ٹنگمرگ میں پولیس ہیڈکانسٹیبل کی ٹارگٹ کلنک کچھ اہم سراغ ملے، کیس کی تہہ تک جائیں گے : سوین

پولیس سربراہ کی مقتول کے گھر آمد، اہل خانہ سے تعزیت

فیاض بخاری

 

بارہمولہ// جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل پولیس آر آر سوین نے ہفتہ کو کہا کہ پولیس کو بارہمولہ میں ایک پولیس اہلکار کی ٹارگٹ کلنگ کی تحقیقات میں پیشرفت کے سلسلے میں کچھ سراغ ملے ہیں، اور قاتلوں اور ان کے حامیوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائیگا۔موصوف پولیس سربراہ ہفتے کے روز بارہمولہ کے وائیلو کرالہ پورہ ٹنگمرگ میں واقع مقتول ہیڈ کانسٹیبل غلام محمد ڈار کے گھر پہنچے جہاں انہوں نے پسماندگان سے تعزیت کی۔غلام محمد ڈار کو 31 اکتوبر کو گولیاں مار دی گئی تھیں جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوئی تھی۔ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کشمیر وجے کمار بھی ان کے ہمراہ تھے۔اس موقع پر انہوں نے میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا’’پولیس نے اس دہشت گردی کے جرم کے مرتکبین کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا عزم کیا ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا’’ہم نے پولیس پریوار کے ایک رکن، ایک والد، ایک بھائی اور کشمیر کے ایک شہری کو کھویا ہے‘‘۔ سوین نے کہا کہ تمام افسروں بشمول اے ڈی جی پی، ڈی آئی جی، ایس ایس پی اور ایس ایچ او نے اس معاملے کی تہہ جانے کا عزم کیا ہے تاکہ قاتل اور اس کے حامیوں سمیت تمام لوگوں کی شناخت کرنے کا عزم کیا ہے، جنہوں نے کسی بھی طرح سے اس کی حمایت کی اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں تحقیقات جاری ہیں لیکن تفصیلات کو شیئر نہیں کیا جا سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا’’ہم نے اس کیس میں کچھ پیشرفت کی ہے اور جو اہم سراغ ملے ہیں جن پر کام ہو رہا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ہم پر امید ہیں کہ مرتکبین کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔ڈی جی پی نے مزید کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سرحد کے اس پار بیٹھے کچھ لوگ یہاں کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کی تمام چالوں کو ناکام بنا دیا جائے گا۔سوین نے کہا کہ تشدد کے حامی لوگ اپنے منصوبوں سے باز نہیں آئے، وہ منصوبے بناتے رہیں گے لیکن اگر ہم نے یہاں کا ماحول بدلا اور لوگوں کو ساتھ لے کر چلیں تو ان کے منصوبے ناکام ہو جائیں گے، وہ لوگوں کو یہاں بھیجیں گے، لیکن ہم ایسی صورتحال پیدا کریں گے کہ انہیں یہاں کوئی حمایتی نہیں ملے گا۔ڈی جی پی نے کہا کہ اس موسم سرما کے آغاز سے، پولیس جموں و کشمیر میں ایسی صورتحال پیدا کرنے کی حکمت عملی شروع کرے گی جہاں کوئی بھی سرحد پار دہشت گردوں اور ان کے ہینڈلرز کی حمایت کرنے کو تیار نہیں ہوگا۔سوین نے زور دے کر کہاکہ وہ لوگ، اسلحہ اور گولہ بارود یا منشیات یہاں بھیجتے ہیں، وہ ہسپتال، سکول یا سڑکیں بنانے کے لیے پیسے نہیں بھیج رہے ہیں۔ لیکن ہم ان کی کوششوں کو ناکام بنانے میں اس وقت کامیاب ہوں گے جب یہاں کوئی ان کا ساتھ دینے کو تیار نہیں ہوگا،ہم یہاں ایسی صورتحال پیدا کریں گے اور اس سلسلے میںہماری پہلی کارروائی اس موسم سرما سے شروع ہو گی۔سوین نے زور دے کر کہا کہ ہم اپنے ساتھیوں یا عام شہریوں کا کوئی جانی نقصان نہیں ہونے دیں گے،جو بھی ان کی حمایت کرتا ہے، چاہے وہ سرحد کے اس پار بیٹھے ہوں یا یہاں، انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا،” ۔بعد ازاں دوپہر کو ڈی جی پی نے تھانہ پٹن کا دورہ کیا جہاں انہوں نے پولیس اسٹیشن کے کام کاج کا جائزہ لیا اور کرائم ریکارڈ کی تفصیلات بھی چیک کیں۔ پولیس اہلکاروں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے، ڈی جی پی نے دہشت گردی کے جرائم کے واقعات سے نمٹنے کے لیے جامع انسدادی اقدامات اپنانے پر زور دیا اور مزید کہا کہ لوگوں کی جانوں کی حفاظت ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ڈی جی پی نے کہا کہ دہشت گردی کی سرگرمیوں میں کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرنے والے تمام مشکوک عناصر کو ان کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے ریڈار کے نیچے رکھا جانا چاہیے۔ ڈی جی پی نے ہدایت کی کہ امن مخالف سرگرمیوں میں ملوث پائے جانے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