! ٹھٹھرتی سردی میں مسلسل دوسرے روز بھی صوبہ جموں میںبجلی بند،لوگ موم بتیاں استعمال کرنے پر مجبور

ڈوڈہ

بجلی کی نجی کاری کے خلاف ڈوڈہ ضلع میں دوسرے روز بھی ملازمین کی کام چھوڑ ہڑتال جاری رہی جس کی وجہ سے بجلی نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ اتوار کے روز گندوہ میں محکمہ بجلی کے ملازمین نے احتجاج بلند کرتے ہوئے اپنی مانگوں کو لے کر نعرہ بازی کی۔ اس موقع پر بولتے ہوئے مظاہرین نے کہا کہ محکمہ کو کارپوریشن میں تبدیل کرنے و نجی کمپنی میں ضم کرنے سے ہزاروں ملازمین کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے اتحاد ملازمین زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے سرکار سے اس فیصلے کو واپس لینے و تنخواہوں کی ادائیگی میں مستقل نظام بنانے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران انہوں نے انتباہ دیا کہ جب تک سرکاری سطح پر ان کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا ہے تب تک کام چھوڑ ہڑتال جاری رہے گی۔ اس دوران ڈوڈہ ،بھدرواہ ،ٹھاٹھری و گندوہ میں مسلسل چھبیس گھنٹوں سے بجلی بند رہی جس کے نتیجے میں سرکاری و نجی اداروں میں کام کاج بری طرح متاثر ہوا جبکہ شہر و گام کے دیہات گھپ اندھیرے میں رہے۔ اطلاعات کے مطابق 132 کے وی کے ترسیلی نظام میں ہفتہ کے روز بعد دوپہر خرابی آگئی جس کی وجہ سے سب ڈویژن ٹھاٹھری، گندوہ و سب ضلع بھدرواہ میں بجلی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔محکمہ کے ایک آفیسر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ملازمین کی کام چھوڑ ہڑتال کی وجہ سے بجلی بحالی تاحال ممکن نہیں ہے۔ 

رام بن

 محکمہ بجلی کی نجکاری کے سرکاری منصوبے کے خلاف سنیچروار کی دوپہر سے بجلی کو بند کر کام چھوڑ ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ بجلی ملازمین کی ریاست گیر ہڑتال کی وجہ سے وادی چناب کا ضلع رام بن بھی بجلی کی عدم موجودگی کی وجہ سے گھپ اندھیرے میں ہے اور شدید سردی میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے گویا معمول کی زندگی تھم سی گئی ہے۔اگرچہ ضلع کے بیشتر علاقوں میں ہڑتال کے پہلے روز ہفتے کی دوپہر سے ہی بجلی کو بند کیا گیا ہے تاہم رام بن اور اس کے کچھ مضافاتی علاقوں میں ہفتے کی رات بجلی چلتی رہی۔اتوار کو دوسرے روز بھی بجلی کی نجکاری کے خلاف بجلی بند رکھ کر محکمہ بجلی کے ملازمین مسلسل ہڑتال پر ہیں جبکہ اتوار کے روز جموں میں سرکار اور ملازمین کی کارڈی نیشن کمیٹی کے درمیان بات چیت کا سلسلہ نتیجہ خیز ثابت نہ ہو ئے کی وجہ سے اتوار شام تک بجلی کے بحال نہیں ہو پائی تھی۔ شدید سردی کے ان ایام بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ضلع رام بن کے علاقوں میں لوگوں کا بڑا حال ہے کیونکہ گرم پانی اور گرمی کرنے سے کھانا بنانے تک لوگ مکمل طور سے بجلی پر ہی منحصر ہیں اور ہیٹر ، بوائلر اور واٹر گیزر کے بغیر زندگی ادھوری بن گئی ہے۔ لوگوں نے کہا کہ پچھلے چھتیس گھنٹوں سے بجلی نہ ہونے کی وجہ سے کانگڑیوں اور کوئلوں کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے اور گرمی پہنچانے کیلئے ہیٹر وغیرہ کے آلات گھروں سے اٹھا کر رکھے گئے ہیں کیونکہ بجلی ملازمین غیر معینہ مدت کی ہڑتال پر چلے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گیس پر کھانا پکایا جاسکتا ہے لیکن شدید سردی سے بچنے کیلئے آگ اور کانگڑی کا استعمال ناگزیر ہے۔ کئی لوگوں نے محکمہ بجلی کی مانگوں کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے وہیں ملازمین کی ان سردیوں کے موسم میں ہڑتال پر چلے جانے اور بجلی بند رکھنے کی بھی شدید مذمت کی گئی ہے اور سرکار کو ملازمین کے مطالبات حل کرنے کی مانگ کی ہے۔ 

