ٹرک نے 3مظاہرین کو روند ڈالا،میاں بیوی اور بیٹاموٹر سائیکل حادثہ کاشکار

محمد تسکین
 بانہال //ادہمپور میںمیاں بیوی 20سالہ بیٹے سمیت موٹر سائیکل حادثے میں لقمہ اجل بن گئے جبکہ پینے کے پانی کی قلت کے خلاف مظاہرہ کرنے والے مظاہرین کو بے قابو ٹرک نے روند ڈالا ، جس کے نتیجے میں دو خواتین سمیت تین افرادجاں بحق جبکہ 6دیگر شدید زخمی ہوئے۔ ٹرک کی زد میں آئے مہلوکین کے حق میں ضلع انتظامیہ نے دس دس ہزار روپے کی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔پولیس حکام نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا کہ جمعہ کی صبح قریب ساڑھے آٹھ بجے  جموں سرینگر شاہراہ پر ادہمپور کے گرنیی رہمبل علاقے میں موٹر سائیکل کے ایک دلدوز حادثے میں ایک ہی کنبے کے تین افراد اسوقت لقمہ اجل بنے جب موٹر سائیکل سڑک سے پھسل کر حادثہ کا شکار ہوگیا اس حادثے میں میاں بیوی اور ان  کے20 سالہ بیٹے کی موت واقع ہوگئی۔ حادثے میں زخمی ہوئے اہل خانہ کو ضلع ہسپتال ادہمپور منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے تینوں کو مردہ قرار دیا ۔ پولیس نے مرنے والوں کی شناخت 45 سالہ محمد سلیم ان کی 40 سالہ اہلیہ شانتی دیوی اور ان کے20 سالہ بیٹے سمیر احمد عرف رینکو ساکن چنگا  ارناس ضلع ریاسی کے طور کی گئی ہے۔ادھر جمعہ کی دوپہر بعد ضلع ادہمپور کے بیشٹی چینینی کے مقام پر پیش آئے ایک اور دلخراش حادثے میں دو خواتین سمیت تین افراد اسوقت ہلاک ہوئے جب پینے کے پانی کی شدید قلت کے خلاف جموں سرینگر شاہراہ پر احتجاجی دھرنے پر بیٹھے بیشٹی کے مقامی لوگوں پر ایک بے قابو ٹرک چڑھ گیا۔ اس حادثے میں دو خواتین سمیت تین افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے  جبکہ چھ دیگر زخمی ہوئے جن میں سے ایک تین سالہ بچے سمیت کئی ایک زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ زخمیوں کو ضلع ہسپتال ادہمپور منتقل کیا گیا ہے۔ پولیس نے اس حادثے میں مرنے والوں کی شناخت سرشتھا دیوی زوجہ سبھاش چندر ، ساوتری دیوی زوجہ سریش کمار اور محمد رشید ولد حسن دین کے طور کی گئی ہے۔ پینے کے پانی کی قلت کے خلاف جمعہ کی دوپہر بعد  بیشٹی چینینی کے مرد و خواتین احتجاج ختم کرکے واپس اپنے گھروں کو جانے ہی والے تھے کہ ایک بے قابو ٹرک کئی گاڑیوں کو روندتا ہوا احتجاجیوں پر چڑھ گیا جس کے نتیجے میں نو افراد زخمی ہوئے اور دو خواتین سمیت تین افراد نے موقع پر ہی دم توڑ دیا۔ پولیس نے دونوں واقعات میں کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کر دی ہے۔ اس دوران ایس ڈی ایم چینینی پرویز نائیک نے ٹرک کی زد میں آنے والے مہلوکین کے حق میں ریڈکراس کے فنڈ سے دس دس ہزار روپے کی رقم واگذار کی ہے۔