وزیر دِفاع اور فوجی سربراہ کی گورنر کیساتھ ملاقات ، سیکورٹی صورتحال پر مشاورت

 سرینگر// وزیر دفاع نرملا ستیارمن نے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کے ساتھ میٹنگ میںریاست کی مجموعی سیکورٹی صورتحال اور دراندازی کے علاوہ جنگجو مخالف آپریشنوں اور پنچایتی و بلدیاتی انتخابات پر تبادلہ خیال کیا جبکہ سرحدی علاقوں کے دورے کے دوران دراندازی کو روکنے کیلئے فوج کو متحرک رہنے کی ہدایت دیں۔ وادی میں جنگجویانہ محاذپر حرارت اور بلدیاتی و پنچایتی انتخابات منعقد کرنے کے بیچ مرکزی وزیر دفاع نرملاسیتا رمن اتوار کو فوجی جنرل بپن راوت کے ہمراہ وادی کے دورے پر پہنچی،جہاں انہوں نے سیکورٹی کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا۔فوجی ذرائع کے مطابق نرملا ستا رمن کو شمالی کمان کے فوجی چیف لیفٹنٹ جنرل رنبیر سنگھ،چنار کور کے کمانڈر لیفٹنٹ جنرل اے کے بھٹ اور دیگر افسران نے استقبال کیا۔ وزیر دفاع نے بعد میں سرحدی ضلع کپوارہ کی اگلی چوکیوں کا دورہ کیا، جس کے دوران وہاں تعینات فوجی اہلکاروں اور افسران کے ساتھ تبادلہ خیال کیا گیا۔ دفاعی ترجمان لیفٹنٹ کرنل راجیش کالیہ نے بتایا کہ سرحدی چوکیوں کا دورہ کے دوران’’فوجی کمانڈروں نے زمینی صورتحال اور دراندازی مخالف گریڈ کے بارے میں تفصیلات فراہم کی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اہلکاروں کے ساتھ تبادلہ خیال کرنے کے دوران وزیر دفاع نے لائن آف کنٹرول پر ہمہ وقت  کڑی نگاہ رکھنے کی سراہنا کی۔ ترجمان کے مطابق وزیر دفاع نے’’ فوجی اہلکاروں کو سرحدوں پر نگرانی کیلئے متحرک رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے،کسی بھی دراندازی کی کوشش کو ناکام بنانے پر زور دیا۔ بعد میں وزیر دفاع نے فوج کے سربراہ جنرل بپن رائوت  کے ساتھ گورنرستیہ پال ملک کیساتھ میٹنگ کے دوران امن وقانون کی صورتحال ،جنگجوئیانہ سرگرمیاں ،جنگجومخالف کارروائیاں اوردراندازی کے واقعات زیرغورلائے ۔ایوان گورنر کے ترجمان کے مطابق وزیردفاع نے کہاکہ ریاست میں اندرونی اورخارجی سطح پرامن مخالف عناصرمتحرک ہیں جوحالات کوبگاڑنے کی تاک میں رہتے ہیں ۔ سرکاری ذرائع نے بتایاکہ میٹنگ کے دوران ریاست کی تازہ صورتحال کااحاطہ کیاگیا،اوراسبات کاجائزہ لیاگیاکہ رواں برس ماہ ستمبرسے دسمبرتک کرائے جانے والے پنچایتی اورمیونسپل انتخابات کے انعقاد کوکیسے پُرامن اندازمیں پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے ۔میٹنگ کے دوران بتایا گیا کہ کشمیراورریاست کے دوسرے علاقوں میں بدامنی کوجاری رکھنے کیلئے سرحد پار سے دراندازی کی کوششیں جاری ہیں ،اوران کوششوں کوناکام بنانے کیلئے فوج چوکناہے تاہم اندرون ریاست بالخصوص وادی میں امن مخالف عناصرکی سرگرمیوں کولگام دینے کی ضرورت ہے۔ وزیردفاع نے نئے گورنرکوبتایاکہ مرکزی سرکارریاست میں قیام امن کیلئے کی جانے والی کوششوں ،پنچایتی اوربلدیاتی انتخابات کے کامیاب انعقادہرممکنہ مددفراہم کرے گی ۔اس دوران گورنرستیہ پال ملک نے بتایاکہ فوج نے ریاست میں بحالی امن کیساتھ ساتھ ریاست میں دوسرے محاذوں پربھی اہم رول نبھایاہے۔ادھرریاستی پولیس سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید نے بھی راج بھون میں گورنر کے ساتھ ملاقات کی ۔ ڈی جی پی نے گورنر کو ریاست کی اندرونی سلامتی صورتحال اور پولیس کی جانب سے اپنے اہلکاروں کے لئے عملائی جارہی مختلف سکیموں کے بارے میں جانکاری دی۔اُنہوں نے امرناتھ یاترا کے انعقاد میں ریاستی پولیس کے رول کے بارے میں بھی گورنر کو بتایا۔تبادلہ خیال کے دوران گورنر نے عوام کے لئے امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنا امن اور سلامتی کے لئے لازمی قرار دیا۔ اُنہوں نے زور دے کر کہا کہ اس مقصد کے لئے ریاست میں تمام سیکورٹی ایجنسیوں کو قریبی تال میل کے ساتھ کام کرنا چاہئے ۔