ٹریفک جام کے باوجود جموں سرینگر شاہراہ پر ٹریفک رواں

بانہال // جموں۔ سرینگر شاہراہ پر اتوار کے روز صرف فورسز گاڑیوں کوہی چلنے کی اجازت تھی اور پیر کے روز وادی کشمیر سے جموں کی طرف ٹریفک کو چلنے کی اجازت تھی اور بھاری ٹریفک کے بیچ پیر کی شام تک چار ہزار سے زائد ٹرکوں اور مسافر گاڑیوں نے جموں کی راہ لی اور ٹریفک کے چلنے کا سلسلہ بانہال قصبہ میں ٹریفک جام کے باوجود سست رفتاری کے ساتھ پیر کی شام تک جاری تھا۔ پیر کی صبح سے ہی جواہر ٹنل کے آر پار اور قصبہ بانہال میں جموں کی طرف آنے والا ٹریفک شدید ٹریفک جام کی صورت اختیار کرگیا اور سہ پہر بعد تک ٹریفک جام کا یہ سلسلہ جاری تھا۔ قصبہ بانہال میں روزانہ کی طرح پیر کو بھی ٹریفک جام کی وجہ سے مقامی سطح پر معمولات کی زندگی متاثر رہی اور عام لوگوں اور مسافر گاڑیوں کا چلنا پھرنا محال ہوگیا۔ ٹریفک جام کی وجہ سے چملواس ، کھارپورہ بانہال اور درشی پورہ کے درمیان سینکڑوں مال اور مسافر بردار گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاروں لگ گئیں جس کی وجہ سے ایک بار پھر ملازم ، سکول اور کالج جانے والے بچے اور مریضوں کے ساتھ ساتھ عام لوگ اپنی اپنی منزلوں پر پہنچنے سے رہ گئے جبکہ درجنوں نے کئی گھنٹوں بعد  ٹریفک جام سے ہار مان کر اپنے گھروں کیلئے واپسی کی راہ لی۔ ڈی ایس پی ٹریفک نیشنل ہائے وے بانہال سنگھ سین نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ اتوار کے روز سویلین ٹریفک پر بندش کی وجہ سے پیر کے روز شاہراہ پر بھاری ٹریفک آیا اور اتوار کی رات سے پیر کی شام تک اڑھائی ہزار مسافر گاڑیوں سمیت چار ہزار سے زائد مال بردار گاڑیوں نے جموں کی طرف کا سفر کیا۔ انہوں نے کہا کہ قصبہ بانہال میں لگے ٹریفک جام کو چھوڑ کر شاہراہ پر ٹریفک کی نقل و حرکت پیر کے روز مجموعی طور بہتر رہی اور قصبہ بانہال میں مقامی تاجروں اور لوگوں کی نجی گاڑیوں کی وجہ سے لگے ٹریفک جام پر بعد میں قابو پایا گیا اورسوموار کی شام بانہال سیکٹر میں ٹریفک روانی کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا۔