ٹرک ڈرائیوروں کا احتجاج، کینیڈا میں ایمرجنسی نافذ

اوٹاوا// کینیڈا کے دارالحکومت اٹاوا میں کورونا پابندیوں کیخلاف ٹرک ڈرائیورز کا احتجاج شدت اختیار کرگیا ہے، جس کے باعث دارالحکومت اوٹاوا میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق کینیڈا کی ریاست اوٹاوہ میں دس روز سے جاری ٹرک ڈرائیورز کے غیر معمولی احتجاج کے باعث صورتحال خراب ہے اورٹرک ڈرائیورز نے شہر کا بیشتر حصہ بلاک کررکھا ہے جس کے بعد میئر اوٹاوہ نے ریاست میں ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے۔اوٹاوا کے مئیرنے بیان میں کہا کہ صورتحال مکمل طور پر قابو سے باہر ہے اور مظاہرین کی تعداد پولیس اہلکاروں سے زیادہ ہوگئی ہے، مظاہرین شہریوں کی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں۔ ایمرجنسی ٹرک ڈرائیوز کے احتجاج سے نمٹنے میں مدد دے گی۔خیال رہے کہ ٹرک ڈرائیوز گزشتہ ایک ہفتے سے کورونا پابندیوں کیخلاف احتجاج کررہے ہیں اورانہوں نے شہرکے وسطی علاقے کی سڑکوں کوخیمے لگا کراورٹرک کھڑے کرکے بند کردیا ہے۔ٹرک ڈرائیورز نے حکومت کی جانب سے ٹرک ڈرائیورز کے لئے ویکسین لازمی لگوانے کی شرط کیخلاف ایک ہفتے قبل ’ آزادی کارواں‘ کی مہم کا آغاز کیا تھا۔ کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں ‘فریڈم کانوائے ’ کے مظاہروں کے دوران سات افراد کو گرفتار کیا گیا اور کئی گاڑیاں اور ایندھنوں کے ٹینکر ضبط کر لئے گئے ۔پولیس نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ اتوار کی صبح ایک شخص کو پابندی کے باوجود گاڑی چلانے پر گرفتار کیا گیا تھا، جب کہ دوسرے شخص کو "پرانے شہر میں کاروباری املاک کو نقصان پہنچانے سے متعلق پریشانی پیدا کرنے " کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں دن میں فسادات کے الزام میں مزید پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا۔پولیس نے کہا‘‘متعدد گاڑیاں اور ایندھن ٹینکروں کو ضبط کیا گیا ہے اور مختلف خلاف ورزیوں پر ڈرائیوروں کو 100 سے زیادہ ٹکٹ جاری کیے گئے ہیں۔ کنفیڈریشن پارک کو مکمل طور پر صاف کر دیا گیا ہے اور باڑ لگا دی گئی ہے ۔"پولیس نے کہا کہ احتجاج سے متعلق 60 سے زیادہ مجرمانہ تحقیقات جاری ہیں۔ وہ بنیادی طور پر پریشانی، چوری، نفرت انگیز جرائم اور املاک کو نقصان پہنچانے سے متعلق ہیں۔اس سے قبل اتوار کو اوٹاوا پولیس نے ٹوئٹر پر خبردار کیا تھا کہ جو بھی مظاہرین کو مدد جیسے ایندھن، فراہم کرنے کی کوشش کرے گا اسے گرفتار کیا جا سکتا ہے ۔اوٹاوا کے میئر جم واٹسن نے اتوار کو شہر میں ہنگامی حالات کا اعلان کرتے ہوئے سی ایف آر ا ے ریڈیو کو بتایا کہ شہر کی صورتحال مکمل طور پر قابو سے باہر ہے ۔کینیڈا میں کورونا اقدامات کے خلاف مظاہروں کی موجودہ لہر جنوری کے آخر میں تب شروع ہوئی، جب ہزاروں ٹرک ڈرائیورز اور دیگر مظاہرین نے اوٹاوا میں جمع ہو کر امریکہ-کینیڈا کی سرحد عبور کرنے والے ٹرک ڈرائیوروں کے لیے ویکسین کو لازمی قرار دینے کی شدید مخالفت کا اظہار کیا۔ خیال رہے مبینہ ' فریڈم کانوائے ' کے مظاہرے عموماً پرامن رہے ہیں۔جمعہ کے روزاونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ نے اوٹاوا میں مظاہروں کو ایک "پیشہ" قرار دیا اور لوگوں پر زور دیا کہ وہ اسے ختم کر دیں۔