ٹھٹھارکہ میں لوگوں کاپرنسپل کے خلاف احتجاج

گول// زون گول کے ٹھٹھارکہ ہائر سکینڈری سکول میں آج لوگوں نے اُس وقت ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جب یہاں سے برخواست ہوئے پرنسپل کو پھر واپس اسی سکول میں لانے کی باتیں گردش کرتی سنی گئیں ۔مقامی لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یہاں پرتعینات پرنسپل نے لوگوں اور اسٹاف کے ساتھ ساتھ بچوں کا قافیہ حیات تنگ کر رکھا ہے اور لوگ کافی مشکلات سے دوچار ہیں ۔انہوں نے کہاکہ تین ماہ قبل ہائر سکینڈری سکول کی چھت اُڑ گئی ہے اور بچے کھلے آسمان تلے بیٹھنے پر مجبور ہیں اور سکول کا جو فنڈس آتا ہے وہ کہاں جاتا ہے انہوں نے کہا کہ یہاں اس علاقے میں اس پرنسپل کی دہشت ہے کیونکہ ہر ایک سکول میں آنے والے شخص کے ساتھ یہ لڑائی پراُتر آتا ہے اور نا زیبا زبان استعمال کرتا ہے ۔انہوں نے کہہا کہ پرنسپل نے بچوں کو بھی کافی تنگ کر رکھا ہے اور بچے سکول میںجیسے قید خانے میں ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ لوگوں نے بار بار یہاں پرتعینات پرنسپل کو یہاں سے تبدیل کرنے اور لوگوں کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھنے کی درخواستیں دی ہیں لیکن یہاں کی طرف کسی نے دھیان نہیں دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس پرنسپل نے علاقہ میں مسلم کش پالیسی اختیار کررکھی ہے اور ہمیشہ فرقہ وارانہ باتیں کرتا رہتا ہے جس کی وجہ سے علاقہ میں کسی وقت بھی حالات خراب ہوسکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پرنسپل کو یہاں سے برخواست کیاگیا ہے اور اب کچھ باتیں گردش کرتی ہیں کہ پرنسپل کو دوبارہ یہاں پرلایا جا رہا ہے اور اگر ایسا ہوا تو یہاں پر حالات خراب ہوں گے ۔ مقامی معززشہریوں نے کہاکہ انہوں نے وزیر تعلیم الطاف بخاری سے بھی ٹیلیفون پربات کی تھی اور یہاں کے حالات بارے آگاہ کیاتھا ۔انہوں نے انتظامیہ سے لے کر متعلقہ وزیر تک تمام ذمہ داران سے اپیل کی ہے کہ اگر پرنسپل کو دوبارہ سکول میں تعینات کیا گیا تو ٹھٹھارکہ کے ساتھ ساتھ پورے زون میں حالات خراب ہو سکتے ہیں اور اب اس کی فرقہ پرستی کی لہریں بہت ہو چکی ہیں اب برادشت سے باہرکی بات ہے ۔