وزیر اعظم نے بالاکوٹ میں کونسا طوفان برپا کیا؟

سرینگر //نیشنل کانفرنس صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جتنا بھی لوگوں پر ظلم ہو گا اُتنی ہی آگ اور زیادہ بھڑکے گی۔انہوں نے بالاکوٹ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا’’نریندر مودی بتادیں کہ انہوں نے بالاکوٹ میں کون سا طوفان کیا؟ الٹا اپنا ہی جہاز گرا دیا، شکر کیجئے کہ اُس پار والوں نے پائلٹ کو صحیح سلامت واپس بھیج دیا۔ عید گاہ سرینگر میں انتخابی مہم کے دوران نامہ نگاروں کی جانب سے یاسین ملک کی گرفتاری پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فاروق نے کہا ’’مجھے بہت افسوس ہے، اس سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں، جتنا ان پر ظلم کریں گے اُتنی آگ اور بھڑکے گی‘‘ ۔انہوں نے مرکز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا’’ انہیں ایسے کام نہیں کرنے چاہئے ‘‘۔انہوں نے کہا’’ انسان کی الگ سوچ ہو سکتی ہے اور ایسا ہر ایک آزاد ملک میں ہوتا ہے، سب ایک سوچ والے نہیں ہوتے ، مگر اس کا یہ مقصد نہیں کہ جو تمہاری سوچ کا نہیں ہم اُس کو بند کریں،یہ ہندستان کا راستہ نہیں ہے‘‘ ۔انہوں نے کہا ’’ مرکز میں کوئی بھی سرکار آئے اُسے کشمیر مسئلہ پر بات کرنی ہو گی، کیونکہ بات چیت کے بغیر مسئلہ کا کوئی بھی حل نہیں ہے، لڑائی ہمارا راستہ نہیں ہے، ہمیں امن سے راستے ڈھونڈنے ہیں،جس سے دونوں ممالک کی اور ہم کشمیروں کی عزت رہے‘‘ ۔اس سے قبل ڈاکٹر فاروق نے عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا’’ جب ہم کشمیریوں پر مظالم ہوتے دیکھتے ہیں ہم اپنے آپ کو قابو نہیں کر پاتے ہیں اور مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کی وکالت کرتے ہیں، یہ تعمیر و ترقی یا مالی پیکیج کا مسئلہ نہیں،یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے جس کا حل صرف بات چیت سے ہی نکل سکتا ہے لڑائی سے نہیں۔ ایک طرف پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان بار بار کہتے آرہے ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان کو آپس میں مل بیٹھ کر تمام مسائل کا حل نکالنا چاہئے اور ساتھ چل کر ترقی کرنی چاہئے جبکہ دوسری جانب ہمارے ملک کے وزیر اعظم وہی پرانی رٹ لگائے بیٹھے ہیں اور ہر جگہ بالاکوٹ بالاکوٹ بولتے رہتے ہیں۔انہوں نے کہا دونوں ممالک کی تلوار ہر وقت ہماری گردنوں پر لٹکتی رہتی ہے۔ڈاکٹر فاروق نے مرکز سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں پر مظالم بند کیجئے۔انہوں نے کہا کہ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ کل سرینگر جموں شاہراہ پر ٹریفک روکا گیا اور درجنوں گاڑیاں ٹنل میں پھنس گئیں، جن میں بچے اور خواتین بھی سوار تھیں، ایک طرف بی جے پی اور آر ایس ایس ملک کو بانٹنا چاہتی ہیں اور دوسری جانب جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کے اعلانات کئے جارہے ہیں اور اس کیلئے وادی کے اندر مقامی آلہ کار بھی کام پر لگائے گئے ہیں۔ ہمیں ان آلہ کاروں کو ریاست بدر کرناہوگا ۔انہوں نے کہا کہ بھاجپا کے 5سالہ دورِ حکومت کے دوران جو نفرت پیدا کی گئی ایسا ماضی میں کبھی دیکھنے کو نہیں ملا۔