ٹیپوسلطان ؒ

 نوٹ  یہ مضمون ۱۸؍ ویں صدی کے مشہور حکمران اور تاریخ ساز شخصیت ٹیپو سلطان (ملقب بہ شیر میسور) کی ۴ ؍مئی کی برسی کے سلسلے میںپیش کیا جارہا ہے۔  
تاریخ شاہد عادل ہے کہ شیر میسور ٹیپو سلطان ایک نرم دل ، عدل پرور، حامی ٔمساوات ، مذہبی رواداری کے علمبردار اور بار بار معاف کردینے والے بادشاہ تھے۔وہ ایک ایماندار اور روشن خیال حکمران تھے جنھوں نے اپنے دورِ حکومت میں نہ صرف بین المذاہب رواداری کو باقی رکھا بلکہ اس کی جڑوں کو مستحکم کرتے ہوئے ہندووٴں کو اعلی عہدوں پر فائز بھی کیا،ان کی حکمرانی میں وزیراعظم،پیش کار،علاقائی نگران اور خزانچی جیسے بڑے عہدے غیرمسلموں کے پاس ہی تھے۔پونیا پنڈت ٹیپو کے وزیر اعظم تھے ،کرشنا راؤ خزانچی تھا۔شامیا اینگر نامی شخص اُن کا وزیر برائے پوسٹ و پولیس تھا،اسی طرح متعدد ہندووٴں کو انھوں نے مختلف ڈپلومیسی مشن کے لیے مامور کررکھا تھا اور ایک برہمن کو تو انھوں نےمالا بار علاقہ کی پوری ذمہ داری دے رکھی تھی۔ انھیں اپنی عبادت کے لیے مکمل آزادی دی، غیرمسلموں کی اپنے مذہبی پروگرام کے انعقاد پر حوصلہ افزائی بھی کرتے تاکہ ہماری مذہبی رواداری اور مشترکہ تہذیب باقی رہے اور انگریزی ثقافت اس پر حاوی نہ ہونے پائے ۔تاریخی حوالے سے یہ بات ثابت ہے کہ ٹیپوسلطان سرنگیری،کولور،میلکوٹ جیسے سینکڑوں مندروں اور اہم مٹھوں کو امداد بھیجتے تھے، وہ سلطنت ِ خداداد میں واقع مندروں کی سرپرستی بھی کرتے تھے بلکہ ایک موقع پرتو مندر کی تعمیر کاحکم بھی دیا تھا۔ سرنگیری مٹھ پر جب مراٹھیوں نے حملہ کیا اور اسے لوٹ لیا تو ٹیپو ہی نے اس کی باز آباد کاری کرائی۔ یہ تاریخ کی عجب ستم ظریفی ہے کہ آج مراٹھی اور ان کے لیڈر شیواجی کو ملک کی تاریخ میں ایک ’’ہیرو‘‘کا مقام حاصل ہے اور ٹیپو کو ایک مخصوص مذہب کا نمائندہ بادشاہ بتا کر انھیں جابر اور سفاک بتایا جارہا ہے۔ٹیپو کے تعلق سے اس طرح کے دیگرتاریخی حقائق کا تذکرہ تاریخ نویس محب الحسن نے اپنی انگریزی کتاب’ ’ہسٹری آف ٹیپو سلطان‘‘ میں مختلف اور معتبر مصادر کی مراجعت کے ساتھ کیا ہے ۔ اسی کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ۱۹۱۶میں میسور کے محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹرراوٴ بہادرکو سرنگیری مندر میں ٹیپو کے خطوط کا ایک مجموعہ ہاتھ لگا جو دراصل ہندووٴں کے تئیں ٹیپوسلطان کی مدارات اور مذہبی رواداری کے سینکڑوں واقعات کی دستاویزکی حیثیت رکھتا تھا۔ اگر فرقہ پرستی کے عینک کو اُتار کر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو تاریخ کی دیگر کتابوں میں بھی یہ حقائق حرف جلی کے ساتھ نظر آتے ہیں جیسا کہ ان کی جانب جسٹس کاٹجو نے بھی کبھی اشارہ کیا تھا ۔ سچائی یہ بھی ہے کہ کہ بعض مواقع پر انھوں نے ریاستی ہدایات کی حکم عدولی کی پاداش میں دی جانے والی سزا ؤں میں مسلمانوں اور ہندووٴں کے درمیان کوئی امیتاز نہیں برتا۔