’’ون کوکرُ‘‘…گول میں کیا اس کا شکار رُکے گا ؟

گول//’’ون کوکر‘‘جسے جموںو کشمیر کے علامتی پرندرے کا درجہ دیا گیا کیا اب اس کا شکار ضلع رام بن کے سب ڈویژن گول میں بند ہو گا ۔ اگر دیکھا جائے تو سب ڈویژن گول میں قریباً پانچ سال قبل ان کی خاصی تعداد ہے اگر یہ کہا جائے کہ ہزاروں میں تو بے جا نہ ہو گا کیونکہ پانچ سال قبل لوگ ان کاشکار نہ صر ف کارتوز سے کیا کرتے تھے بلکہ انہیں باقی اسکیموں جیسے ٹوکریوں کو جسے عرف عام میں ’’ڈکھ پل‘‘کہا جاتا ہے یہ لگا کر شکار کرتے تھے اور گول کے ملحقہ جنگلوں کے علاوہ اس دوران یہ بستیوں کا رُخ بھی کیا کرتے تھے لیکن ایک دو سال میں بے جا ان کا شکار ہوا گول میں آسمانی بطخوں یا جنگلی پرندوں یا چوپیائیو ں کا شکار کرنا کوئی جرم نہیں مانا جاتا ہے اور کھلم کھلا ان کا شکار کیا جاتا ہے ۔ جس دسوران ان ’’ون کوکروں‘‘کا بے دریغ شکار کیا جا رہا تھا اگر چہ جموںو کشمیر پولیس سے بھی استدعا کی گئی تھی کہ وہ اس پر روک لگائیں لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا کھلم کھلا و چوری چھپے دن کو ان پرندوں کا شکار کیا جاتا رہا ہے وہیں آسمانی بطخوں کو فروری مارچ کے مہینے میں آتے ہیں ان پرندوں کا بھی بے دریخ شکار ہوا ہے ۔ بزرگوں کا کہنا ہے کہ پہلے یہ آسمانی بطخ یا ہنس ہزاروں کی تعداد میں گول میں آیا کرتے تھے کیونکہ بیرون ملک سے جو یہ آسمانی پرندے کشمیر میں مہمان بن کر جاتے تھے تو یہی وادی گول ان کا اصل راستہ تھا اور یہاں تالابوں ، کھیتوں میں ان کی کافی تعداد ہوا کرتی تھی لیکن آہستہ آہستہ انہوں نے اپنا راستہ بدل لیا کیونکہ ان پرندوں کا بھی یہاں پر بے دریغ شکار ہوا کرتا تھا اور اب اگر کوئی اکا دکا آیا تو اُسے یہیں ہی شکار ہونا پڑتا ہے اور اگر کوئی جھنڈ باہر باہر سے جاتا ہے تو وہ اپنی منزل پار کرنے میں کامیاب ہوتا ہے ۔ یہ آسمانی بطخیں زیادہ تر جھنڈ کی شکلوں میں آتے تھے ایک جھنڈ کی تعداد پچاس ، سو یا زیادہ ہوا کرتی تھی ۔اب سرکار نے ون کوکر کو یو ٹی جموںو کشمیر کا علامتی پرندے کا درجہ دیا ہے کیو اب گول میں اس کے شکار پر مکمل پابندی ہو گی اگر صحیح معنوں میں اس پرندے پر شکار کی پابندی ہو گی تو وہ دن دور نہیں گول میں یہ پرندے سب سے زیادہ تعداد میں ہوں گے اور گول یو ٹی میں ان پرندوں میں سر فہرست ہو گا ۔