ٹھیکداروں کی ہڑتال کا 23واں دن

 
سرینگر//واجب الادا رقومات کی عدم ادائیگی کے خلاف تعمیراتی معماروں کے ٹینڈ و ترقیاتی کاموں کے بائیکاٹ کے چلتے ترقیاتی پروجیکٹوں کے مکمل ہونے پر سیاہ بادل منڈلارہے ہیں،جبکہ گورنر کے مشیر کے کے شرما کے بعد ایک اور مشیر خورشید احمد گنائی کے ساتھ ٹھیکداروں کی میٹنگ کے بعد بھی تعطل جاری ہے۔ ٹھیکداروں کے ہڑتال کے نتیجے میں سڑکوں کی مرمت اور تجدید کے علاوہ دیگر کام ٹھپ ہونے کے نتیجے میں سڑکیںکھنڈرات میں تبدیل ہوچکی ہے۔تعمیراتی ٹھیکداروں کی طرف سے پائے تکمیل تک پہنچائے گئے کاموں کے واجب الادا رقومات کی عدم ادائیگی کے خلاف ٹھیکداروں کی ہڑتال23ویں دن بھی جاری رہی جبکہ احتجاجی ٹھیکدار چیف انجینئرنگ کمپلیکس راجباغ میں خیمہ زن ہیں۔ ٹھیکداروں کے ٹینڈر اور ترقیای کاموں کے بائیکاٹ کے نتیجے میں جہاں بڑے پروجیکٹوں پر کام کاج ٹھپ ہوکر رہ گیا،وہیںنئے مالی سال کے آغاز میں ہی ترقیاتی کاموں کیلئے ٹینڈروں کا سلسلہ بھی ٹھپ ہوکر رہ گیا۔ محکمہ تعمیرات عامہ کے ذرائع نے بتایا کہ مالی سال کے آغاز میں تاخیر کا مطلب یہ ہے کہ تمام نئے پروجیکٹ تاخیر سے شروع ہونگے،اور وقت پر مکمل نہیں ہونگے۔‘‘ ادھر تعمیراتی معماروں کے ہڑتال کے نتیجے میں سڑکوں کی مرمت اور تجدید کاری کے کام میں بھی رکاوٹیں کھڑی ہوئی ہیں،جس کی وجہ سے عام لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہڑتال کو ختم کرنے کیلئے اگر چہ ریاستی گورنر کے مشیر برائے خزانہ کے کے شرما اورٹھیکداروں کے نمائندوں کے درمیان بات چیت ہوئی،تاہم ابھی تک اس کے نتائج سامنے نہیں آئے۔ گورنر کے ایک اور مشیر خورشید احمد گنائی کے ساتھ بھی جوائنٹ کانٹریکٹرس کارڈی نیشن کمیٹی نے میٹنگ کی،جس کے دوران نہیں بھی تمام صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ خورشید احمد گنائی نے تعمیراتی ٹھیکداروں سے ہڑتال واپس لینے پر زور دیا تھا،تاہم ٹھیکداروں نے واجب الدا رقومات کی ادائیگی کیلئے طریقہ کار وضح کرنے کا مطالبہ کیا۔