شوپیاں میں ہفتے کی شام دہشت گردوں نے بی جے پی کارکن اعجاز احمد شیخ کا بے رحمی سے قتل کیا اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے”۔ انہوں نے مزید بتایا کہ قتل کے اس واقعے میں جو کوئی بھی ملوث ہوگا انہیں کسی بھی صورت میں بخشا نہیں جائے گا۔ رویندر رینہ نے کہاکہ اعجاز احمد ایسا نوجوان لیڈر تھا جو غریبوں کا مسیحا تھا اور ہمیشہ اپنے آپ کو مسکینوں اور غریبوں کی مدد کے لئے پیش پیش رکھتا تھا۔ان کے مطابق دہشت گردوں نے کشمیریت کو نشانہ بنایا اور آج ایک دفعہ پھر کشمیریت کو لہولہان کیا گیا۔ بی جے پی صدر نے بتایا کہ اعجاز احمد کی ہلاکت ناقابل برداشت ہے اور ملوثین کو جلد انجام تک پہنچایا جائے گا۔انہوں نے کہا،’ہر پورہ شوپیاں میں تعمیر وترقی کے کام شروع کرنے ، غریبوں کو انصاف فراہم کرنے کی خاطرمرحوم اعجاز احمدہمیشہ پیش پیش رہتا تھا۔ ‘رویندر رینا نے کہاکہ دکھ کی اس گھڑی میں اعجاز احمد کے گھر والوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ بتادیں کہ ہفتے شام دیرگئے ہر پورہ شوپیاں میں دہشت گرد سابق سرپنچ کے گھر میں زبردستی داخل ہوئے اور اعجاز احمد پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی جس کے نتیجے میں اس کی برسر موقع ہی موت واقع ہوئی۔ادھریموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی (ڈی پی اے پی) کے صدر غلام نبی آزاد نے اتوار کو جنوبی کشمیر کے شوپیاں میں سابق سرپنچ پر دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کی اس طرح کی کارروائیاں انسانیت کے خلاف ہیں اور سب کو اس کی مذمت کرنی چاہئے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ ایسے واقعات کو سنجیدگی سے لے اور اس طرح کی تشدد کی کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے کے لیے اقدامات کرے۔ آزاد نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، “شوپیان کے ہیر پورہ میں سابق سرپنچ اعجاز احمد شیخ پر دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ تشدد کی یہ کارروائیاں انسانیت کے خلاف ہیں اور سب کو اس کی مذمت کرنی چاہئے۔ حکومت کو اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ یہ رکنا چاہیے”۔ واضح رہے کہ دہشت گردوں نے گزشتہ رات ہیرپورہ شوپیاں کے سابق سرپنچ پر گولی چلائی جو ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