وزیر داخلہ کی آمد پر ہڑتال کی جائے

سرینگر//مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی ، میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کہا کہ حکومت ہندوستان اوراسکی ریاستی اتحادیوں کے ظلم و جبر ،نا انصافیوں اور جبر و تشدد سے عبارت کارروائیوں کیخلاف 10 ستمبربروز اتوار بھارتی وزیر داخلہ کی کشمیر آمد کے موقعہ پر ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام اس روز مکمل ہڑتال کرکے پوری دنیا پر واضح کریں کہ ان کی مبنی برحق جدوجہد کو طاقت اور تشدد کے بل پر دبایا نہیں جاسکتا۔انہوں نے بھارت اور اسکے ریاستی اتحادیوں کی جانب سے کشمیری مزاحمتی قیادت اور عوام کیخلاف جاری جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ طاقت کے بل پر مزاحمتی قیادت کی سیاسی اور پر امن سرگرمیوں کو مسدود کردیا گیا ہے اور حریت پسند قیادت اور عوام کو پشت بہ دیوار کرنے کیلئے ہر غیر جمہوری اور غیر اخلاقی ہتھکنڈے بروئے کار لائے جارہے ہیں اور حریت پسند قیادت کو دبانے کیلئے تشدد آمیز سیاستکاری سے کام لیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں اصل حکمران بھارت کی وزارت داخلہ ہے اور انکی ایما پر ہی کشمیر کا سارا انتظام اور انصرام چلایا جارہا ہے ۔مزاحمتی قائدین نے کہا کہ حکومت ہندوستان ایک منصوبہ بند سازش کے تحت کشمیری قوم کی تذلیل کررہی ہے اور اب کشمیری عوام اور یہاں کی مزاحمتی قیادت کو بدنام کرنے کیلئے بھارتی تحقیقاتی ایجنسی NIA کو یہاں مسلط کیا گیا ہے اور اس کی آڑ میں اس تمام مہم جوئی کا مقصد یہاں کے حریت پسند عوام اور قیادت کو خوفزدہ کرنا ہے ۔ انہوں نے NIA کی جانب سے مزاحمتی رہنمائوں آغا سید حسن الموسوی الصفوی، غلام نبی سمجھی،شوکت بخشی،اور ضمیر ٹھاکر سمیت متعدد مزاحمتی کارکنوں اور تجارت پیشہ افراد کیخلاف مسلسل چھاپوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے حربے یہاں کی حریت پسند قیادت اور عوام کو خوفزدہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