ٹیسٹ میں کامیاب آغازکے لئے ٹیم انڈیا کا سخت امتحان

برمنگھم// وراٹ کوہلی کی کپتانی والی ہندستانی کرکٹ ٹیم انگلینڈ میں 11 سال کے طویل وقفے کے بعد ٹسٹ سیریز جیت کر اپنی برتری ثابت کرنے کے مقصد کے ساتھ کھیل رہی ہے جس کے لئے اس کی شروعات پانچ میچوں کی سیریز میں بدھ سے شروع ہو رہے پہلے میچ سے ہوگی۔ہندستان اور انگلینڈ ایجبسٹن میں پہلے کرکٹ ٹسٹ کیلئے آمنے سامنے ہوں گی۔ مہمان ٹیم اس بار گزشتہ خراب ریکارڈ کو پیچھے چھوڑنا چاہتی ہے تو انگلینڈ بھی اپنے گھریلو میدان جیت کی تال کو برقرار رکھنے کے ساتھ 2016-17 میں ہندستانی زمین پر پانچ میچوں کی سیریز میں 4۔0 سے ملی شکست کا بدلہ برابر کرنا چاہے گی۔ہندستانی ٹیم نے انگلینڈ میں آخری بار 2007 میں انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز جیتی تھی جبکہ مہندر سنگھ دھونی کی کپتانی میں اسے 2011 میں 0-4 سے اور 2014 میں 1-3 سے سیریز میں شکست ملی ہے ۔ آخری بار انگلینڈ کی زمین پر آئے وراٹ جہاں بطور بلے باز بری طرح فلاپ رہے تھے تو چار سال بعد وہ دنیا کے بہترین کھلاڑی بن گئے ہیں اور اس بار ان پر اچھی کارکردگی کے ساتھ ساتھ اپنی کپتانی میں ایک دہائی سے طویل عرصے بعد انگلش زمین پر ٹیسٹ سریز جتانے کا بھی دباؤ ہے ۔وراٹ کیلئے اگرچہ بطور کپتان چیلنجز زیادہ دکھائی دے رہے ہیں۔ انگلینڈ کی گرم کنڈیشن میں جہاں ٹیم مینجمنٹ اپنے بولروں خاص طور اسپنروں روی چندرن اشون، رویندر جڈیجہ اور محدود اوور میں متاثر کر کے ٹیسٹ ٹیم میں جگہ پانے والے چائنامین بولر کلدیپ یادو پر زیادہ انحصار کر رہی ہے تو اس کا بلے بازی کمبی نیشن پریشان کرنے والا ہے جبکہ بہت سے باقاعدہ کھلاڑیوں کی چوٹیں اور کچھ ایک کی خراب فارم اس کے لیے تشویشناک بنی ہوئی ہے ۔ہندستانی ٹیم نے انگلینڈ آنے سے پہلے سرخ گیند سے زیادہ پریکٹس نہیں کی۔ وہیں ٹسٹ سیریز سے پہلے اس کا واحد پریکٹس میچ بھی گرم موسم کی وجہ سے ایک دن کم کر دیا گیا۔ اگرچہ ڈرا رہے اس میچ میں اس کے ٹاپ آرڈر کے بلے بازوں کی خراب فارم کی علامات ضرور ملی ہیں جبکہ سال 2014 کی سیریز میں بھی ہندوستان کے اوپننگ آرڈر کی مایوس کن کارکردگی سے مہمان ٹیم نے 1-2 سے سریز گنوائي تھی۔ہندستان نے مرلی وجے اور شکھر دھون کو مسلسل آزمایا ہے لیکن دونوں بلے باز گھریلو پچوں پر تو بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن غیر ملکی زمین پر ان کا تال میل جیسے ندارد ہو جاتا ہے ۔ پریکٹس میچ میں بھی شکھر دونوں بار صفر پر آؤٹ ہوئے تھے ۔ نائب کپتان اجنکیا رہانے نے بھی پریکٹس میچ میں خاص رنز نہیں بنائے جبکہ لوکیش راہل کے آرڈر کو لے کر تواتر ہی نہیں ہے ۔جنوبی افریقہ میں ہوئی ٹسٹ سیریز میں بھی ہندوستان کی اوپننگ جوڑی کی کارکردگی مایوس کن رہی تھی۔ ایسے میں وراٹ پر رنز کے لیے انحصار کافی بڑھ گیا ہے ۔ وراٹ آئی پی ایل کے بعد سے سرخ گیند سے نہیں کھیلے ہیں اور چوٹ کی وجہ سے افغانستان کے خلاف واحد میچ میں نہیں اترے اور نہ ہی انگلینڈ میں کاؤنٹی کرکٹ کھیلا۔ لیکن آپ یو یو ٹیسٹ کو پاس کر انہوں نے فٹنس تشویش کو پیچھے چھوڑا ہے ۔ پریکٹس میں انہوں نے پانچویں نمبر پر کھیلتے ہوئے 68 رن بنائے تھے ۔اگرچہ وراٹ کا 2014 کی سیریز میں سب سے زیادہ اسکور ہی 39 رنز رہا تھا۔ انہوں نے اس سیریز میں 1، 8، 25، 0، 39، 28، 0، 7، 6، 20 کے اسکور بنائے تھے ۔ وہ پانچ ٹیسٹ میں صرف 134 رنز ہی بنا پائے تھے اور انہوں نے اسے کیریئر کی بدترین سیریز بتایا تھا۔ وراٹ نے موجودہ آئر لینڈ اور انگلینڈ کے دورے میں محدود اوور میں خراب آغاز سے ابرتے ہوئے 0، 9، ناٹ آؤٹ 20، 47، 43، 75، 45، 71 اور 68 رنز بنائے ہیں اور اچھی فارم میں نظر آ رہے ہیں۔کپتان اور اسٹار بلے باز وراٹ پر اگرچہ حد سے زیادہ انحصار باعث تشویش ہے ۔ لیکن ماہر بلے باز چتیشور پجارا، رہانے سے اچھے اسکور کی توقع کی جا سکتی ہے تو نچلے مڈل آرڈر پر اس کے آل راؤنڈر ہردک پانڈیا سے مدد مل سکتی ہے ۔ ویسے نچلے آرڈر پر آف اسپنر روی چندرن اشون بھی اچھے رنز بنارہے ہیں۔ مشق کے دوران اشون کو ہاتھ میں ہلکی چوٹ لگی تھی جس کے بعد ان کی فارم کو لے کر بھی فکر ہے ۔بلے بازی میں جہاں کوچ شاستری اور کپتان وراٹ کو کچھ فکر ہے تو اسے گیند بازی میں اپنے کھلاڑیوں پر بہت زیادہ بھروسہ ہے ۔ شاستری کہہ چکے ہیں کہ ٹیم کے پاس میچ میں 20 وکٹ نکالنے والے کھلاڑی ہیں۔ لیکن جہاں تجربہ کار جوڑی اشون اور جڈیجہ جیسے اسپنر ٹیم میں ہیں، لیکن تشویش 23 سالہ کلدیپ کو لے کر ہے ۔