ٹریفک جاموں کے نت نئے اسباب!

 کشمیر میں تعلیمی اداروں کی تعطیلات ختم ہونے کے ساتھ ہی آبادی کے ایک بڑے حصے ، جو موسم سرما کی ٹھٹھرتی ٹھنڈ سے بچنے کےلئے سرمائی ایام وادی سے باہر گرم علاقوں میں گزارنے کا عادی ہیں، کی واپس آمد اور اسکولی گاڑیوں کے سڑکوں پر دوڑنے کی وجہ سے شہر اور قصبہ جات میں ٹریفک کی نقل و حمل میںتیزی کے ساتھ اضافہ  ہو نے لگا ہے، جس کی وجہ سے سڑکوں پر بڑے بڑے ٹریفک جام لگنا شروع ہوگئے ہیں۔ا س پر پلوامہ سانحہ کے بعد فوج اور نیم فوجی دستوں کی کانوائے مومنٹ  کے حوالے سے جاری کی گئی ایڈوائزری نے مزید اضافہ کر دیا ہے ، جسکی وجہ سے شاہراہوں پر طویل وقفوں کے لئے میلوں لمبے جام لگتے ہیں۔ اگر چہ عوام نے ا س حوالے سے حکومت پر یہ باور بھی کیا تھا کہ اس طرح انکے قیمتی اوقات ضائع ہو رہے ہیں مگر فی الوقت اس پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ روزپرائیوٹ اسکولوں کی ایسوسی ایشن نے بھی اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کانوائے کی وجہ سے لگنے والے ٹریفک جام بچوں کے تعلیمی معمولات کو بُری طرح متاثر کر رہے ہیں بہر حال حقیقت یہی ہے کہ ٹریفک جاموں کی وجہ سے عام لوگوں کی زندگی اجیرن ہونے لگی ہے۔شہر سرینگر کے اکثر علاقوں میںصبح اورشام کے وقت لگنے والے ٹریفک جامو ںسے عوام کو سخت پریشانیوں کا سامنا ہے۔ دفترجانے والے لوگوں اور سکولی بچو ں کو ان ٹریفک جاموں کی وجہ سے اپنی منزل تک پہنچنے میںبعض اوقات گھنٹوں کی تاخیر ہوجاتی ہے۔شہر کے بیشتر علاقوں،جن میںسونہ وار ،راجباغ ،جہانگیر چوک، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ، پولو ویو، ریگل چوک، ریذیڈنسی روڈ،ایم اے روڈ، ریڈیو اسٹیشن، ،بٹہ مالو پر ہر صبح اور ہر شام سینکڑوں گاڑیاں بیک وقت درماندہ ہو جاتی ہیں اور مسافروں کو کئی گھنٹوں تک انتظار کرنا پڑتاہے۔ یہی حال قمر وار ی اور ڈلگیٹ میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے ۔ٹریفک جام کی وجہ سے اسپتال جانے والے بیماروں کو بھی کوفت کا سامنا ہے جبکہ اکثر اوقات مریضوں کو لے جارہی ایمبولنس گاڑیاں بھی گھنٹوں تک ٹریفک جام میں پھنس جاتی ہیں ۔’مرض بڑھتا گیا ،جوں جوں دوا کی‘ کے مصداق جتنا زیادہ حکومتی ادارے گرمائی دارالحکومتی شہر میں ٹریفک نظام کو چست و درست کرنے کی کوششیں کررہے ہیں،اتنا ہی نظام بگڑ تا جارہا ہے اور بدیہی طور پر اس مرض کےلئے کوئی دوائی کام کرتی نظر نہیں آرہی ہے ۔انتظامیہ آئے روز نت نئے فارمولے لیکر آتی ہے اور ہر دن کوئی نیا نسخہ پیش کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اب اس روح فرسا تکلیف سے نجات مل کرہی رہے گی لیکن اگلے ہی دن اس نسخہ کی ہوا نکل جاتی ہے۔