وزیر خزانہ کی کابینی رفقاء کے ساتھ میٹنگ، مطالباتِ زر پر تبادلہ خیال

 سرینگر//وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب درابو نے اپنی نوعیت کے پہلے اقدام کے طور پر کل اپنے کابینی رفقاء کے ساتھ تبادلہ خیال کیا تا کہ مختلف محکموں میں ترجیحات اور اخراجات مختص کرنے کے کام میں معقولیت لائی جا سکے ۔ وزیر موصوف نے کہا کہ اخراجات ایلو کیشن وزراء کی طرف سے دی جانے والی ترجیحات کی بنیاد پر ہونی چاہئیے نہ کہ تواریخی پس منظر سے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے سے رقومات کے مناسب تصرف کو یقینی بنایا جائے گا اور ترقی کے اہداف بھی حاصل کئے جا سکیں گے ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ معمول کے اخراجات کیلئے ایک نظام ہونا چاہئے کیونکہ ریاستی حکومت رقومات متعلقہ محکموں کے ان پُٹس کے بغیر ہی صرف کرتی ہے ۔یہ پہلی میٹنگ ایڈمنسٹریٹو سروس بشمول محکمہ اطلاعات و رابطہ عامہ ، محکمہ مال ، ڈیساسٹر منیجمنٹ ، ریلیف و باز آباد کاری ، پارلیمانی امور ، قانون و انصاف اور حج محکموں کے مطالباتِ زر پر تبادلہ خیال کیلئے منعقد کی گئی تھی ۔ محکمہ اطلاعات کیلئے گرانٹس مختص کرنے کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر درابو نے کہا کہ جموں کشمیر میں سب سے زیادہ پر کیپٹا اخبارات موجود ہیں اور اخبارات کی تعداد میں بے تحاشہ اضافے سے کئی مفادِخصوصی عناصر پیدا ہوئے ہیں جن سے ریاست میں صحافتی اقدار کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ وزیر اطلاعات چودھری ذوالفقار علی نے کہا کہ محکمہ اطلاعات نئے شعبوں کیلئے وسائل جُٹا رہا ہے جن میں ابھرتے ہوئے صحافیوں کیلئے ٹریننگ کا انعقاد ، ذرایع ابلاغ کے افراد کیلئے دوروں کا انعقاد ، رپورٹنگ کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ، اشاعت ونگ کو بحال کرنا شامل ہے ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ محکمہ خزانہ اس حوالے سے مناسب وسائل فراہم کرے گا ۔ ذوالفقار علی نے کہا کہ محکمہ ابھرتے ہوئے صحافیوں کیلئے تربیتی پروگراموں کا انعقاد کرے گا تا کہ وہ اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بڑھا سکے ۔ میٹنگ کے دوران وزیر قانون نے کہا کہ ریاست میں قانون کی تعلیم کے نظام اور لٹی گیشن میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے ۔ دوسری میٹنگ کے دوران صحت و طبی تعلیم ، سماجی بہبود ، سٹیشنری ، امور صارفین ، تکنیکی تعلیم ، کھیل کود اور محکمہ تعلیم کے مطالباتِ زر پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ میٹنگ میں وزیر تعلیم سید الطاف بخاری ، کھیل کود کے وزیر عمران رضا انصاری ، سماجی بہبود کے وزیر سجاد غنی لون ، کمشنر سیکرٹری اعلیٰ تعلیم ، کمشنر سیکرٹری تعلیم بھی موجود تھے ۔ بخاری نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں پچھلے تین برسوں کے دوران بڑی اصلاحات لائی گئیں اور محکمہ خزانہ سکولوں میں بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کرنے میں ایک اہم رول ادا کر سکتا ہے ۔ سجاد غنی لون نے کہا کہ حکومت سماجی بہبود محکمے میں سوشل آڈٹ کیلئے ایک نظام وضح کر رہا ہے ۔ انصاری نے کہا کہ کھیل کود کی طرف لوگ راغب ہو رہے ہیں اور حکومت کو اس شعبے کیلئے معقول رقومات فراہم کرنی چاہئیں ۔ میٹنگ میں خزانہ کے وزیر مملکت اجے نندا ، پرنسپل سیکرٹری فائنانس نوین چودھری  ، لاء سیکرٹری عبدالمجید بٹ اور دیگر افسران بھی موجود تھے ۔