ٹیپو کی سب سے نمایاں خوبی یہ تھی کہ وہ ملکی مفاد میں بنائے جانے والی حکومتی پالیسیوں میں کبھی بھی مذہبی عقائد کواثر انداز نہیں ہونے دیتے تھے۔اگر بالفرض محال وہ مذہبی بھید بھاؤ کر تے تو برطانوی سامراج جیسی طاقت سے لوہا لینے کی بجائے وہ آپسی انتشار کے دلدل میں پھنس جاتے اور اس سے ٹیپو کی انگریزوں کے خلاف اَن تھک اور جان گسل معرکہ آرائی کمزور پڑجاتی اور ایسٹ انڈیا کمپنی کو ملک سے کھدیڑنے کی جد وجہد ماند پر جاتی ۔ ٹیپو یقیناایک مسلم بادشاہ تھے لیکن مذہب کو انھو ں نے اپنی بادشاہت سے جدا رکھا اور رعایا کے ساتھ مذہبی رواداری اور عقائد کی آزادی کا برتاوٴ کیا۔تاریخ کا ایک ایک ورق اس پر گواہ ہے۔ٹیپو کی مملکت میں مذہبی پالیسی کا تاریخی تجزیہ کرتے ہوئےیہ امر نہیں بھولا جانا چاہیے کہ اُن کی مملکت میں تبدیلی ٴ مذہب کے بعض واقعات برضا ورغبت بھی پیش آتے تھے۔ مثلًا کُرگ کے لیڈر رنگا نایر جیسے متعدد لوگوں نے ٹیپو سلطان کی سخاوت ،انسانیت دوستی اور بلندیٴ اخلاق سے متاثر ہوکر مذہب ِاسلام کواپنایا تھا،وہیں کچھ ایسے بھی تھے جو سلطان کی قربت اور ان کی چاپلوسی کے لیے بھی ایسا کرتے تھے،تاہم ٹیپو نے بلا وجہ جبراً تبدیلی ٴمذاہب کروانے کے قطعی قائل نہ تھے جیسا کہ آج کے فرقہ پرست کوئی ٹھوس تاریخی ثبوت پیش کئے بغیر تعصب اور ووٹ بنک سیاست کے پیش نظر کر تے رہتے ہیں۔ اس بارے میں ہم نہ تو عیسائیوں کی تصنیف کردہ نام نہادتواریخی کتابوں پراعتماد کرسکتے ہیں اور نہ ہی ناگپوری فکر کے حامل آج کے تاریخ نویسوں کو لائق ِاعتماد تسلیم کر سکتے ہیں۔ تاریخی سچائی یہ ہے کہ میسور کے حیدر علی کے بیٹے اور مملکت خداداد کے اس سلطان کا شمار ہندوستان کے اُن چند حکمرانوں میں ہوتا ہے جنھوں نے ملک کی آزادی کے لیے برطانوی سامراج کے خلاف کئی کامیاب جنگیں لڑیں ۔جس زمانے میں بنگال اور شمالی ہند میں برطانوی سامراج اپنے مقبوضات میں مسلسل اضافہ کررہے تھے،اُسی دور میں جنوبی ہند میں دو ایسے مجاہد بادشاہ پیدا ہوئے جن کے نام تاریخ کے اوراق میں سنہرے حروف میں ثبت ہیں ۔یہ دو نام حیدر علی اور ٹیپو سلطان ہیں۔پورے ملک میں انگریزوں کو اگر کہیں سخت مقابلہ کا سامنا کرنا پڑا اور اُن کے جارحانہ قدم کہیں رُک پائے تو وہ سلطنت خداداد ہی کا حصہ تھا جس کے روحِ رواں ٹیپو سلطان تھے۔ میسور کے اس بہادر بادشاہ نے انگریزوں کے دانت کھٹے کردئے ۔ اس تاریخی جملہ کے ساتھ کہ’ ’شیرکی ایک دن کی زندگی، گیڈر کی سوسالہ زندگی سے بہتر ہے‘‘ مملکت میسور اور انگریزوں کے مابین۱۷۹۹/کی طویل اور مشہور جنگ کے دوران سرنگاپٹم میں شہادت پائی۔ ٹیپو کا یہ پیغام ان کے ہم وطنوں کے دلوں میں انگریز کی غلامی سے نفرت اور آزادی کا شیدائی بنادیا جو بعد میں جدو جہد آزادیٔ ہند کے ثمر آور کوشش پر منتج ہوا۔ اس طرح ہم ٹیپو کو تحریک ِ آزادی کا نقطہ آغاز کہہ سکتے ہیں۔ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد ہی انگریزی فوج کے قائد جنرل جارج ہیرس نے کہہ دیا تھا کہ اب ہندوستان میر اہے کہ ’ ’ میں نے ہندوستان فتح کرلیا‘‘۔جنرل کا یہ قول بتاتا ہے کہ برطانوی سامراج کی نظر میں ٹیپو سب سے اس کے لئے بڑا خطرہ تھے اور ہندوستان پر قبضہ اورحکمرانی کے لیے ان کی شہادت کتنی اہم تھی۔آج اپنی ملک دوستی اور دیش بھکتی کے ہزاروں دعوؤں کے باوجود تاریخ کا کڑوا سچ یہ ہے کہ سنگھ پریوارنے ہمیشہ برطانوی سامراج کی وفاداری نبھائی،ان کا کوئی بھی لیڈر انگریزوں کے خلاف کبھی نبرد آزما نہ ہوا۔۱۹۲۱میں گاندھی کی عدم تعاون کی تحریک ہو یا پھر۱۹۴۲میںبھارت چھوڑو آندولن یا اس جیسی دیگر تحریکیں، سنگھیوں کا رویہ ہمیشہ انگریزوں کے تئیں وفاداری اور وہ سوتنتر سیناینوں کے خلاف اُن کی مخبری کر تےر ہے۔لہٰذا یہ ملک ٹیپوسلطان جیسے محب وطن اور وسیع القلب جیالوں کا وطن ہے ۔
ٹیپو سلطان ایک ممتاز سپہ سالار کے علاوہ ایک اچھے مصلح بھی تھے۔وہ تعلیم یافتہ اور ایک دین دار انسان تھے، ان کی دین داری کا حال یہ تھا کہ ہمیشہ باوضو رہتے اور قرآن مجید کی تلاوت اُن کا خاص مشغلہ تھا۔ملک دوستی اور انسانیت نوازی اُن کے رگ وپے میں پیوست تھی۔ انھوں نے جنوبی ہندوستان میں ایک ایسے نظام ِ حکومت کی بنیاد رکھی اورایک ایسی سلطنت قائم کی جو ملک اور بیرون ِ ملک کے لیے اپنی مثال آپ تھی۔انھوں نے بلا تفریق ِ مذہب وملت رعایا کو خوشحال بنانے کے لیے جو فلاحی منصوبے تیار کئے،بعد میں آنے والے حکمراں ایسے منصوبے تو کیا بناتے ،اُن پر عمل آوری بھی نہ کراسکے۔عام انسانوں کے ہمدرد اور شرافت ومساوات کے حامل ٹیپو سلطان نے سب سے زیادہ توجہ کسانوں کے مسائل پر دی۔جو حکمران طبقہ آج ’’سب کا ساتھ،سب کا وکاس‘‘ نعرہ د ے رہا ہے ۔وہ اس کے علی الرغم سب سے زیادہ وناش کاری ثابت ہو رہاہے اور ملک کی ا قلیتوں اور کمزوروں کو دبا رہاہے۔موٴرخین کے خیال میں کسانوں کے حق میں اٹھا یا جانے والاایسا انقلابی قدم آج تک ملکی تاریخ کی آنکھوں نے نہیں دیکھا۔جاگیرداری کو ختم کرکے اراضی کی اصلاحات پر جو کام ٹیپو کے دور میں ہوئے ان سے نہ صرف صدیوں بے کار پڑیں زمینیں قابلِ کاشت ہوگئیں بلکہ اس سے کروڑوں کاشت کاروں کی اقتصادی حالت بہتر ہوئی اور ملک نے ترقی کی نئی راہیں پائیں ۔ اسی عہد میں ریاست میں پہلی مرتبہ مالیاتی ادارے یعنی بنک قائم کئے گئے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب تک ٹیپوسلطان بر سر ِ اقتدار رہے،انھوں نے ملک میں کوئی چیز باہر سے نہ آنے دی،یہاں تک کہ نمک بھی اندرون ِ ملک ہی تیار ہونے لگا۔اسی طرح اسلحہ سازی سے لے کر کپڑے،برتنوں کی تیاری،لکڑی کے سامان،ریشمی مصنوعات اور لوہے وغیرہ کی صنعت میں ریاست ِ میسور نہ صرف خودکفیل ہوگئی بلکہ بہت سارے سامان برآمدبھی کرنے لگی۔