ٹیکنکل بورڑ کی ناقص کارکردگی سے لخت جگرکھونے والے باپ کی فریاد کون سنے ؟

سرینگر// عالمی یوم پدر پر2سال قبل محکمہ فنی تعلیم کی غفلت شعاری سے بھینٹ چڑے نوجوان عدنان ہلال کے والد نے تکنیکی تعلیم اور جوابی پرچوں کی جانچ پرمامور لکچراروں کی قابلیت کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ دنیا بھر میں جون کی دوسری اتوار کو عالمی یوم پدر منایا جاتا ہے،تاہم امریکہ میں یہ دن جون کی تیسری اتوار کو منایا جاتا ہے۔وادی میں بالخصوص یوم پدر کی اپنی اہمیت ہیں،کیونکہ گزشتہ 27 برسوں کے دوران سینکڑوں والدین نے اپنے معصوموں کے جنازوں کو کندھا دیاہے۔مرجھائے چہرے،خشک آنکھیں اورجھکی ہوئی کمر ازخود اپنی داستان اور رودار بیان کرتی ہیں۔مہلک و غیر مہلک ہتھیاروں سے مرنے والے نوجوانوں کی فہرست اگرچہ طویل ہے تاہم ایسے والدین کی دنیا بھی اجڑ گئی،جن کے لخت جگر حصول تعلیم کی بھینٹ چڑ گئے۔ہلال احمد نامی حیدپورہ کے ایک والد کو 2سال قبل18جون کی وہ غضب ناک شام اور ماتمی سیاہ رات کھبی بھول نہیں پائے گی جب اس کے لخت جگرمحمد عدنان کی شمع حیات گُل ہوگئی۔ 18جون 2015جمعرات تھی اور بورڑ آف ٹیکنکل ایجوکیشن نے اپنی ویب سائٹ پرڈپلوما اِن الیکٹرک انجینئرنگ کے پہلے سمسٹر کے نتائج ظاہر کئے۔ نتائج منظر عام آنے کے ساتھ ہی متعلقہ طالب علموں نے اپنی کارکردگی کو دیکھنا شروع کیا۔ عدنان کے والد کا کہنا ہے کہ ہمارا لخت جگر محمد عدنان اِن ہی طالب علموں میں سے ایک تھا جو کشمیر گورنمنٹ پالی ٹیکنک سرینگر کا فسٹ اِئر طالب علم تھا اور اُس کے نتائج بھی ویب سائٹ پر ظاہر کئے گئے مگر ٹیکنکل بورڑ کی مبینہ ناقص پالسیوں اور کارکردگی کی بنا پر محمد عدنان جیسے ہونہار طالب علم کی امتیازی کامیابی پر پانی پھیر کر اُنہیں فزیکس پرچے میں ناکام دکھایا۔اس دوران یہ نتائج محمد عدنان برداشت نہ کرسکااور اس قدر ٹوٹ گیا کہ اُس نے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔محمد عدنان کا والد ہلال احمد گزشتہ2برسوں سے محکمہ فنی تعلیم کے خلاف علم بلند کئے ہوئے ہے اور ان کے ناکردہ گناہوں  سے لٹے گلستان کیلئے انصاف کی دہائی دے رہے ہیں،تاہم انکی آواز صدا بہ صحرا ثابت ہو رہی ہے۔ہلال احمد کا کہنا ہے’’ہمارے لخت جگر کے غیر دانستہ قتل کے سلسلے میں اگرچہ موجودہ ٹیکنیکل بورڑ کے وزیر نے تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دی اور پریس کانفرنس میں ٹیکنیکل بورڑ کی غفلت شعاری غلط پالسیوں اور نا اہل منتظمین کو ہمارے لخت جگر محمد عدنان کا غیر دانستہ قاتل گردانا اور انصاف دلانے کا یقین دلایا گیا مگر دو سال گزرنے کے باوجود بھی انصاف نہیں ملا‘‘۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں پوچھاتحقیقاتی کمیٹی کی وہ رپورٹ کہاں گئی جس میں محمد عدنان کے اپلائڈ فزیکس پرچے کے ’’ایوالویٹر‘‘  لیکچرر کو ناقص عضو قرار دے کر اُسے نوکری سے برطرف کرنے کی سفارش کی گئی تھی ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ جس لیکچرر نے محمد عدنان کے اپلائڈ فیزیکس پرچے کو ’’ایوالویٹ‘‘ کیا تھا، اُسے بالواسطہ یا بلا واسطہ پالیٹیکنک کالج کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھابلکہ اُسے یہ کام سونپا گیا تھا۔ ریاست میں تقریباً22 گورنمنٹ پالیٹیکنک کالج اور 8 پرائیویٹ پالیٹیکنک کالج سرگرم عمل ہیں اور ہر کالج میں اپلائڈ فزیکس پڑھانے کے لئے اساتذہ تعینات ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری فریاد یہی ہے کہ محمد عدنان کی موت کے ذمہ دار ٹیکنیکل بورڑ کے تینوں افسران اور قانونی طور غیر وابستہ نااہل لیکچرر کو دو سال گزرنے کے باوجود بھی سزا کیوں نہیں دی گئی اور سماج میں ایسی اموات ہونے پر ایک طرف سے سرکار اور دوسری طرف سے منتظمین خاموش تماشائی کیوں بنے ہوئے ہیں۔ہلال احمد نے کہا’’ ہم مظلوم والدین وادی کی سول سوسائٹی کے ذمہ داراں اور انسانی حقوق کی پیروی کرنے والے اداروں اور شخصیات کے دوازوں کو دستک دے کر یہ فریاد کر رہے ہیں کہ اب آپ ہی اس المناک واقعہ کا سنجیدہ نوٹس لے کر ہمیں انصاف دلائیں ‘‘۔