وہ ستم گر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا

 ہم توعام خام لوگ ہیں ، راجہ نہیں پرجا ہیں، صاحب اقتدار و اختیار نہیں بلکہ  دبے کچلے مردم نا پائیدار ہیں، اسیلئے تماشائے اہل سیاست دیکھتے ہیں۔مانا کہ یہ تماشہ دیکھتے اور پرکھتے ہیں لیکن اس بارے میں کچھ کہنا اپنے بس کی بات نہیں ۔ کہیں گے تو سیاسی چودھری مونچھوں پر تائو دیکر پیچھے پڑیں گے، وردی پوش درندر جھنڈا ڈنڈا ہاتھ میں لیکر ہمیں دبوچ لیں گے، وطن پرستی کے گیت گانے والے سینگ مار، ترشول بردار گھیرا ڈال کر آلتی پالتی مارنے پر مجبور کریں گے۔اسی لئے ہم کٹتے ہیں ،مرتے ہیں بلکہ دن دھاڑے گولی کا شکار بنتے ہیں اور ہماری طرف سے کوئی سوال نہیں پوچھتا ۔اگر کوئی سوال پوچھتا  ہے تو وہی جو ماضی میں پوچھے گئے سوالات کا جواب نہیں دے پایا ،کیونکہ کل اسکے ہاتھ سے مرے آج دوسروں کے ہاتھوں مر رہے ہیں۔کل وہ ہمارا خیر خواہ بنا پھرتا تھا آج اسے ہمارا دکھ درد ستاتا ہے۔ہم نے تو کرکٹ میدان میں مملکت خداد کا ترانہ گایا تو پکڑے گئے ۔بھلا ہم نے کسی ترانے کی بے عزتی تو نہیں کی کہ دیش دروہہ کا کیس بنتا ۔اسی لئے ہم بس سننے کا کام کرتے ہیں  اور جو کچھ سیاسی قلاباز بولتے ہیں اسے دانائے راز مان کر سر تسلیم خم کرتے ہیں۔اب تو ہماری گردن خم ہوتے ہوتے اس قدر ٹیڑھی ہو گئی ہے کہ سیاسی رہزن ہماری گردنوں کو اپنی نشست بنا کر آرام و سکون سے ہماری ہی چھاتی پر مونگ دلتے ہیں۔وہ ہل چلاتے ہیں ہم واہ واہ کرتے ہیں۔وہ قلم دوات سے فتویٰ لکھتے ہیں ہم لبیک کہتے ہیں۔وہ ہمارے ہی خون سے سینچ کر کنول کے پھول اگاتے ہیں ہم  اف نہیں کرتے۔وہ پنجہ مار کر ہاتھ صاف کرتے ہیں ہم معاف کرتے ہیں۔وہ ہتھوڑے سے ہماری ہڈیوں سے چٹک چٹک آوازیں نکال لیتے ہیں اور ہم ہیں کہ اسے مدھر سنگیت سمجھ کر تال  سے تال ملاتے ہیں ۔ بس تو پھر سنتے جائیے کہ تماشائے اہل سیاست کیا ہوتا ہے۔ ابھی ہل والے قائد ثانی بانوئے کشمیر کی طرفداری کرنے کے لئے الفاظ تول ہی رہا تھا کہ بھارت پاک مذاکرات نا گزیر ہیں  اور یہ کہ پڑوسیوں کے درمیان اور اپنے ملک کشمیر میں امن کی لہر پیدا کرنے کے لئے مملکت خداداد کے نام لو لیٹر بھیجنے کے بجائے اور ڈیٹ کرنے کے بدلے بالمشافہ زبان گیلی کرنی پڑے گی۔منہ سے میٹھے بول بولنے پڑیں گے ۔یعنی کچھ میٹھا ہوجائے کا Jingle  گانا پڑے گا۔ ا سی دوران  اپنے نیشنلی ٹویٹرٹائیگر نے بھری اسمبلی میں للکار کر کہا کہ ملی ٹنٹوں کی ہلاکتوں پر فخر نہ کریں بلکہ تین برس میں کتنے برہان وانی پیدا کئے اس کا حساب دیں۔بات تو صحیح ہے کہاں ہل والی سرکار کا ریکارڈ اس معاملے میں کہیں بڑا اور چوڑا ہے  بلکہ بے حساب ہے۔ غیر مسلح احتجاج کرنے والوں کی گنتی تو سوا سینکڑہ پار کرگئی  پھر قلم دوات والے کیا اپنی کہانی لکھ بیٹھے۔ اپنے ملک کشمیر میں تو کسے نہیں معلوم بے حساب طاقت کا استعمال حکمرانوں کا بڑا پن ہے۔یعنی مارو ،کاٹو، اندھا کرو اور پھر اعلان کرو کہ ہم تحقیقات کریں گے ۔قصور واروں کو سزا دیں گے ۔امن کی بات کرو، تشدد مسلے کا حل نہیں ۔