پائیدار زراعت سے متعلق منصوبہ | نوین چودھری کا سکیم کی عمل آوری میں سرعت لانے پر زور

جموں//پائیدار زراعت سے متعلق منصوبوں کا جائزہ لینے کیلئے پرنسپل سیکرٹری زرعی پیداوار و بہبودی کسان نوین کمار چودھری کی صدارت میں ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں کنڈی علاقوں میں کلائمیٹ ریزیلنٹ سسٹینبل ایگریکلچر سکیم کی عمل آوری کا جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں چیف جنرل منیجر نبارڈ آر کے سریواستو ، ڈائریکٹر ایکولاجن ، ماحولیات اور ریموٹ سنسنگ نیلو گیرا، سپیشل سیکرٹری جنگلات امیت شرما،ڈائریکٹر زراعت جموں اندرجیت ،ڈائریکٹر زراعت کشمیر منظور احمد قادری، ڈپٹی جنرل منیجرنبارڈ انامیکا اور جنگلات ، زراعت محکموں اورنبارڈ کے دیگر افسران نے شرکت کی۔پرنسپل سیکریٹری نے افسروں کو سکیم کی عمل آوری میں سرعت لانے کے لئے کہا تاکہ اس کے فوائد مستحق آبادی تک پہنچ سکیں۔ اُنہوں نے افسروں کو پشو پالن محکمہ کو بھی سکیم میں شامل کرنے کے لئے کہا تاکہ سکیم کے دیگر عناصر کی بھی عمل آوری یقینی بن سکے۔ اُنہوں نے نبارڈ اور محکمہ زراعت کو ہر ماہ تمام متعلقین کی میٹنگ منعقد کرکے تمام رُکاوٹ کو دور کرنے کی ہدایت دی۔انہوں نے تمام محکموں کے اعلیٰ افسروں کی ایک ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت دی اور کسی بھی خامی کو دور کرنے کے لئے مشترکہ طور معائینے کرنے کے لئے کہا۔انہوں نے پروجیکٹ کے تحت اب تک حصولیابیوں کو سراہاجس میں یوٹی میں فصلوں کی حساسیت کا تجزیہ کرنا ، مربوط کاشتکاری نظام اختیار کرنا ،کنڈی علاقوں میں پانی کے منصفانہ استعمال سے آبپاشی پانی کومحفوظ کرنے میں بہتر ی لانا، کلائمنٹ ریزیزلمنٹ پائیدار زرعی طریقہ ٔکار سے متعلق کسانوں کی کپسٹی بلڈنگ وغیرہ شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پروجیکٹ کے باقی ماندہ عنصروں کو بروقت مکمل کرنے کے لئے کوششوں میں بہتری لانے کی ضرورت ہے ۔سی جی ایم نبارڈ نے کلائمنٹ ریزیزلمنٹ پائیدار طریقہ کار اختیار کرنے پرزور دیتے ہوئے کہا کہ اِس ضمن میں یوٹی کے لئے مختص کی گئی رقم کو پوری طور استعمال کیا جانا چاہیئے تاکہ بہتر نتائج سامنے آسکے۔میٹنگ میں مزید بتایا گیا کہ سکیم لاگو کی جارہی ہے ۔ جموںضلع میںبلوال بلاک اور بڈگام ضلع کے بڈگام بلاک میں پروجیکٹ پر عمل آوری ہو رہی ہے ۔ محکمہ جنگلات و ماحولیات پروجیکٹ کے لئے نوڈل ایجنسی مقرر کی گئی جبکہ محکمہ زراعت اس کی عمل آوری کر رہا ہے۔میٹنگ میں مزید بتایا گیا کہ پروجیکٹ 222.6کروڑ روپے کا ہے جس میں حساسیت کے تجزیہ کے لئے 1.31کروڑ روپے، مربوط کاشتکاری نظام کو اختیار کرنے کے لئے 6.8کرڑ رو پے، مربوط تغذیہ اور جرثوموں سے بچائو کے لئے 4.85کروڑ روپے، پانی کے تحفظ میں بہتری لانے کے لئے 8.16کروڑ روپے ، کسانوں کی کپسٹی بڈنگ کے لئے 0.82کروڑ روپے شامل ہیں۔پروجیکٹ میں پروگروم کی عمل آوری کے لئے بھی 0.64کروڑ روپے پروجیکٹ سائیکل منیجمنٹ فیس 0.65کروڑ روپے بھی شامل ہیں۔نیشنل اڈپٹیشن فنڈ پر کلائمنٹ چینج این اے ایف سی سی اگست 2005ء میں قائم ہوا تھا تاکہ بھارت کے ریاستوں اور یونین ٹریٹریوں میں موسمیاتی تبدیلیوںکے ساتھ موافقت اختیار کرنے کے اخراجات دستیاب رہ سکیںبالخصوص اُن علاقوں کے لئے جہاں موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات زیادہ امکان ہے ۔بعدمیں نوین کمار چودھری نے جے اینڈ کے سٹیٹ کواپریٹیو بینک اور تین ڈسٹرکٹ سینٹرل کواپریٹیو بینکوں کی مالی صحت کا جائزہ لیا ۔انہوں نے بینکوں کو اپنے کام کاج میں بہتری لاکر موثر طور گاہکوں کی خدمات کرنے کے لئے کہا۔ انہوں نے کواپریٹیو بینک ملازمین کو یوٹی میں پی اے سی ایس کا سروے کرنے کے لئے کہا تاکہ کار آمد اور ممکن پی اے سی ایس کی نشاند ہی کی جاسکے۔