گوکہ ٹریفک پولیس اور ضلعی پولیس بظاہر ٹریفک کے حوالے سے بہت متحرک نظر آتی ہے لیکن پولیس کا طمطراق صرف خلاف ورزی کرنے والی گاڑیاں اُٹھانے اور انکا چالان کرنے تک ہی محدود ہے اور معمولی سی غلطیوں کو لیکر چالان بُک خالی یہ تاثر دینے کے جتن کئے جارہے ہیں کہ پولیس محکمہ صورتحال کی سنگینی سے غافل نہیں ہے اور محدود وسائل کے باوجود اپنی طرف سے ٹریفک نظام کو درست کرنے کی حتی المقدور کوشش کررہا ہے لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ پولیس کی یہ چستی صرف چالان کے نام پر جرمانہ کی صورت میں روزانہ خزانہ عامرہ میں لاکھوں روپے جمع کرنے تک ہی محدود ہے جبکہ دوسری جانب ٹریفک جام کی بڑھتی وباء کی وجہ سے شہر کی معیشت بری طرح متاثر ہورہی ہے ۔آئے روز کے ٹریفک جاموں کی وجہ سے سے صرف شہر سرینگر کی اقتصادیات پر پڑھنے والے منفی اثرات کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ صرف ایک ماہ میں سرینگر ضلع میں ایام ِ کار کےکم و بیش33لاکھ گھنٹے ضائع ہوجاتے ہیں۔2011مردم شماری کے مطابق سرینگر کی آبادی 12لاکھ36ہزار829نفوس پر مشتمل تھی اور اگر ایک دہائی میں آبادی میں23فیصد اضافہ کی شرح کو مدنظر رکھ کر حساب کتاب لگایاجائے تو اس وقت شہر کی آبادی13.5لاکھ ہوگی۔ماہرین اقتصادیات کے ایک جائزے کے مطابق اگر فرض کیاجائے کہ شہر میں صرف40فیصد کام گر ہوںتو ان کی تعداد5لاکھ40ہزار بنتی ہے اور اب یہ بھی مان لیاجائے کہ 40فیصد کی اس آبادی کو روزانہ ٹریفک جام کی وجہ سے ایک گھنٹہ ضائع ہوجاتا ہے تو یہ مجموعی طور روزانہ 1.10لاکھ گھنٹے اور ماہانہ33لاکھ گھنٹے بن جاتے ہیں۔جس شہر میں کام گر طبقہ کو ماہانہ 33لاکھ گھنٹے ٹریفک جام کی وجہ سے ضائع کرنے پڑیں،اُس شہر کی اقتصادیات کا خدا ہی حافظ ہوگا۔یہ ایک سرسری انداز ہ ہے جس میں کم و بیش کا فرق ہوسکتا ہے لیکن حقیقت  کہیںاسکے آس پاس ہی ہوگی  ،اس سے  انکار کی گنجائش نہیں۔یہ تو کشمیر میں ابھی وقت کی اتنی قدر نہیں ہے ،لہٰذا لوگوں کو ٹریفک جام کی وجہ سے ضائع ہونے والے قیمتی وقت کا احساس نہیں ہوتا ہے ورنہ ترقی یافتہ ممالک میں وقت کو سرمایہ کہتے ہیں اور وہاں پیسے سے زیادہ وقت کی اہمیت ہے ۔ٹریفک جام کی وجہ سے سڑکوں پر وقت کا یہ زیاں یقینی طور پر ریاستی معیشت پر بھاری پڑ رہا ہے لیکن شاید حکام کو اس کا احساس نہیں ہے کیونکہ اگر احساس ہوتا تو اس کے تدارک کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے ۔یہ تو اس صورتحال کا ایک منفی پہلو ہے ۔اب اگر اس صورتحال کی وجہ سے دیگر اہم شعبوں پر پڑنے والے منفی اثرات کا جائزہ لیاجائے تو صفحوں کے صفحے بھر جائیں گے لیکن پھر بھی بات مکمل نہ ہوگی اور وجوہات کا پٹارا ختم نہیں ہوگا۔لہٰذا زیادہ طویل بحث میں جائے بغیر ارباب بست و کشاد سے یہی امید کی جاسکتی ہے کہ وہ گہری نیند سے جاگ جائیں اور اہلیانِ شہر کو اس درد مسلسل سے نجات دلانے کی کوئی مستقل سبیل پیدا کریں تاکہ پہلے سے ہی بدحال معیشت اب مسلسل ٹریفک جاموں کی وجہ سے مزید لرزہ بر اندام نہ ہوجائے کیونکہ وہ ریاست کیلئے کوئی اچھی خبر نہیںہے۔اس کے ساتھ ساتھ سول انتظامیہ فوجی و نیم فوجی اداروں کے ذمہ داروں پر کانوائے ایڈوائزی کی وجہ سے پیدا شدہ پریشانیوں کو اُجاگر کرکے کوئی  درمیانہ راستہ اختیار کرنے کا طریقۂ کار تلاش کرے تاکہ کانوائے کے ساتھ عوامی عبور و مرور میں ہم آہنگی پیدا ہو۔