پائین شہر تیسرے روز بھی سیل

 سرینگر//پائین شہر میں تیسرے روز بھی مسلسل سخت ترین بندشیں جاری رہیں،جس کی وجہ سے عام زندگی کی رفتار تھم گئی۔نماز جمعہ کے بعد صورہ، حیدر پورہ ، پلوامہ، اننت ناگ ،حاجن اور سوپورکے علاوہ مختلف مقامات پرجلوس برآمدہو ئے جبکہ شلنگ اور ہوائی فائرنگ کے دوران20نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ا ور نصف درجن زخمی ہوئے۔
شہر کی ناکہ بندی جاری
 انتظامیہ نے شہر کے پائین علاقوں میں تیسرے روز بھی قدغنیں اور پابندیاں جاری رکھیں جس کی وجہ سے شہر کی5لاکھ نفوس پر آبادی محصور ہو کر رہ گئی۔شہر کے5تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں گزشتہ3دنوں سے غیر اعلانیہ کرفیو جاری ہے جبکہ جمعہ کو سیول لائنز کے 2پولیس تھانوں مائسمہ اور کراکہ کھڈ میں بھی بندشیں عائد کی گئیں۔ خانیار،مہاراج گنج،نوہٹہ،صفاکدل اور رعناواری میں بدھ سے اس وقت بندشیں عائد کی گئیں جب شہر کے پاندان علاقے سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان بڈگام کے رڑبگ میں فورسز کے ساتھ ایک خونین جھڑپ میں جان بحق ہوا۔ادھر سجاد احمد گلکار نامی نوجوان کے اہل خانہ نے بتایا کہ فورسز اور پولیس نے تعزیت پرسی کرنے والوں کو بھی انکے گھر آنے کی اجازت نہیں دی جبکہ  فاتحہ خوانی میں بھی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔شہر خاص کے درجنوں علاقوں کو خار دار تاروں سے سیل کیا گیا تھا ۔یہاں گلی کوچوں میں فورسز اہلکاروں کی تعیناتی عمل میںلائی گئی جبکہ فورسز کی گاڑیاں گشت کرتی ہوئی نظر آئیں ۔شہر خاص میں پابندیوں اور بندشوں کے نتیجے میں دکانیں اور بازار بند رہے جسکی وجہ سے یہاں ہو کا عالم رہا جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں سے غائب رہا ،تاہم چند ایک روٹوں پر نجی گاڑیاں چلتی ہوئی دیکھی گئیں ۔پائین شہر میں ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر جگہ جگہ سیکورٹی فورسز نے ناکے لگائے تھے۔اس دوران سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق ،محمد یاسین ملک ،شبیر احمد شاہ ،محمد اشرف صحرائی سمیت بیشتر مزاحمتی لیڈران کو احتجاجی مظاہروں کی قیادت سے روکنے کیلئے نظر بندی جاری رہی ۔
احتجاج
جمعہ کو بھی کئی جگہوں پر نماز کے بعد احتجاجی جلوسوں کا تسلسل جاری رہا۔ نظر بندوں کی رہائی اور سید علی گیلانی کی نظربندی کے خلاف حیدرپورہ میں نماز جمعہ کے بعد ایک بڑا جلوس نکالا گیا، جس کی قیادت تحریک حریت رہنمابشیر احمد قریشی کررہے تھے۔ احتجاجی جلوس میں جن دیگر لیڈروں اور کارکنوں نے شرکت کی ان میں عبدالحمید ماگرے، عمر عادل ڈار، رمیز راجہ، نثار احمد، ظہور احمد بیگ، مظفر احمد اور عبدالاحد میر شامل ہیں۔ اس موقعے پر لوگوں نے نعرے بُلند کئے اور گیلانی سمیت تمام سیاسی قیدیوں اور نوجوانوں کی فوری رہائی پر زور دیا گیا ۔صورہ سرینگر متصل ہائر اسکنڈر ی سکول میں فورسز اور مظا ہرین کے درمیان جھڑ پیں ہو ئیں۔ پولیس نے پتھرا ئو کے جواب میں پتھرپھینکے اور تعا قب کرکے نوجوانوں کو بھگانے کی کوشش کی تاہم تا دم تحریر جھڑپیں جاری تھیں۔ پلوامہ میں گزشتہ روز ایک نوجوان کو احتجاج کے دوران گولی مار کر زخمی کرنے کے خلاف قصبہ میں ہڑتال رہی اور دکانیں اور کاروباری ادارے بالکل بند رہے۔