ٹوٹی نہر سے آبپاشی کیسے ممکن ہے؟ روئیداد

ہریش کمار،پونچھ

ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہندوستان ایک زرعی ملک ہے۔ جہاں تقریباً 60 سے 70 فیصد لوگوں کا انحصار زراعت پر ہے۔ ملک کی معیشت میں زراعت کا بڑا حصہ ہے۔ لیکن بہتر زراعت کے لیے سب سے اہم چیز پانی ہے۔ جس کی کمی سے اس شعبے کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑ تاہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزادی کے بعد بھی تمام حکومتوں نے اس طرف سنجیدگی سے توجہ دی ہے۔ ہر کھیت تک پانی پہنچا نے کے لیے نہریں بنائی گئیں اور جہاں پہلے سے بنی ہوئی تھیں ان کی مرمت کی گئی۔ لیکن بڑھتی ہوئی صنعت کاری کی وجہ سے پچھلی چند دہائیوں میں حکومت کی اس شعبے پر توجہ پہلے سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ جس کی وجہ سے زراعت کے شعبے پر منفی اثرات دیکھے جا رہے ہیں۔
ریاستی اور ضلعی سطح پر محکمہ زراعت کی بے حسی کی وجہ سے نہروں کی ترقی جیسے اہم منصوبے کھنڈرات کا شکار ہو رہے ہیں۔ جس کا خمیازہ زراعت اور کسانوں کو محسوس ہو رہا ہے۔ ملک کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے نہریں سوکھ گئی ہیں اور کسانوں کو اس کا کوئی فائدہ نہیں مل رہا ہے۔ جموں ڈویژن کی سرحد سے متصل پونچھ ضلع میں واقع جھولاس گاؤں بھی اس کی ایک مثال ہے۔ پونچھ ہیڈ کوارٹر سے تقریباً 9 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اس گاؤں کی آبادی پانچ ہزار سے زیادہ ہے۔ جہاں زیادہ تر لوگوں کا انحصار زراعت پر ہے۔ یہاں سب سے بڑا مسئلہ گرمیوں میں پانی کی کمی کی وجہ سے کھیتوں کا سوکھ جانا ہے۔ اگرچہ محکمہ نے ان کسانوں کے کھیتوں تک پانی پہنچانے کے لیے نہر کو قریبی ندی پلست سے جوڑا ہے لیکن اس زمین تک پانی پہنچانے والی یہ نہر جگہ جگہ سے ٹوٹ چکی ہے۔ جس کا پانی نہر میں نہیں رہتا جو کسانوں کے لیے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے۔
اس حوالے سے جھولاس گاؤں کے چوکیدار منشی رام کا کہنا ہے کہ پانی کی کمی کی وجہ سے دھان جیسی اہم فصل اگانے سے قاصر یہ زمین دس سے پندرہ ہزار کنال پر مشتمل ہے جو کہ درادولیاں سے سلوتری گاؤں تک پھیلی ہوئی ہے۔ ان کھیتوں میں نہر کے ذریعے ہی آبپاشی ممکن تھی۔ جس کی وجہ سے کسان دھان اور دیگر فصلیں کاشت کر سکتے تھے۔ لیکن گزشتہ 8 سال سے نہر کی مرمت نہ ہونے کی وجہ سے اس میں پانی نہیں آ رہا ہے، جس کی وجہ سے کسانوں نے دھان کی کاشت بند کر دی ہے۔ ساتھ ہی کچھ کسانوں نے کاشتکاری مکمل طور پر روک دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زمین خالی دیکھ کر کچھ لوگوں نے کھیتوں پر ناجائز قبضہ کر کے گھر بھی بنانا شروع کر دیا ہے۔ یہ مسئلہ جموں و کشمیر انتظامیہ کی طرف سے چلائے جانے والے ‘بیک ٹو ولیج’ پروگرام کے لیے آنے والے اہلکاروں کے سامنے بھی رکھا گیاتھا، لیکن اب تک اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔
