ٹرانسپورٹروں کے 5نکاتی مطالبات | 30مارچ کو ایک دن پہیہ جام کرنیکا اعلان

سرینگر// کمرشل و مسافرگاڑیوں کا 20 سال کے بعد فٹنس نہ ہونے،پسنجر ٹیکس، روٹ پرمٹ رینویل،شہری علاقوں سے گاڑیوں کو نکالنے، 27 ہزار آٹو رکھشا کی لائسنس جیسے معاملات کو لیکرٹرانسپورٹروں نے سرکار کو5 نکاتی مطالبات پیش کرتے ہوئے30مارچ کو ٹنل کے آر پار پہیہ جام ہڑتال کی کال کا اعلان کیا ہے  مسائل حل نہ ہونے کی صورت میں 10روز تک پہیہ جام کرنے کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔ ٹرانسپورٹروں کے مشترکہ پلیٹ فارم آل جموں و کشمیر ٹرانسپورٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ جموں اور کشمیر میں ٹرانسپورٹر شدید ترین مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ اس شعبے کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ان کا کہنا تھا ’’ ٹرانسپورٹ کسی بھی جگہ کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور ٹرانسپورٹ شعبے کے ساتھ کسی بھی قسم کی پریشانی کا نتیجہ معاشرے کی معاشی صحت کے خاتمے کا باعث بنتا ہے۔‘‘ ٹرانسپورٹروں کے مشترکہ اتحاد نے کہا کہ ٹرانسپورٹ سیکٹر کو پچھلے 28 سالوں کے دوران جو نقصان پہنچا ہے اس سے یہ تباہی کے دہانے پرپہنچ گیا ہے۔ ٹرانسپورٹروں نے سرکار کو5نکاتی مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ30مارچ کو وہ کرناہ سے لیکر کھٹوعہ تک علامتی ہڑتال پر جائیں گے اور اگر پھر بھی انکے مطالابات کو پورا نہیں کیا گیا تو  وہ10روزہ ہڑتال پر جائیں گے۔ کشمیر ٹرانسپورٹ ویلفیئر ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری شیخ محمد یوسف نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ گزشتہ 2 سال کے کووِڈ لاک ڈان نے بھی اس شعبے کے مصائب کو اس حد تک بڑھا دیا ہے کہ اس شعبے سے وابستہ لوگ کمزور مالی پوزیشن کے شکار ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ نے امسال7فروری کو جو حکم نامہ جاری کیا ہے وہ جموں و کشمیر کے ٹرانسپورٹروں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر چہ ٹرانسپورٹروں نے کمشنر سیکریٹری ٹرانسپورٹ سے میٹنگ کے دوران اس حکم نامہ کو منسوخ کرنے یا التواء میں رکھنے کا مطالبہ کیا تھا،تاہم جموں و کشمیر کے تمام’ آر ٹی اوز‘ اور’ اے آر ٹی اوز‘ نے تمام کمرشل ومسافر گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ اور دیگر متعلقہ دستاویزات کی تجدید سے انکارکیا۔