ٹنگمرگ منی سیکریٹریٹ 11سال سے تشنہ تکمیل بیشتر دفاترنجی عمارتوں میں قائم، لوگوں کو گوناگوں مشکلات

مشتاق الحسن

ٹنگمرگ//ٹنگمرگ میں 11سال قبل منی سیکریٹریٹ تعمیر کرنے کیلئے سنگ بنیادڈالا گیا لیکن کروڑوں روپئے خرچ کرنے کے باوجود عمارت ہنوز تشنہ تکمیل ہے۔یاد رہے کہ 2010 میں عوامی ایجی ٹیشن کے دوران ٹنگمرگ میں بیشترسرکاری دفاتر آگ کی ایک بھیانک واردات کے دوران خاکستر ہوگئے۔ عوامی مسائل مدنظر رکھتے ہوئے اس وقت کی حکومت نے سرکاری نظام چلانے کیلئے مختلف علاقوں میں نجی عمارتوں میں منتقل کئے جس کی وجہ سے لوگوں کو زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے۔

 

اس دوران2012 میں اُس وقت کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ٹنگمرگ منی سیکریٹریٹ کا سنگ بنیاد ڈالا اورجے کے پی سی سی کو تعمیراتی کام سونپا گیا۔مذکورہ تعمیراتی ایجنسی نے مختصر کام کرنے کے بعدآج تک دوبارہ کوئی کام نہیں کیا۔ٹنگمرگ کی آبادی نے کئی بارارباب اقتدارکو اس سلسلے میں مداخلت کی اپیل کی لیکن کچھ نہیں ہوا۔لوگوں کا کہنا ہے کہ ایل جی انتظامیہ سے لیکر ضلع انتظامیہ بھی اس معاملے سے آگاہ ہیں لیکن کوئی بھی اس منی سیکریٹریٹ کی تکمیل کیلئے سنجیدہ نہیں ہے۔معلوم ہوا کہ اس پروجیکٹ پر ابتدائی تخمینہ 6 کروڑ روپئے تھے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سرکاری دفاتر مختلف علاقوں میں موجود ہونے سے انہیں گوناگوں مشکلات کا سامنا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹنگمرگ بازار میں تجارتی سرگرمیوں پر بھی منفی اثر مرتب ہوئے۔ٹریڈرس ایسوسی ایشن ٹنگمرگ کے صدر آصف رشید جان کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ منی سیکرٹریٹ کو لاوراث چھوڑنے سے اس قصبے کا حلیہ بگڑ چکا ہے۔گلمرگ سٹیزنز فورم کے صدر عاشق احمد ماگرے نے منی سیکرٹریٹ 11 سال گزجانے کے باوجود بھی پائے تکمیل تک نہ پہنچنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سب ڈویژن ٹنگمرگ میں اہم سرکاری دفاترقصبے سے بہت دور ہیں جو عوام کیلئے باعث تکلیف ہے اور تجارت کیلئے بھی نقصان دہ ہے۔