وزیر اعظم مودی کی سرینگر آمد 7مارچ کو بخشی سٹیڈیم میں عوامی ریلی سے خطاب کا پروگرام

 عظمیٰ نیوز سروس

سرینگر//وزیر اعظم نریندر مودی 7 مارچ کو اپنے کشمیر دورے کے دوران سرینگر کے بخشی سٹیڈیم میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کر یںگے۔ وزیراعظم کی ریلی کا مقام ایس کے آئی سی سی سے بدل کر بخشی سٹیڈیم کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ ریلی کے پرامن انعقاد کے لیے انتظامی اور سیکورٹی دونوں طرح کے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ بخشی سٹیڈیم کو مقام کے طور پر چنا گیا ہے کیونکہ پی ایم مودی کے پروگرام میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت متوقع ہے۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ بخشی سٹیڈیم کے ارد گرد سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے، جو ان کی ریلی کا نیا مقام ہے۔ سری نگر کے دیگر حصوں میں نگرانی کو بڑھا دیا گیا ہے اور لوگوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے اضافی چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں۔اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد مودی کا وادی کا یہ پہلا دورہ ہوگا۔

 

آخری بار وزیر اعظم نے فروری 2019 میں کشمیر کا دورہ کیا تھا۔7 مارچ کو کشمیر کے اپنے دورے کے دوران، مودی سے توقع ہے کہ وہ کئی ترقیاتی پروجیکٹوں کا اعلان کریں گے اور وادی میں مختلف قومی سکیموں اور پروگراموں کے استفادہ کنندگان سے بھی بات چیت کریں گے۔بی جے پی اننت ناگ ضلع میں پی ایم مودی کی طرف سے خطاب کرنے والی ایک میگا عوامی ریلی کا انتظار کر رہی ہے تاہم ابھی تک اس بات کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ آیا وزیر اعظم اننت ناگ میں ریلی سے خطاب کریں گے یا نہیں۔اس سے پہلے پی ایم مودی نے 20 فروری کو جموں کا دورہ کیا تھا۔وزیر اعظم کے 7مارچ کے دورے کے حوالے سے بھارتیہ جنتاپارٹی کے جنرل سیکریٹری (آرگنائزیشن) نے جمعہ کے روز کہاکہ 7مارچ کو نریندر مودی سرینگرکے بخشی سٹیڈیم میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کریں گے۔ جموں میں نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران اشوک کول نے کہاکہ وزیر اعظم مودی کا دورہ کشمیر غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم دورے کے پیش نظر بی جے پی نے تیاریوں میں جٹ گئی ہے اور سرینگر جلسے کو یادگار بنانے کی خاطر زمینی سطح پر اقدامات کئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کی پانچ نشستوں کے ممکنہ امیدواروں کی فہرست پارٹی ہائی کمانڈ کو بھیج دی گئی ہے۔ان کے مطابق پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کی جیت یقینی ہے اور اس بار کشمیر میں بھی کنول کا پھول کھلے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ بھاجپا نے پارلیمانی چنائو کے لئے بڑے پیمانے پر تیاریاں شروع کی ہیں۔