انہوں نے اپنی ریاست میں کئی معاشرتی اور اقتصادی اصلاحات کیں جن سے پوری ریاست خوشحال بن گئی۔ ریاست میسور کی خوشحالی کا اعتراف اس زمانے کے ایک انگریز نے ان الفاظ میں کیا ہے’ ’ میسور ہندوستان میں سب سے سرسبز علاقہ ہے،یہاں ٹیپو کی حکمرانی ہے،میسور کے باشندے سب سے زیادہ خوشحال ہیں،اس کے برعکس انگریز ی مقبوضات صفحہ ٴ عالم پر بد نما دھبوں کی حیثیت رکھتے ہیں،جہاں رعایا قانونی شکنجوں میں جکڑی ہوئی پریشان ہے۔‘‘
انہوں نے اپنے دور حکمرانی میں متعدد اور مفید انتظامی اور فلاحی اقدامات سے ملک کو روشناس کرایا۔ زمینی پیدا وار سے ملک کو حاصل ہونے والی آمدنی کا نظام،ملک میں رائج سکّوں کا چلن، شمسی اور قمری نظام کا امتزاجی کیلنڈر اور جنوبی ہندوستان میں ریشم کی صنعت کا فروغ،یہ سارے اقدامات ٹیپو کی یادگار ہیں جن سے ان کی وطن دوستی،غریب پروری ،سیکولر مزاجی اور روشن خیالی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ملک کے معروف تاریخ دان عرفان حبیب ٹیپو کی خدمات کے سیاق میں کہتے ہیں کہ میسور اور اس کے اطراف میں ریشم کی صنعت کافروغ دراصل ٹیپوسلطان کی غریب پرورحکمرانی کی رہین ِ منت ہے۔پورے ملک کی ریشمی صنعت کا 70فی صدسے زیادہ حصہ تنہا کرناٹک میں ہوتا ہے جس میں سب سے زیادہ میسور ضلع کی پیداوار ہے۔ ملک میں ریشم کی صنعت کو فروغ دینے کے کا پورا کریڈٹ ٹیپو کو جاتا ہے اوراسے تمام تاریخ نویسوں نے تسلیم کیا ہے۔ عرفان حبیب کہتے ہیں کہ اگر ٹیپو سلطان اپنے دور میں انگریزوں سے مصالحت کرلیتے تو صرف جنوب ہندوستان ہی نہیں بلکہ پورے ملک کی بادشاہت انھیں مل جاتی جیسا کہ برطانوی سامراج نے انھیں باربار اس کی پیشکش کی تھی۔تاریخی زاؤیہ سے ٹیپو کو ملک کے دفاعی نظام میں بھی ممتاز مقام حاصل رہا۔ملک کے موجودہ ایڈوانس میزائل سسٹم بھی انھیں کے دفاعی اسٹراٹیجی کا حصہ ہے جو ۱۷۹۹کی جنگ میں برطانوی ترقی یافتہ دفاعی نظام کے مقابلے میں انھوں نے تیارکی تھی۔اسی وجہ سے ٹیپو کو برصغیر میں راکٹ سازی کا موجد کہا جاتا ہے۔ سابق صدر ہند ڈاکٹراے پی جے عبد الکلام بھی اس کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :’’ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہورہی ہے کہ ’ناسا‘ ہندوستان کے ایک بادشاہ (ٹیپو سلطان) کو راکٹ مین کی حیثیت سے یاد کررہا ہے۔‘‘ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ٹیپو کو ایک قوم پرور تاریخی بادشاہ کی حیثیت سے یاد کیا جاتا نہ کہ انہیں خواہ مخواہ متنازعہ بنا کرا پنے حقیر مفادات کی پوجا کی جائی۔ علم ِتاریخ کا اصول یہی بتا تاہے کہ تاریخ کے واقعات کا جائزہ اس کے متعلقہ تمام گوشوں کو سامنے رکھ کرکرنا چاہئے نہ کہ کسی خاص حصہ بھینگی آنکھ سے دیکھ کر تاریخ کو اپنے حقیر مقاصد کا  لبادہ اوڑھا جائے ۔ ایسا کرناتاریخ کے ساتھ بدترین خیانت ہے۔ بنابریں ٹیپو پر وقتاًفوقتاً فرقہ پرستوں کے واویلا کے خلاف ملک کے متعدد نامور ومستند تاریخ دانوں نے ہمیشہ مسترد کیا اوران الزامات کی پرزور تردید کی جو ٹیپو سلطان کے خلاف بھگواسنگھٹن جھوٹےپرو پگنڈا کر کے پھیلا تے ہیں ۔اس بارے میں جدید تاریخ پر اتھارٹی مانے جانے والے دلیپ مینن نے ایک موقع پر ٹیپو پر زعفرانیوںکی جانب سے لگائے جارہے بے سروپا الزامات کی تردید میں کہاتھا :بی جے پی ٹیپو کی جشن ِ پیدائش کی مخالفت کیوں کررہی ہے؟ٹیپو کی شخصیت گوکہ پیچیدہ اور موضوع بحث ہے،تاہم انگریزوں کے خلاف سرنگاپٹم میں جام ِشہادت نوش کرنے والا یہ بادشاہ اٹھارہویں صدی کا سب سے بہتر مطلق العنان حکمران تھا،جہاں تک ہندوٴوں کے خلاف اُن کے رویے کی بات ہے تو اس طرح کی زیادتی تو مہاراجہ اشوک نے ہندوٴوں کے ساتھ کی تھی، توکیا آج بی جے پی اشوک کی مخالفت کرے گی؟تاریخ کا مطلب ماضی کے واقعات اور تجربات کو بعینہ جاننا ہے نہ کہ سیاسی شعبدہ بازی کے لیے ان کا استعمال کرنا‘‘۔ فوجی امور کے مورخ مندیپ سنگھ بجوا بھی ٹیپو کی زندگی پر واویلا مچانے کے بجائے انتظامی اور فلاحی کاموں میں اُن کی جانب سے اٹھائے گئے مثالی اقدمات کا مطالعہ کرنے اور انھیں اپنانے کی صلاح دے چکے ہیں ۔ 
اس میں کوئی شک نہیں کہ اورنگ زیب عالمگیرؒ کے انتقال کے بعد غیر آزاد ہندوستان میں نظام الملک آصف جاہ ،حیدر علی اور ٹیپو سلطان جیسی حیرت انگزیز صلاحیت رکھنے والا کوئی تیسرا حکمران نظر نہیںآ تا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ بر صغیر میں انگریزوں کا جتنا کامیاب مقابلہ ٹیپو سلطان نے کیا اور بر طانوی سامراج کے خلاف ۳۵سال تک مسلسل نبر دآزمائی کرتے ہوئے جس شجاعت اور سپہ سالاری کا ثبوت دیا وہ ہندوستان کے کسی اور مسلم یا غیر مسلم حکمران کے حصے میں نہیں آیا۔ حکمران ہوتے ہوئے بھی ٹیپو اپنے آپ کو عام آدمی سمجھتے تھے ۔علامہ اقبال ؒنے ٹیپو کی عظمت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹیپو کی عظمت کو تاریخ کبھی فراموش نہ کرسکے گی،وہ مذہب وملت اور آزادی کے لیے آخری دم تک لڑتے رہے،یہاں تک کہ اس راہ میں وہ شہید ہوگئے۔‘‘ہندوستان کی تاریخ سے مسلم حکمرانوں  اور آزادی پسندانقلابیوںکے نام ونشان مٹانے کے تعلق سے سنگھ پریوار کا یہ منفی رویہ جگ ظاہر ہے۔مسلمان بادشاہوں کی عظمت کو تار تار کرنے کے لیے کبھی اورنگ زیب عالمگیراور ٹیپو سلطان جیسے منصف مزاج و  انسان دوست مسلم حکمرانوں کو ہندو مخالف بتلاکر تاریخ کو مسخ کرنے کی مذموم کوشش جاری ہیں۔ وقت آیا ہے کہ اس طرح کی سعی ٔ نامشکور کو موموقف کر کے تحریک آزادی ٔ ہند کے اولین ہیرو  وشال دیش کا بلند قامت محسن ا ور سوتنترتا سینانیوں کا سینا پتی قرارد یا جائے ۔
