ٹریکٹر حادثے میں نوجوان کی موت

مینڈھر/ بٹوت//مینڈھر میں ایک ٹریکٹر حادثے میں جواں سالہ لڑکے کی موت ہوگئی جس کے بعد مقامی لوگوں اور پولیس کے درمیان ٹھن گئی ہے ۔ٹریکٹر اڑی چیتری علاقہ سے تیز ر فتاری سے مینڈھر کی طرف جارہاتھاجس دوران دھار کس پر بنے ہوئے پل سے وہ نیچے لڑھک کر نالے میں جاگراجس کے باعث جواں سالہ لڑکے کی موت ہو گئی جس کی پہچان وجاحت حسین ولد محمد ریاض سکنہ اڑی کے طور پر ہوئی ہے۔ اگرچہ اسے وہاںسے اٹھاکرلوگوںنے سب ضلع ہسپتال مینڈھر منتقل کیا تاہم ڈاکٹروں نے اس کو مردہ قرار دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اڑی چیتری میں ایک بزرگ خاتون کی موت ہو گئی تھی اور یہ لڑکا اس کا قریبی رشتہ د ار تھا جو گھر سے سامان لے کر واپس مینڈھر آ رہا تھا کہ ٹریکٹر حادثے میں لقمہ اجل بن گیا ۔وجاحت حسین اپنے گھر میں اکیلا بھائی تھا جس کی موت کی خبر پھیلتے ہی علاقہ میں صف ماتم بچھ گئی ۔اس حادثے کے بعد جائے حادثہ پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے جس دوران جب ایس ایچ او موقعہ پر پہنچے تو انہوںنے وہاں جمع لوگوں کو بھگانے کی کوشش کی ۔اس دوران پولیس اور لوگوں میں توتومیں میںہوگئی جس کے بعد ایس ایچ او نے ایک شخص کو حراست میں لیکراپنے ساتھ تھانے لیا جس پر اس کے رشتہ داروں نے ایس ایچ او کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا ۔اس دوران ایس ڈی پی او موقعہ پر پہنچے اور انہوںنے یقین دلایاکہ وہ اس بات کی تحقیقات کریںگے اور مسئلے کو مل بیٹھ کر حل کیاجائے گا۔تاہم آخری اطلاعات تک یہ معاملہ حل نہیں ہواالبتہ لوگوںسے بات چیت جاری تھی ۔ دریں اثناءپتنی ٹاپ میںگلوبل کانونٹ اسکول بٹوت کے بچوں کی وین زیر نمبر JK14A-3442 ، جو کہ بٹوت سے پتنی ٹاپ کی جانب جا رہی تھی کو ہفتہ کی دوپہر سنتوکھ موڑ کے نزدیک حادثہ پیش آیا۔ جس کی وجہ سے وین میں سوار 8بچے مضروب ہوئے ہیں جن میں سے ایک کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔زخمیوں کو فوری طور پرائمری ہیلتھ سنٹر پتنی ٹاپ علاج ومحالجہ کے لئے منتقل کیا گیا جن میں سے7 بچوں کو طبی ا مداد مہیا کرکے ہسپتال سے رخصت کیا گیا جبکہ ایک شدید زخمی کو کیمونٹی ہیلتھ سنٹر چنہنی بہتر علاج کے لئے منتقل کیا گیا ،جسکی شناخت بطور ندیش سنگھ ولد درشن سنگھ ساکنہ کدھ کے طور پر کی گئی ہے۔ایس ایچ او پولیس سٹیشن بٹوت انسپکٹر وجے سنگھ چودھری نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وین کا ڈرائیور جائے موقعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ہے۔تاہم پولیس نے اسے گرفتار کرنے کی مہم شروع کی ہے۔پولیس نے اس سلسلہ میں ایک کیس درج کرکے مزید کاروائی شروع کر دی ہے۔