! وہ فلسطین یہ کشمیر

 مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر میں کافی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔وہاں بھی اُمت مسلمہ کے نہتے، کمزور اور محصور مسلمان اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں اور یہاں بھی بے یارومدد گار کشمیری مسلمان اپنے سیاسی حقوق کی بازیابی کے لیے گزشتہ سات دہائیوں سے جدوجہد کررہے ہیں۔ وہاں بھی ہر روز بے گناہ مسلمانوں کا خون بہایا جارہا ہے، نہتے عوام پر گولیاں برسائی جاتی ہیں، غریب فلسطینیوں کے مکانات مسمار کئے جاتے ہیں اور یہاں بھی آئے روز کسی نہ کسی بے گناہ کو جرم بے گناہی میں موت کی ابدی نیند سلا دیا جاتا ہے، جس کی تازہ مثال یونسو ہندواڑہ اور شوپیان کی دو معصوم خواتین اور کرالہ پورہ کپواڑہ کا سومو ڈرائیور ہیں جنہیں اپنے گھروں میں وردی پوشوں نے گولیوں سے چھلنی کرکے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش کردیا ۔ علاوہ ازیں یہاں بھی روز کسی نہ کسی کا آشیانہ زمین بوس کردیا جاتا ہے۔فلسطین کی ایک بڑی آبادی غزہ میں محصور ہے، محصورین ِ غزہ زندگی گزارنے کے لیے بنیادی ضروریات سے جان بوجھ کر محروم رکھا جارہا ہے،اسرائیلی چھوٹے چھوٹے بچوں کے لیے دودھ اور روٹی تک بیرونی دنیا سے وہاں آنے نہیں دیتے ہیں۔۲۰۰۸ء،۲۰۱۰ء اور ۲۰۱۶ء میں یہاں بھی ایسا ہی کچھ ہوا ہے، یہاں بھی عوامی آبادی کو اپنے گھروں میں یرغمال بناکر اُنہیں زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم رکھا گیا ہے۔ یہاں ہفتوں اور مہینوں کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا جاتا ہے۔ آئے روز عوامی نقل و حرکت پر قدغن لگانے کے لیے بندشیں لگائی جاتی ہیں،۲۰۰۸ء میں تو بالکل اسرائیلی طرز پر کشمیر کی اقتصادی ناکہ بندی کی گئی ہے۔ اُن دنوں جموں میں فرقہ پرست طاقتوں نے دلی سے سرینگر آنے والی مال بردار ٹریکوں پر حملہ کرکے غذائی اجناس اور دیگر ضروریات زندگی کی ترسیل مکمل طور پر رکوادی تھی۔فلسطینیوں کی زمینوں پر یہودیوں کو لالاکر آباد کیا جارہا ہے، اسرائیل بڑے بڑے شہروں پر دعویٰ کرکے اُنہیں یہودیوں کی ملکیت قرار دیتا ہے اورآئے روز بڑی بڑی کالونیاں تعمیرکرکے فلسطینیوں کی آبادی کا توازن بگاڑنے کے مشن کو پورا کررہا ہے اور یہاں کشمیر میں دہائیوں سے یہی طرز عمل اپنایا جارہا ہے۔ جموں میں دس لاکھ کے قریب مشرقی پاکستان کے شرنارتھیوں کو مستقل طور پر آباد کرنے اور اُنہیں یہاں کی شہریت عطا کرنے کے لئے تو موجود ریاستی سرکارنے دلی کی مدد سے قواعد وضوابط بھی وضع کئے ہیں۔ وادی ٔ کشمیر میں لاکھوں کنال اراضی بھارتی فوج کے زیر تحویل ہیں۔ ایک چھوٹے سے خطہ میں دس لاکھ فوجیوں کی موجودگی سے لوگوں کی ذہنی اور نفسیاتی حالت کیا ہوگی اس کا اندازہ مختلف غیرسرکاری تنظیموں کی جانب سے آنے والی اُن رپورٹوں سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے جن میں ذہنی امراض کے شکار مریضوں کی بڑھتی ہوئی تشویش ناک شرح کا تذکرہ ہوتا ہے۔ابھی کل ہی بات ہے کہ یہاںیہ نیوز اخبارات کی سرخیوں کی زینت بن گئی کہ گوگو سرینگر میں سولہ سو کنال اراضی فوج کی تحویل میں دی گئی ہے، جہاں پر وہ کالونیاں تعمیرکرنے کی منصوبہ بندی کرچکے ہیں۔ پنڈت کالونیوں کا پلان ابھی بھی زیر غور ہے، اُس کے لیے دلی سرکار نے ۲۰۱۴ء میں ہی فنڈس مختص کردئے ہیں۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کے دو مختلف خطوں کا مسئلہ ایک ہی جیسا ہے۔ فلسطینیوں او رکشمیریوں کا مسئلہ انسانیت کا مسئلہ ہے۔ دونوں جگہوں پر دنیا کی بہت بڑی آبادی کسمپرسی او رپریشانی کے عالم میں رہ رہی ہے۔ دونوں جگہوں کے عوام اپنے نونہالوں اور کم سنوں کے جنازوں کو آئے روز کندھا دیتے ہیں۔ دونوں جگہوں پر ہرسال ظلم و جبر اور بربریت کے نتیجے میں اپاہچ اور جسمانی طور ناخیز افراد کی تعداد میںتشویش ناک حد تک اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
فلسطین اور کشمیرکے لوگوں کے مسائل گرچہ ایک جیسے ہیں، ایک ہی ملت کے یہ دو اَنگ زخموں سے چور چور ہیں،لیکن عالمی سطح پر اقوام عالم کا رویہ دونوں مسائل کے تئیں جداگانہ ہے۔ مثال کے طور پر حال ہی میں جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ قرار دینے کا اعلان کرکے امریکہ سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تو دنیا کے اکثر ممالک نے سپرپاور ہونے کے باوجود انکل سام کے اس فیصلے کی کھل کر شدید مخالفت ومذمت کی۔ ہر ملک نے امریکہ کی اس پالیسی کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور واضح کردیا کہ یروشلم اسرائیل کا نہیں بلکہ فلسطین کا دارالخلافہ ہے۔ ترکی کے شہر استنبول میں صدر رجب طیب اردگان کے کہنے پر اوآئی سی کا اجلاس طلب کرلیا گیا جہاں مسلمان ممالک نے یک زبان ہوکر اس امریکی فیصلے کی شدید مذمت کی۔ مسلم دنیا میں امریکہ کے کچھ قریبی اتحادی ممالک نے بھی مجبوراً ہی سہی لیکن اکثریت کی ہاں میں ہاں ملا کر امریکی اعلان کو مسترد کردیا۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی القدس کے معاملے پر ٹرمپ کا فیصلہ مسترد کردیا اور بھاری اکثریت سے قرارداد کی منظوری دے دی۔ حالانکہ اس قرار داد کے منظور ہوجانے کے بعد بھی مغرور امریکہ کی سفیر نکی ہیلی نے کہا کہ اقوام متحدہ میں ووٹنگ سے امریکی سفارت خانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ترکی نے امریکی فیصلے کے خلاف قرار داد پیش کی۔ پاکستان اور یمن نے اس کی مکمل حمایت کی۔ دلی نے بھی خلاف توقع اس منصوبے کی مخالفت میں ووٹ دیا ۔ قراد داد میں امریکہ سے کہا گیا کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان فوری طور پر واپس لے اور مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرے۔قرارداد کے حق میں 128 ممالک نے ووٹ دیا، 35 نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔9 چھوٹے ممالک نے قرارداد کی مخالفت کی۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ قرارداد کے حق میں رائے دینے والوں کی مالی امداد بند کر دی جائے گی۔رائے شماری سے پہلے فلسطینی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے رُکن ممالک پر زور دیا کہ وہ دھونس اور دھمکیوں کو خاطر میں نہ لائیں۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے بھی انتباہ کیا تھا کہ امریکہ یہ دیکھے گا کہ کون سے ملک اقوام متحدہ میں امریکہ کے فیصلے کا احترام نہیں کرتے۔انہوں نے کہا تھا کہ جنرل اسمبلی میں قرارداد کی حمایت کرنے والے ممالک کے نام صدرٹرمپ کو بتاؤں گی۔ ایک ایک ووٹ کا حساب رکھا جائے گا۔یہاں یہ بھی واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف قرارداد کو ا مریکہ نے ویٹو کردیا تھا۔