ٹرمپ نے میکسکو کی سرحد مستقل بند کرنے کی دھمکی دے دی

نیویارک//امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر کانگریس نے میکسکو اور امریکا کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لیے فنڈز جاری نہ کیے تو وہ سرحد کو مکمل طور پر بند کردیں گے۔ انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی نئی ٹوئٹ میں کہا کہ اگر ڈیموکریٹس نے امریکا اور میکسکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لیے فنڈز جاری نہ کیے تو اس کا نتیجہ میکسکو سے مستقل علیحدگی کی شکل میں نکلے گا اور وہ مذکورہ سرحد کو مکمل طور پر بند کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سرحد کو بند کرنے کے ساتھ ساتھ وہ سرحد پار کام کرنے والی امریکی کار ساز کمپنیوں کو بھی وہاں سے واپس بلا لیں گے۔ اس دھمکی کے نتیجے میں امریکا میں جاری سیاسی تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے نتیجے میں امریکا کو معاشی بحران کا سامنا ہے اور وہاں جزوی شٹ ڈاؤن چل رہا ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ اگر رکاوٹ بننے والے ڈیموکریٹس نے دیوار کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے ہمیں رقم فراہم نہ کی تو ہم جنوبی سرحد کو بند کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اپنی صدارتی مہم میں میکسکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کا وعدہ کرنے والے ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو امریکا اور میکسکو کے درمیان تعلقات اس نہج پر پہنچ جائیں گے جو نافٹا معاہدے سے قبل تھے۔ نافٹا معاہدہ (نارتھ امریکا فری ٹریڈ ایگریمنٹ) پر 17 دسمبر 1992 میں دستخط کیے گئے تھے اور اس پر یکم جنوری سے عمل درآمد شروع ہوا تھا۔ اس معاہدے کے تحت امریکا، کینیڈا اور میکسکو کے درمیان ہر طرح کی برآمدات اور درآمدات پر عائد تمام تر ٹیکسز کو ختم کردیا گیا تھا۔ امریکی صدر اپنی صدارتی مہم کے دوران نافٹا کو امریکی کی تاریخ کا بدترین تجارتی معاہدہ قرار دے چکے ہیں اور اپریل 2017 میں انہوں نے اس معاہدے کو ختم کرنے کی دھمکی بھی دی تھی، لیکن میکسکو اور کینیڈا کے اصرار پر ٹرمپ اس پر دوبارہ بات کرنے پر رضامند ہو گئے تھے۔ امریکی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق 2017 میں امریکا اور میکسکو کے درمیان دوطرفہ تجارت کی مالیت 615.9 ارب ڈالر سے زائد تھی۔