یہی فتویٰ جاری کرو، یہی سیاسی بیان جاری کردو۔یعنی بلے بن کر چوکے چھکے اڑائو  پھر ایمپائر بن کر اپنے طریقے سے آئوٹ کرانے کی انگلی لہرائو۔انگلی جو لہرائی تو مرنے والے کے خلاف ایف آئی آر درج کراو کہ بد قسمت تو سرکار کے خلاف جنگ لڑ رہا تھا۔جب ایسا ہوا تو  مظلوم ملزم بن گیا۔ مارا گیا تو فائل ہی بند ۔البتہ جس نے مارا اسے انعام کے لئے نامزد کرو۔اتنا ہی نہیں نیشنل کے ٹویٹر ٹائگر نے چڑیا اڑا کربانوئے کشمیر کے نام سیاسی نامہ کہہ ڈالا کہ بس تین سال، تیری وزارت کے تین سال ، فقط تین سال یاد کرو اور اپنے  مرد مومن والد کی وزارت کے تین سال سے موازنہ کرو ۔پھر دیکھو پرکھو ۔ کہاں اس کے خواب و خیال کہاں اس کی تعبیر   ؎
یوں نہ خوابوں میں آیا کرو  میرے لیڈرو
دل ہے نازک ہمارا سہم جاتے ہیں گیدڑو
کہاں تمہارے کنول برداروں کی معیت میں تین سال یعنی کہاں ایک ہاتھ میں دوات اور دوسرے میں قلم ۔پھر وزارت کی کامیابیاں تحریر ہوتی تھیں اور اب تو دوات میں روشنائی سوکھ رہی ہے لیکن کنول کو پانی مل رہا ہے۔ادھر اپنے نیشنلی Toothless ٹائگر یعنی قائد ثانی نے بانوئے کشمیر کو شاباشی دی جو بھارت پاک مذاکرات سے متعلق بیان دے ڈالا کہ یہ بات چیت نا گزیر ہے ۔واہ جو کل تک بم بارود کی باتیں کرتے تھے وہ آجکل  امن کی فاختہ اڑا رہے ہیں۔اسے ہی تو تماشائے اہل سیاست کہتے ہیں۔
نیشنل کے ہل بردار تو تین سال کا حساب مانگتے ہیں ہم تو تیس سال کا اکائونٹ ڈھونڈھ رہے ہیں کیونکہ ان برسوں میں تو قلم دوات والے مملکت خداداد  کے رنگ میں رنگ گئے تھے ۔سبز پرچم، سبز لباس بلکہ سبز روشنائی بھی ۔یہاں تو سبز کے نام پر  ہم نے تماشائے اہل سیاست کئی بار دیکھے ہیں۔کبھی سبز رومال میں نمک کی ڈلیاں بندھی تھیں اور پھر سبز پھرن نمودار ہوا ۔کسے معلوم تھا کہ سبز گھاس پر ان کے ساجھے دار بھگوا رنگ چڑھا دیں گے۔اسی لئے تو قلندر نما ممبر نے کرکٹ کھلاڑیوں کے ساتھ سبز کا استحصال کرنے والوں کے خلاف بھی پرچہ کاٹنے کی مانگ کی کہ بے چارے کو گھسیٹ کر ایوان سے بے دخل کردیا   ؎
بدل دوں گا شیرینی سے اپنی تلخ گوئی کو 
کریلے کو چقندر مالٹا کو آم لکھوں گا 
میں کسی لیڈر کو اب ظالم لکھ نہیں سکتا 
اب آئندہ سے تم کو خادم اقوام لکھوں گا
سنا ہے صحافت کے مچھلی بازار میں سب سے باتونی چینل پر بڑا ٹر ٹر ہوا اور ملک کشمیر کی خبر گیری کرنے وہ پہنچ ہی گئے جنہیں ہر کشمیری مملکت خداداد کا ایجنٹ دکھتا ہے ۔اچانک اس چینل کو عوام کی صحت یاد آئی اور وہ بقول کسے ایس کے انسٹچوٹ آف سیاست  کا پوسٹ مارٹم کرنے پہنچے ۔ویسے ہونا تو یہ چاہئے کہ انسٹچوٹ میں بیماری کی تشخیص ہو لیکن الٹا صحافت کے ماہر جراح اپنے آلات لیکر پہنچے اور اندر باہر سب کا آپریشن کر ڈالا ۔پھر کیا تھا اپنی مخلوط سرکار مچھلی بازار کا شور برداشت نہ کر پائی بلکہ اچانک ڈری ڈری ،سہمی سہمی دکھائی دی ۔جو کوئی صحافت کے جراحوں کو بیمار نظر آیا اسے اقتدار اعلیٰ کے دفتر منسلک کردیا مگر اپنے لوگوں کو کب سے ہر بات میں غیر ملکی ہاتھ نظر آتا رہا ہے بھلے وہ امیرا کدل  پل  کی تیز چڑھائی ہو یا گھوڑے بان کی تھکان، پھر سکمز ڈایریکٹر تو بڑی ہستی ہے ۔نیشنل کے ٹویٹر ٹائیگر نے باضابط اعلان کردیا کہ سکمز کی تبدیلیوں میں بھی فارین ہینڈ ہے ۔کیا پتہ فارین ہینڈ میں کوئی "منظور" سیاست ہی پر تول رہا ہو۔
