پائین شہر کی ارم حبیب کشمیرکی پہلی خاتون پائلٹ

سرینگر // ڈائون ٹائون سرینگر سے تعلق رکھنے والی 30سالہ ارم حبیب وادی کشمیر پہلی خاتون پائلٹ کے طوراپنا نام فہرست میںشامل کر نے میں کامیاب رہی ہے ۔ذرائع کے مطابق 30سالہ ارم حبیب نے شیر کشمیر زرعی یونیورسٹی سے پوسٹ گریجویشن ’’فارسٹری‘‘ مضمون میں مکمل کرنے کے بعد ڈیڑھ سال تک PH.D جاری رکھا۔تاہم ارم نے زمینوں کے بجائے آسمانوں میں اڑنے کا ایک خوبصورت خواب سجا رکھا تھا جس نے ارم کو پی ایچ ڈی ادھورا چھوڈنے پر مجبور کر کے امریکہ کے ایک فلائنگ سکول میں اپنے خواب کو پورا کر نے کے لئے داخلہ دلایا۔ 2016میں ارم نے اپنی تربیت منی امریکہ کے ایک فلائنگ سلکول سے مکمل کرنے کے بعد واپس ہندوستان لوٹنے کا فیصلہ کیا ۔جس دوران انہوں نے یہاں کمر شل لائسن حاصل کی ہے ۔ارم کا کہنا ہے انہیں260گھنٹوں ہوا بازی کا تجربہ بھی ہے جس کے بناء پر انہیں امریکہ اور کنیڈا سے کمر شل لائسنس بھی ملی ہے ۔جبکہ ارم کو بہرین اور دبئی ائر بس320کی تربیت بھی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا تربیت اور امتحانات کے دوران ہر کوئی مجھے دیکھ حیران ہوا کہ پائلٹ اور کشمیری خاتون ؟۔لیکن وہاں پر کسی بھی قسم کا بھید بھاو نہیں تھا میں نے سخت محنت کی اور نوکریوں کے لئے کئی کمپنیوں جن میں انڈی گو اور گو ائیر سے مجھے آفر ملی ۔ ارم حبیب اگلے ماہ معروف جہاز کمپنی انڈی گو میں بطور افسر جوائین کریں گی جس کے بعد وہ باضابطہ طور پر ہوائی جہاز اڑانے کا خواب پورا کر رہی ہے ۔ارم کی اس کامیابی پر مقامی لوگوںزبردست خوشی کا اظہار کر کے انہیں مبارک باد پیش کی ہے ۔