ٹرمپ کی صدارت کو ایک سال مکمل، امریکہ کو شٹ ڈاؤن کا سامنا

 واشنگٹن // امریکہ کو آئندہ ایک ماہ کیلئے حکومتی شٹ ڈاون کا سامنا ہے ، امریکہ میں حکومتی اخراجات کیلئے فنڈز کی فراہمی جاری رکھنے کا بل کانگریس نے مسترد کردیا۔تفصیلات کے مطابق امریکہ میں شٹ ڈاون،حکومتی اخراجات کیلئیفنڈز کی فراہمی روک دی گئی، حکومت اور اپوزیشن میں نئے بجٹ پر اتفاق نہ ہوسکا، حکومت کے سول اخراجات کے ساتھ ساتھ دفاعی اخراجات بھی بند کر دیئے جائیں گے جبکہ ملازمین کو تنخواہوں کی فراہمی رک جائے گئی اور پارکس، میوزیمز سب بند ہوجائیں گے۔شٹ ڈاون چار ہفتے جاری رہے گا۔شٹ ڈاون مقامی وقت کے مطابق رات بارہ بجے سے ہوا، ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سیٹیکسوں میں کمی کی پالیسی کوانتہائی مخالفت کا سامنا تھا، ٹرمپ نے کارپوریٹ ٹیکسوں سمیت دیگر ٹیکسوں میں خاطر خواہ کمی کی تھی۔ریپبلکن حکومت نے حکومتی اخراجات کیلئے فنڈز کی فراہمی کو جاری رکھنے کیلئے بل پیش کیا تھا جو کہ منظور نہ ہوسکا۔خیال رہے کہ آخری بار اکتوبر 2013 میں شٹ ڈاون ہوا تھا جوکہ سولہ دن جاری تھا۔دوسری جانب حکومتی شٹ ڈاون کیباعث عالمی سطح پر ڈالرکی قدر شدید دباؤ کاسامناہے۔ عالمی سطح پر ڈالر کی قدر تین سال کی کم ترین سطح پر آگیا ہے۔امریکہ کے سرکاری اخراجات کے بل پر سینیٹ میں اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث نصف شب کے بعد امریکی حکومت کو 'جزوی شٹ ڈاؤن' کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے باعث کاروبار حکومت کے غیر ضروری امور معطل ہو گئے ہیں۔100 ارکان والے ایوان میں اس بل کی منظوری کے لیے 60 ووٹ درکار ہوتے ہیں لیکن طویل بحث و مباحثے اور مذاکرات کے بعد بھی اس پر اتفاق نہ ہو سکا اور اسبل کے حق میں 50 اور مخالفت میں 49 ووٹ آئے۔اس بل کے ذریعے حکومت کو آئندہ ماہ کی 16 تاریخ تک اخراجات کے بجٹ کی اجازت دی جانی تھی۔وائٹ ہاؤس نے اس پر اپنے فوری ردعمل میں کا اظہار کرتے ہوئے اس کی ذمہ داری ڈیموکریٹک سینیٹرز پر عائد کی اور اسے "شومر شٹ ڈاؤن" قرار دیا۔ بیان میں ان قانون سازوں پر الزام عائد کیا گیا کہ انھوں نے غیر قانونی تارکین وطن کو جائز امریکی شہریوں پر فوقیت دی۔ترجمان سارہ سینڈرز نے کہا کہ "انھوں نے سیاست کو ہماری قومی سلامتی، عسکری خاندانوں، بچوں اور تمام امریکیوں کی خدمت کرنے کی ہماری قابلیت پر فوقیت دی۔"قبل ازیں سینیٹ میں ڈیموکریٹک لیڈر چک شومر کی اس بارے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہونے والی بات چیت میں پیش رفت نہیں ہو سکی تھی۔ڈیموکریٹ ارکان نے اس بل کی مخالف کی کیونکہ وہ ان لاکھوں نوجوان تارکین وطن کو تحفظ دینے کے حق میں جنہیں ٹرمپ انتظامیہ غیر قانونی قرار دے کر ان کے خلاف سخت رویہ اپنائے ہوئے ہے۔