چلو جی اس نے فارین ہینڈ کی بات کی لیکن ہمیں لگتا ہے کہ کنول برداروں کا ہاتھ ضرور ہوگا کیونکہ انہیں تو ہر معاملے میں انگلی کرنے کی بری عادت ہے۔اس حد تک کہ اجتماعوں میں لوگوں کی شرکت بھی بھاجپا والے اپنے حساب سے بڑھا دیتے ہیں جسے عرف عام میں فوٹو شاپ کہتے ہیں۔شاید اسی لئے بعض حزب اختلاف لوگ بی جے پی کو بھارتیہ جن فوٹو شاپ پارٹی کہتے ہیں۔اتنا ہی نہیں بلکہ دوسری سرکاروں کے کام کاج میں بھی مداخلت کردیتے ہیں۔یقین نہ آئے تو یوگی آدتیہ ناتھ کا دوسرے سی ایم کو مشورہ سن لو۔کرناٹک سی ایم اگر ہندو ہے تو بیف بین کردے ۔واہ کیا بات ہے ایک طرف گوا کا وزیر اعلیٰ کرناٹک سے بیف کی در آمد کرنے کا خواہاں ہے اور دوسری طرف شمال مشرق ریاستوں میں بیف بین کی کوئی بات نہیں کیونکہ وہاں انتخابات ہونے والے ہیں۔ارے بھائی یاتو گائے کو ممی رہنے دو یا اسے پوری طرح یمی) (Yummyبنائو ۔ یہ  شہر شہر بانٹنے کی بات کیا ہے۔
یوگی کا مسلہ فقط حیوان ہی نہیں بلکہ رنگ بھی اسے بھگوا چاہئے۔اتر پردیش میں عمارتیں کیا ، گاڑیاں کیا اور اب حج ہائوس کیا ۔سب کا بھگوا کرن کرادیا ۔دروغ بر گردن راوی جس نے ہری ہری گھاس کو بھی بھگوا رنگ کرانے کی کوشش میں گائے کو ناراض کر گئے کیونکہ گائے تو ہری گھاس کے بدلے کوئی رنگ پسند نہیں کرتی۔مطلب رنگ کے معاملے میں گائے اور یوگی کے بیچ ٹھن گئی ۔جس گائے کو یوگی مہاراج ممی پکارتے وہ تو پیار میں کمی کی نشاندہی کر بیٹھی   ؎
نعرے ہر سمت لگے ،شور ہوا،رنگ بدلا
 رنگ بدلتے بھارت میں انسان کی قیمت کوئی نہیں
یہ کنول بردار اب سائینسی معلومات میں بھی انگلی کرنے لگے ہیں ۔کہاں ماضی کے زبردست سائینسدان اور کہاں کنول بردار اہل علم۔اب کی بار مودی سرکار کے ایک چیلے راجھستان کے وزیر تعلیم نے نئی کہانی سنائی تو ہم دنگ نہیں رہے کیونکہ تاریخ تو وہ بدلنے پر پہلے سے تلے ہیں اب تو سائینس بھی نشانہ بنا اور سائینس دان بھی۔وہ جو نیوٹن صاحب تھے ان پر بھی نشانہ سادھا کیونکہ بقول وزیر تعلیم نیوٹن کیا جانے، برہم گپتا  دوم نے نیو ٹن سے ایک ہزار سال پہلے زمینی کشش کا قانون پیش کیا تھا۔مطلب جس سیب کو نیوٹن نے گرتے دیکھا اور قانون ثقل پیش کیا اسے برہم گپتا دوم قاش قاش کوئی ہزار سال پہلے نگل گیا تھا۔
اور چلتے چلتے یہ دلچسپ خبر کہ ایک چینی کمپنی نے ایسا کپڑا ایجاد کیا جس کے پیچھے انسان غائب ہوجاتا ہے۔ایک منٹ کے ویڈیو میں ایک آدمی کو چلتے پھرتے دکھایا گیا لیکن جیسے ہی وہ پردے کی طرح اس کپڑے کو اپنے سامنے ڈالتا ہے تو وہ آدمی غائب ہوجاتا ہے ۔ڈر اس بات کا ہے کہ اگر اس کپڑے کا لباس پہن کر چینی فوجی بھارتی سرحد میں داخل ہوئے تو کیا ہوسکتا ہے ؟ البتہ یاد رہے مال چینی ہے جس کی گارنٹی ہم دینے کو تیار نہیں !!
(رابط[email protected]/9419009169  )