ولر کی ماہی گیر بستی | 2بھائیوں کی منفردپہل سیاحوں کے سیر سپاٹے کیلئے شکارامتعارف

عازم جان

بانڈی پورہ// ولرجھیل میں سیاحت کوفروغ دینے کی غرض سے بانڈی پورہ کی ماہی گیربستی زیورمنزسے تعلق رکھنے والے دوبھائیوں نے جھیل میں ایک ’شکارا‘ متعارف کیا ہے تاکہ سیاح شکارے میں جھیل کی سیر کرکے لطف اندوزہوں اور جھیل کے آس پاس کی بستیوں کے لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع دستیاب ہو۔ 42برس کے فردوس احمد بٹ اور 40 برس کے غلام حسن کو ذرائع آمدنی کو بہتر بنانے اور مزید سیلانیوں کو جھیل کی طرف راغب کرنے کاخیال آیا۔ فردوس نے کہا کہ انہیں جھیل کی طرف سیاحوں کو راغب کرنے اور گاؤں کی زندگی اور رزق میں نئی مثالیں شامل کرنے کے مقصد سے شکارا بنانے میں کئی دن لگے۔ مانسہرہ کا حوالہ دیتے ہوئے اس نے کہا کہ فطرت سے محبت کرنے والوں کے لیے مختلف پرندوں اور آبی خوبصورتی کو دیکھنا ایک خواب ہے اور ہماری کوشش تھی کہ اس مقصد کے لیے راستے تلاش کیے جائیں اور ہم اس میں کامیاب ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ زیورمنز میں سیاحت کے وسیع امکانات ہیں اور اس علاقے میں سیاحوں کے قدم جمانے سے بہت سے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار مل سکتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ جھیل میں جو شکارا ہم نے متعارف کرایا ہے وہ ہمارے لئے روزی روٹی کمائے گا۔فردوس نے کہا،’’ولر ایک خوبصورت جھیل ہے۔ ہندوستان کے مختلف حصوں سے کشمیر آنے والے سیاحوں کوولر جھیل کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونا چاہیے کیونکہ اس میں فطرت سے محبت کرنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے تمام خوبصورتی موجود ہے۔‘‘انہوں نے جھیل کو آلودگی سے بچانے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی کیونکہ یہ نہ صرف ہزاروں ماہی گیروں کی آمدنی کا ذریعہ ہے بلکہ ماحولیاتی نظام کا ایک اہم حصہ بھی ہے۔ولرکنزرویشن اینڈمنیجمنٹ اتھارٹی کے ایک اہلکار نے بتایا کہ محکمہ نے مزید چار شکارے دستیاب کرائے ہیں ،جو مقامی لوگوں کو فراہم کیے جائیں گے، تاکہ گاؤں میں مزید روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور جھیل کی خوبصورتی کو دیکھنے میں سیاحوں کومدد ملے گی۔مقامی لوگوں نے بھائیوں کی کوششوں کی تعریف کی۔ بہت سے لوگوں نے اسے جھیل کی بحالی کی طرف ایک عظیم قدم قرار دیا۔ باہر سے سیاح بھی گاؤں میں پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔شکارا کا تعارف پائیدار سیاحت کو فروغ دینے اور جھیل کے تحفظ کی اہمیت کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کی جانب ایک قدم ہے۔ اگرچہ ولرجھیل کی عظمت رفتہ بڑھانے اور سنوارنے کے لئے سرکار نے ایک بہت بڑا پروجیکٹ متعارف کرکے پچھلے دہائی سے ولر جھیل میں کام ہورہاہے اور ابھی بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے لیکن ولر جھیل میں سدھار ہوا ہے ۔ان باتوں کا اظہار جھیل ولر کے کنارے بسنے والے ماہی گیر آبادی نے کیا ، جن کا روز مرہ زندگی گزارنے کا انحصار ولر جھیل ہے۔ صدر کوٹ پائن سودنارہ بانیاری کے لوگوں نے بتایا کہ یو ٹی سرکار نے بلیوارڈ اور فٹ پاتھ تعمیر کرنے کی پہل کی ہے لیکن تعمیراتی کمپنی کام سست رفتاری سے کررہی ہے اور تساہل پسندی سے کام لے رہی ہے جبکہ نگران ایجنسی کے انجینئر بھی اہلیت نہیں دکھا پارہے ہیں ۔ولر جھیل کے کنارے آباد ماہی گیر بستیاں یو ٹی سرکار سے مطالبہ کررہی ہیں کہ ولر جھیل کو سرعت کے ساتھ جاذب نظر بنانے کے لئے مؤثر کاروائی کریں تاکہ سیلانی زیادہ سے زیادہ ولر جھیل کی طرف راغب ہوسکے۔