ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال کیسے کریں؟ فکر انگیز

مولانا امیر حمزہ مصباحی

ٹیکنالوجی کے انقلاب نے انسانوں کو ایک ایسے معاشرے کا خواب دکھایا تھا جس میں فرد کی آزادی کا تحفظ ممکن ہو سکے، جہاں انسانوں کی فلاح و بہبود کی راہیں ہموار ہو سکیں، لیکن بہتر سماج کا یہ خواب اب تک محض خواب ہی ہے۔
اسلام ہمیں باحیا اور پاکیزہ زندگی گزارنے کا درس دیتا ہے لیکن سوشل میڈیا پر ہماری نوجوان نسل غلط روی کا شکار ہو کر نہ صرف دنیا بلکہ اپنی آخرت اور اپنے ایمان کو بھی برباد کر رہی ہے، انسانی زندگی کی ہر ساعت بہت قیمتی ہوتی ہے لیکن ہم اکثر اپنا زیادہ تر وقت انٹرنیٹ پر غیر ضروری کاموں میں صرف کر دیتے ہیں موبائل فون نے جتنی تیزی کے ساتھ ترقی کی ہے اور جس طرح یہ ہر کسی کے استعمال میں آیا ہے ایسا ریکارڈ کسی ایجاد کا نہیں ہے –۔
جدید ٹیکنالوجی جہاں ہمارے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے ،وہیں اس کے نقصانات بھی خطرناک ہیں ۔اس نے ہمیں بہت سی لا یعنی فکروں میں مبتلا کر دیا ہے، اس کے استعمال نے معاشرے میں بڑی خرابیاں پیدا کر دی ہیں، اس کے زیادہ استعمال سے ہم جسمانی طور پر تو سماج میں رہتے ہیں، اپنوں کے ساتھ ھوتے ہیں، لیکن اگر دیکھا جائے تو اس نے ہمیں اپنوں کے ساتھ ہوتے ہوے بھی ذہنی طور پر سب سے جدا کر دیا ہے۔ ایسے مسائل جن کے بارے میں پہلے سوچا بھی نہیں جاتا تھا، آج وہ ہر دن کے اخبار کی ہیڈ لائن ہوتے ہیں ۔بے حیائی اور فحاشی بالکل نہیں کے برابر تھی، لیکن ٹیکنالوجی نے تو اب انسانوں کے ضمیر کو اتنا مردہ کر دیا ہے کہ انسان ان برائیوں کو برائی بھی نہیں گمان کرتا۔ انسان ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس قدر مستغرق ہو چکا ہے کہ اخلاقیات، محبت،شفقت،ادب اور احترام انسانیت سب بھول کر صرف مشین بن کر رہ گیا ہےـ۔
ایک فرد اپنی ذات سے جس قدر واقف ہوتا ہے، یہ کمپنیاں اس سے اس کی دلچسپیوں پسند و ناپسند سے واقف ہوتی ہیں، مثال کے طور پر سوشل میڈیا کی فریب کاریوں کی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیں:
یوٹیوب کے اس وقت تقریبا 5.2 بلین صارفین ہیں ،جو ایک دن میں اوسطا ًایک گھنٹہ ویڈیوز دیکھتے ہیں، حیرت انگیز انکشاف یہ ہے کہ 70 فی صد ویڈیو یوٹیوب کی جانب سے مجوزہ مواد ہوتا ہے، ایک فرد اس زعم میں مبتلا ہوتا ہے کہ مجھے اختیار کی پوری آزادی حاصل ہے تاہم حقیقت اس کے برخلاف ہے، آٹو پلے بٹن کے پیچھے تصور ہی یہ ہے کہ آپ کے سوچنے سے پہلے آپ کی دلچسپی سے مطابقت رکھنے والے ویڈیوز کا سلسلہ چلتا رہے،اس حد تک کہ ان کا استعمال لت کی شکل اختیار کر جائے، یہ تمام کوششیں فرد کی زیادہ سے زیادہ توجہ حاصل کرنے کے لیے ہیں۔سوشل میڈیا کا لامحدود استعمال انسانی رویوں میں بڑے منفی اثرات مرتب کرتا ہے، ہر لمحہ مختلف و متضاد خبریں ہر لمحہ ہم تک پہنچ رہی ہوتی ہیں۔ ایک آن ہم خوشی کا اظہار کرتے ہیں تو اس کے فورا بعد کسی غمگین خبر سے سابقہ پڑتا ہے، اس کے بعد کسی کی سالگرہ منائی جا رہی ہوتی ہے،اگلی پوسٹ میں کوئی لطیفہ نظر سے گذرتا ہے، پھر اگلے ہی لمحہ میں ہم خود کو کسی فلسفیانہ جملہ پر غور کرتا ہوا پاتے ہیں۔ ان تیزی سے بدلتے ہوئے احساسات و جذبات کا انسانی نفسیات پر گہرا اثر ہوتا ہے۔
اور یہ اثر اس طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ طالب علم کے اندر کسی ایک چیز پر توجہ مرکوز رکھنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے، اس کمی کی وجہ سے دیر تک کتابوں کا مطالعہ کرنا ممکن نہیں رہتا، انسان کا ذہن ہر آن نئے مواد کی تلاش میں رہتا ہے ،ایک موضوع پر دیر تک غور و فکر کرنا مشکل ترین عمل بن جاتا ہے۔
ابھی چند مہینہ پہلے واٹس ایپ نے اپنے قوانین میں کچھ تبدیلی کرنے کا اعلان کیا۔یہ تبدیلی ایسی تھی جس کی وجہ سے یوزر کی پرائیویسی کو خطرہ لاحق ہو گیا، جس کے نتیجہ میں لوگ واٹس ایپ کی جگہ دوسرا پلیٹ فارم تلاش کرنے لگے، جہاں ان کی پرائیویسی محفوظ ہو۔ لیکن کیا ایک پلیٹ فارم سے دوسرے پلیٹ فارم کی طرف منتقلی اس مسئلہ کا مستقل حل ہے؟ میرا جواب ہے نہیں۔ کیوں کہ کوئی بھی پلیٹ فارم ایسا نہیں ہے، جس پر صد فیصد اعتماد کیا جائے، صورت حال یہ ہے کہ انسان کسی نہ کسی درجہ میں روبوٹ کی حیثیت کرتا چلا جا رہا ہے، جس کی چابی ان افراد کے ہاتھوں میں ہے جو ٹیکنالوجی اور اس میں موجود ڈیٹا محفوظ رکھتے ہیں۔اس لیے ضرورت ہے کہ محض ایک پلیٹ فارم سے دوسرے پلیٹ فارم کی طرف منتقلی کی فکر سے آگے بڑھ کر ٹیکنالوجی کے متعلق تنقیدی مطالعہ کی جانب توجہ مبذول کی جائے اور ٹیکنالوجی کے فلسفہ کو سمجھنے کی کوشش کی جائے، انسانیت، آدمیت اور آزادی فرد جیسے بنیادی سوالات کو موضوع بحث بنایا جائے۔
[email protected]