وہیں گاؤں کے کسان دین محمد کا کہنا ہے کہ جب نہر سے پانی آتا تھا تو کسان دھان کی بوائی کرتے تھے، جس سے انہیں اچھی آمدنی ہوتی تھی، لیکن پانی کی کمی کی وجہ سے اب مکئی جیسی خشک فصل بوائی جاتی ہے۔ جس میں بہت سے لوگوں کو زیادہ منافع نہیں ملتاہے۔ ایک اور کسان روشن لال کے مطابق یہ نہر نہ صرف فصلوں کو اچھی طرح سیراب کرتی تھی بلکہ گرمی کے دنوں میں جانوروں کے لیے بھی وافر پانی فراہم کرتی تھی۔ لیکن نہر کی دیکھ بھال کے ذمہ دار ٹھیکیدار کی جانب سے اس کی مناسب دیکھ بھال نہ کرنے کی وجہ سے اس میں دراڑیں پڑ گئی ہیں، جس کی وجہ سے پانی نہیں ٹھہرتا ہے۔ اس کے علاوہ بیداری کی کمی کی وجہ سے مقامی لوگوں کی جانب سے اس میں کوڑا کرکٹ پھینک کر اسے تقریباً بند کردیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ٹھیکیدار انتظامیہ کی بے حسی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں اور اس پر خرچ ہونے والی رقم کا صحیح استعمال نہیں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی کسانوں نے اس مسئلہ پرکئی بار ڈپٹی کمشنر سے ملاقات بھی کی ہے لیکن ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔مقامی شہری کیتن بالی کے مطابق یہ نہر کافی پرانی ہے۔ جس کی وجہ سے کسان دھان کی فصل کے لیے آبپاشی میں فائدہ اٹھاتے تھے۔ لیکن گزشتہ کئی سالوں سے مرمت نہ ہونے کی وجہ سے یہ تقریباً خستہ حال ہو چکا ہے۔ یہ کئی جگہوں سے مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔ مرمت کے بغیر اس میں پانی چھوڑنا گھاٹے کا سودا ہوگا۔ آبپاشی کے لیے پانی نہ ہونے کی وجہ سے کسانوں نے فصلیں اگانا بند کر دی ہیں تو لوگوں نے خالی کھیتوں پر غیر قانونی طور پر مکانات بنانا شروع کر دیے ہیں۔ جو کسی بھی نقطہ نظر سے درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہر بند ہونے سے تقریباً ڈھائی ہزار خاندان متاثر ہو رہے ہیں۔
گاؤں کے سرپنچ پرسا رام بھی اس نہر کو کسانوں کے ساتھ ساتھ دیہی زندگی کے لیے بھی اہم سمجھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جہاں کسان اس نہر سے کھیتوں کو سیراب کرتے تھے، وہیں گاؤں کے لوگ بھی اپنے روزمرہ کے معمولات مکمل کرنے کے لیے اس نہر کے پانی پر انحصارتھے۔ نہر کی وجہ سے گرمیوں کے دنوں میں جانوروں کے لیے پانی آسانی سے دستیاب ہو جاتاتھا۔ لیکن گزشتہ آٹھ سالوں سے نہر میں پانی نہ آنے سے کسان اور مقامی دیہاتی سبھی پریشان ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس نہر کی لمبائی تقریباً ایک ہزار میٹر ہے۔ جس کی وجہ سے کسان اور مقامی شہری بڑے رقبے پر آباد ہو کر اپنی ضروریات پوری کرتے تھے ، جو اب مکمل طور پر بند ہے۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان کسانوں کو ہو رہا ہے۔ انہیں اب کھیتوں میں آبپاشی کے لیے متبادل انتظامات کرنے ہوتے ہیں، جو چھوٹے اور پسماندہ کسانوں کے لیے مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب بہت سے کسانوں نے دھان اُگانا چھوڑ دیا ہے، جو ان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوا کرتا تھا۔
تاہم محکمہ اس نہر کی بحالی پر تقریباً چار کروڑ روپے خرچ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ لیکن ابھی تک اس کی منظوری نہیں دی گئی ہے۔حالانکہ عہدیدار بار بار اس مسئلہ کے جلد ہی حل نکالنے کی یقین دہانی کرارہے ہیں۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ محکمہ اس مسئلے کو کب سنجیدگی سے لیتا ہے اور نہر کی مرمت کا کام کب شروع کرتا ہے؟ویسے بھی برسات کا موسم اپنے عروج پر ہے، کھیتوں کو وافر مقدار میں پانی دستیاب ہو چکا ہے ۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس بار بھی مرمت کا منصوبہ صرف کاغذوں تک ہی محدود رہے گا یا زمینی سطح پر تبدیلی نظر آئے گی؟ کیا جھولاس گاؤں کے کسانوں کو آبپاشی کے لیے نہر سے پانی ملے گا یا پچھلے آٹھ سالوں کی طرح اُن کی امیدوں پر پانی پھر جائے گا؟
<[email protected]>