بہرحال اس قرار داد کا امریکی فیصلہ پر کیا اثر پڑے گا؟ امریکہ کا قرار داد کے حق میں ووٹ دینے والے ممالک کے حوالے سے رد عمل کیا ہوگا؟ اس بحث میں جائے بغیر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ فلسطین کے مسئلے میں اقوام عالم کے اکثرممالک ایک ہی صفحے پر کھڑے ہیں۔اس کے برعکس مسئلہ کشمیر کے حوالے سے دنیا کے اکثر و بیشتر ممالک افسوس ناک حد تک انجان ولاتعلق دکھائی دیتے ہیں۔ اس سلگتے ا نسانی مسئلے کے حوالے سے عالمی سطح پر جانکاری نہ ہونے کے برابر ہے۔آخر  ایساکیوں ؟ کیوں دنیا ایک ہی طرح کے مسئلے میں دو رُخ اپنائے ہوئی ہے؟ اس اہم سوال کا جواب ڈھونڈنا مسئلہ کشمیر کے دو اہم فریقین خود کشمیریوں اور پاکستان کے لیے لازمی بن جاتا ہے کہ وہ اسباب ومحرکات کا جائزہ لیں کہ کشمیر عالمی سیاست کی  نگاہوں سے اتنا وجھل کیوں ہے جب کہ اس کی پشت پر عالمی ادارے کی قراردادیں اس کی معقولیت اور مبنی پر انصاف ہونے  پر دلالت کر تی ہیں۔
دراصل فلسطین کے حوالے سے ہمیشہ ہمیش اُمت مسلمہ کا مؤقف قریب قریب ایک ہی جیسا رہا ہے۔ سوائے چند ممالک کے عیاش اور خود غرض حکمرانوں کے دنیا ئے اسلام کا ہر فرد بشر اس بات کو مانتا ہے کہ فلسطین کی سرزمین اُن کی ہے، بیت المقدس قبلہ اول ہے اور اِس سرزمین پر سوائے مسلمانوں کے کسی کا کوئی حق نہیں ہے۔ گویا مسلمان دنیا کے چاہے کسی بھی خطہ میں کیوں نہ رہ رہے ہوں ، اُن کے دل فلسطین کے لیے ڈھڑکتے ہیں، اُن کی روحیں فلسطینی مسلمانوں کے لیے تڑپتی ہیں، پاکستان سے لے کر انڈونیشیا تک، بنگلہ دیش سے لے کر افریقہ تک ، دنیا کے ایک کونے سے لے کر دوسرے کونے تک ہر جگہ مسلمان فلسطینیوں کے حق میں سڑکوں پر نکل آتے ہیں، اسرائیل کی مذمت میں سراپا احتجاج ہوجاتے ہیں ۔ مسئلہ فلسطین کے بارے میں اُمت مسلمہ میں یک سوئی ہے، جبھی مسلم حکمران نہ چاہتے ہوئے بھی یا امریکہ سے مرعوب اور خائف ہونے کے باوجودسپرپاور کے خلاف اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر یک جٹ ہوجاتے ہیں لیکن کشمیر کے بارے میں ایسا کچھ نہیں ہے۔فلسطین کے مسئلہ کو ہر مسلمان نے اپنا مسئلہ ایمان بنایا ہے جب کہ کشمیریوں کا مسئلہ صرف کشمیریوں کا درد ہے، یہ ان کی کہانی ہے ، یہ ان کا رونا ہے، حالانکہ یہ نہ صرف ملت اسلامی کا مشترکہ مسئلہ ہے بلکہ دنیائے انسانیت بھی اس مسئلے سے غافل نہیں رہ سکتی ہے۔کشمیری قوم کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ عالمی ایوانوں میں، دنیا کے کونے کونے میں اس کی آواز پہنچانے کے لیے اُنہیں حقیقی ہمدرد اور صحیح العمل ترجمان نصیب نہیں ہوئے ہیں۔ پاکستان مسئلے کا ایک فریق ہے، گزشتہ ستر برسوں میں اگر دنیا میں کہیں بھی کشمیریوں کی درد بھری چیخیں اور آہیں سنی گئیں تو اُس میں پاکستان کا ہی کلیدی رول رہا ہے لیکن اس کے باوجود ہم کہہ سکتے ہیں کہ جس پیمانے پر تیر بہدف کوششیں ہونی چاہیے، جس طرح سے مسئلہ کی تشہیر اور رایست کے طول و عرض میں مسلم اکثریت کے خلاف حقوقانسانی کی پامالیوں کی داستان سرائی ہنگامی بنیادوں پر کرنی مطلوب تھی اُس پیمانے پر کبھی بھی نہ ہوئی۔ بلاشبہ پاکستانی عوام کے دل کشمیریوں کے ساتھ ہمدردی کی بنیاد پر دھڑکتے ہیں، وہاں کے لوگ ہمیشہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑے رہے، اُن کی کر اہیں اورسسکیاںسن کر تڑپتے رہے، البتہ پاکستانی حکمرانوں نے شہ رگ ِکشمیر کے تعلق سے اپنے فرائض خوش اسلوبی سے انجام دینے سے کترائے۔ اصولی طورپاکستان کے علاوہ بھی قریبی مسلم ممالک کا یہ فرض بنتا تھا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پُر امن حل کے لیے اپنا اثرورسوخ بر وئے کا ر لائیں تاکہ یہ قضیہ سلجھ کر برصغیر میں جوہری ہمسایوں کے مابین امن وامان، دوستی ،مفاہمت اور نیک نیتی بنی رہے لیکن ان ہمسایہ ملکوں نے بھی ایسانہ کیا۔ ایک زمانہ تھا جب شاہ ایران رضا شاہ پہلوی نے کشمیر پرا پنی ہند پاک ثالثی کی پیش کش کی تھی مگر وہ اب قصہ ٔ پارینہ ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی ایک مسلمان ملک نے او آئی سی کے اجلاسوں کے مواقع پر ایک عدد قرارداد کے سوا مسئلہ کشمیر کے لیے کچھ بھی ٹھوس نہیں کیا۔
مسئلہ کشمیر کو اُمت مسلمہ کے درد کے طور اُجاگرنے کی اشدضرورت ہے اور  اگر پوری امت واقعی جسد ِ واحدہ ہے تو مسلم دنیا کو اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرکے دیگر اقوام تک اس مسئلے کی اصلیت اور اسے حل کرانے کی ضرورت سے آگہی دینے کے لیے ٹھوس کام کرنا ہوگا۔ اس کے لیے کشمیریوں کی قیادت کو نئے سرے سے اپنی حکمت عملی مرتب کرنی چاہیے۔ جدوجہد کو آگے بڑھانے کے لیے ماضی کے بہت سارے طور طریقوں کو چھوڑدینے کی ضرورت ہے۔ اولین ترجیح اس بات کو ہونی چاہیے کہ وادی کے اطراف و اکناف میں ہورہی انسانی جانوں کے زیاں اور حقوق البشرکی پامالیوں کو روکا جانا چاہیے۔ ہماری نوجوان نسل کٹ مررہی ہے، گزشتہ ستائیس سال سے روز کہیں نہ کہیں کسی ماں کا لاڈلاقبر میں اُتاراجارہا ہے، کوئی گھرانہ ویران ہوجاتاہے ، کوئی کوکھ اُجڑ جاتی ہے، کسی بوڑھے باپ کے بڑھاپے کا سہارا چھن جاتا ہے، ملت کی کوئی بیٹی بیوہ ہوجاتی ہے، کوئی معصوم یتیم ہوجاتا ہے۔حال ہی میں وردی پوشوں کی جانب سے شائع اعداد و شمار میں دعویٰ کیا گیا کہ رواں سال میں دو سو کے قریب کشمیریوں کو ابدی نیند سلا دیا گیا۔ اس پر کئی کند ذہن افراد نے مبارک بادی کے ٹوئٹ تک کئے تھے، جو لوگ انسانی جانوں کے زیاں پر اس قدر خوشی سے اچھل جاتے ہوں گے، جنہیں لوگوں کو مارنا کامیابی دکھائی دے رہا ہو،اُن کی عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ لوگوں کو مارنے سے مسائل حل ہوجاتے تو نوے کی دہائی میں ہی یہ مسئلہ حل ہوا ہوتا، اُن دنوں تو ایک ایک دن میں درجنوں لوگ جرم بے گناہی میں مارے جاتے تھے۔ مرنامارنا ہی کسی تنازعے کاحل ہوتا تو ۴۷ء میں جموں قتل عام کے بعد مسئلہ کشمیر زندہ ہی نہیں رہنا چاہیے تھا، پاکستان کے ساتھ تین بڑی جنگوں میں ہزاروں لوگوں کے ہلاکت کے بعد دونوں ممالک خاموشی سے بیٹھ گئے ہوتے ۔ مسائل ہلاکتوں اور جنگوں سے حل نہیں ہوتے ہیں بلکہ مسائل اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انصاف اور دیانت کے تقاضوں کو پورا کرکے ہی حل کیے جاسکتے ہیں۔ہمیں بحیثیت قوم اس بات کی تہ تک پہنچنے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا کہ کیوں ہمارے مسئلہ کو دنیا اہمیت نہیں دیتی ہے۔ وجوہات جاننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے اور اس سمت میں ٹھوس منصوبہ بندی کرکے عالم انسانیت کے دلوں اور ضمیر پر دستک کی حکمت عملی کو وضع کرنی چاہیے۔