گول

جموں و کشمیر میں ملازمین کی جانب سے محکمہ بجلی کی نجکاری اور عارضی ملازمین کی مستقلی کو لیکر کام چھوڑو ہڑتال کے چلتے ضلع رام بن کے ملازمین نے بھی احتجاجی ہڑتال کیا۔ اس دوران پورے ضلع میں جہاں ملازمین نے کام چھوڑ ہڑتا ل کی وہیں پورا ضلع کل سے گھپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے وہیں پی ڈی ڈی ملازمین کی ہڑتال کی وجہ سے ننانوے فیصد علاقے گھپ اندھیرے میں ڈوبے ہوئے ہیں جس وجہ سے لوگ کافی پریشان ہیں ۔ وہیں سماجی رابطہ سائٹوں پر لوگوں نے بھی پی ڈی ڈی ملازمین کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو لتاڑا ہے وہیں گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ پی ڈی ڈی ملازمین کے جائز مطالبہ کو پورا کر کے ریاست کو روشن کریں ۔ضلع ہیڈکوارٹر رام بن میں محکمہ پی ڈی ڈی کے مستقل و عارضی ملازمین کام چھوڑ ہڑتال پر ہے جسکی وجہ سے ضلع رام بن کے کئی علاقہ جات میں کل سے ہی بجلی کا نظام درہم برہم ہے اور رات کو پورے ضلع میں تاریکی چھائی رہی۔ملازمین گزشتہ دن سے کام چھوڑو ہڑتال پر ہیں اور انکا مطالبہ ہے۔ حکومت نجی کاری کے فیصلے کو واپس کرے اور جو عارضی ملازمین کئی دہائیوں سے محکمہ میں بغیر تنخواہوں کے کام کر رہے انکی مستقلی جو لیکر جلد پالیسی واضح کی جائے۔مسئلے کے حل ہونے تک انہوں نے احتجاج کی تنبیہ بھی دی ہے۔ وہیںتحصیل صدر مقام گول میں ملازمین نے احتجاج کرتے ہوئے سرکار سے جلد از جلد اُن کے مطالبات کو پورا کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اس دوران سنگلدان نیابت کے مقام پر بھی پی ڈی ڈی ملازمین نے سرکار کی ہٹ دھرمی پر مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ کے ملازمین ہمیشہ دن رات کام کرتے ہیںچاہئے سردی ہو گرمی یہ ملازمین اپنے فرائض انجام دیتے آئے ہیں لیکن ہر وقت ان ملازمین کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا جا رہا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اپنے حقوق جدوجہد کر کے مانگنے کواور جب تک نہ سرکار ملازمین کے حقوق کو بحال کرے گی تب تک یہ ہڑتال جاری رہے گی۔ 

کشتواڑ

محکمہ بجلی کی جاری ہڑتال کے سبب ضلع بھر میں عام زندگی بری طرح مفلوج ہوکررہ گئی ہے۔قصبہ کشتواڑکے چند مقامات کو چھوڑ کر دیگر علاقہ جات میں دوسرے روز بھی بجلی غائب رہی جسکے سبب ان علاقہ جات کی عوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسرے روز سنگرام بھاٹہ کے چند وارڑ وپوہی کے علاقہ جات کو بجلی فراہم کی گئی۔ ضلع ترقیاتی کمشنر کشتواڑ اشوک کمار شرما نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انھوں نے این ایچ پی سی کے حکام بجلی سپلاائی بحال کرنے کیلئے کہا لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ایگزیز پی ڈی ڈی الطاف احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کل 28 فیڈر میں سے محض 4 فیڈر کام کررہے ہیں جن میں ہسپتال ،زیارتگاہوں ، پی ایچ ائی و علاقہ کنتواڑہ کو بجلی فراہم کی جائے گی، جبکہ دیگر سبھی بجلی کے فیڈر بند پڑے ہیں۔