نامہ نگار شوکت ڈار کے مطابق پلوامہ کے چاٹہ پورہ میں بعد نمازجمعہ  تشدد بھی بھڑک اٹھا ۔ نماز جمعہ کے بعد نوجوان جمع ہوئے اور احتجاج کیا،جبکہ فورسز اور پولیس کے ساتھ آمنا سامنا ہونے کے بعد طرفین میں سنگبازی وجوابی سنگبازی کا سلسلہ شروع ہوا۔ مقامی لوگوں کے مطابق فورسز اور پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس کے گولے بھی داغے۔ اس دوران اہلکاروں کی کاروائی میں5نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا۔ اگر چہ نوجوانوں نے پولیس اور فورسز کی چنگل سے حراست میں لئے نوجوانوں کو بچانے کی کوشش کی تاہم اہلکاروں نے ہوا میں گولیوں کے کئی رائونڈ چلائے۔ ٹہاب پلوامہ میں نماز جمعہ کے بعد جلوس نکالا گیا۔ مرکزی جا مع مسجد اسلام آباد (اننت ناگ)سے بعد نمازجمعہ نوجوانوں نے احتجاجی مارچ کر کے لالچوک کی جانب پیش قدمی کی ،جس دوران یہاں تعینات فورسز اہلکاروں نے اُن کا راستہ رو کا ۔نامہ نگار ملک عبدالسلام کے مطابق نماز جمعہ کے بعد ریشی بازار سے جامع مسجد سے ایک جلوس برآمد ہوا،جس اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کر رہے تھے۔اس دوران جب فورسز اور پولیس کے ساتھ مظاہرین کا آمنا سامنا ہوا تو جھڑپیں شروع ہوئیں،جو ملکھ ناگ تک پھیل گئیں۔ اس موقعہ پر اہلکاروں نے ٹیر گیس کے گولے داغے اور جب نوجوان جامع مسجد میں چھپ گئے تو فورسز اور پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے جامع مسجد کے اندر سے14نوجوانوں کو حراست میں لیا۔مقامی لوگوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایک نوجوان کو جامع مسجد کی چھت سے دھکا دیا گیا،جس کی وجہ سے وہ زخمی ہوا،تاہم سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہ ہوسکیں۔ادھر چینی چوک اور شیر باغ میں بھی سنگبازی ہوئی اور فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں4افراد زخمی ہوئے۔ اس صورتحال کے پیش نظر4بجے کے بعد قصبہ میں ہڑتال ہوئی،اور تمام کاروباری ادارے اور تجارتی مرکز بند ہوئے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کے نقل و حمل میں بھی اثر پڑا۔حاجن بانڈی پورہ میں نماز جمعہ کے بعد فورسز اور مظا ہر ین کے درمیان جھڑ پیں ہو ئیں۔نامہ نگار عازم جان کے مطابق نماز جمعہ کے بعد حاجن کی جامع مسجد سے جلوس برآمد ہوا اور گڈ ول اسکول تک مارچ کیا۔عینی شاہدین نے بتایا کہ نوجوانوں نے آرمی گڈ ول اسکول پر پتھرائو کیا،جبکہ فورسز  نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اکا دکا ٹیر گیس کے گولے داغے۔ادھربڈگام کے نارہ بل علاقے میں نماز جمعہ کے بعد احتجاج ہوا جس کے دوران نوجوانوں نے اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی ہوئی۔ فورسز اور پولیس کے ساتھ آمنا سامنا ہونے کے بعد جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا جس کے دوران طرفین میں سنگبازی ہوئی۔اس دوران فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس گولوں کا استعمال کیا جبکہ طرفین کے درمیان جھڑپوں میں کئی پولیس اہلکاروں سمیت10افراد زخمی ہوئے۔بعد میں گھاٹ نارہ بل میں بھی احتجاج کے دوران سنگبازی وجوابی سنگبازی کا سلسلہ شروع ہوا جو شام تک جاری رہا۔