وزیراعلیٰ بھاجپا کے ساتھ اتحاد توڑ دے:مفتی ناصر

 سر ینگر//گنہ پورہ شوپیاں میں 2نوجوانوںکی ہلاکتوں کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے مسلم پرسنل لاءبورڈ کے ممبر اور مفتی اعظم کے فرزند نے وزیراعلیٰ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ریاست سے افسپا ہٹانے اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کے سلسلے کو روکنے کیلئے سختی کے ساتھ اقدامات کرے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اپنا اتحاد ختم کر دیں ۔انہوں نے کہاکہ بھارت نے ریاست پر زبردستی اپنا تسلط قائم کیا ہے اور بھارت کو ہر حال میں ریاست سے جانا پڑیگا ۔لوجہاد ،گاو¿ کشی اور سہ طلاق کی آڑ میں بھارت کے مسلمانوں کو ڈرایا دھمکا کر ملک میں اذیتیں پہنچا ئی جا رہی ہیں اور اگر اس نابرابری کے سلسلے کو نہیں روکا گیا تو مسلمان الگ ملک کا مطالبہ کرنے سے گریز نہیں کریں گے ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم پرنسل لاءبورڈ کے ممبر اور مفتی اعظم مفتی بشیر الدین کے فرزند ناصر الاسلام نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو مشورہ دیا کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اپنا اتحا د ختم کر دیں ،شوپیاں میں نوجوانوں کی ہلاکتوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حکومت کی جانب سے عدالتی تحقیقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ یہ لوگوں کے آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے تاکہ عام شہریوں کی ہلاکتوں پر غم و غصہ ظاہر کرنے کیلئے وادی کے لوگ ایک دفعہ پھر سڑکوں پر نہ آجائیں ۔ ناصر الاسلام نے کہا کہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی جو بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت چلا رہی ہیں کو چاہیے کہ وہ سپیشل آرمز ایکٹ اور دوسرے کالے قوانین کو ختم کرنے کیلئے اپنا رول ادا کرے ۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی اختیارات کی وجہ سے ہی عام شہریوں کے ہلاکتوں کے واقعات رونما ہو رہے ہیں ۔ مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہوںنے کہا کہ طاقت کے بل بوتے پر حالات کو بہتر نہیں بنایا جا سکتا ہے ۔انہوںنے بھارت کو ناجائیز قبضہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہاکہ 6دہائیوں سے ریاست کے لوگ حق خود ارادیت کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں تاہم لوگوں کو اپنے پیدائشی حق سے دور رکھنے کیلئے ظلم و بربریت کا نشانہ بنا یا جا رہا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ بھارت کو کشمیر سے ایک دن ضرور جانا پڑیگا کشمیر بھار ت کا حصہ نہیں ہے ۔ پریس کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت میں مسلمان دوسری بڑی اقلیت ہے اور مسلمانوں کے ساتھ نابرابری کا سلسلہ نہیں روکا گیا تووہ ایک الگ ملک مطالبہ کرنے سے گریز نہیں کریں گے ۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان میں 17کروڑ مسلمان رہائش پذیر ہیں اور وہ ایک ملک کی حیثیت سے نقشے پر موجود ہے بھارت میں مسلمانوں کی آبادی اس سے زیادہ ہے تاہم انہیں لو جہاد ، گاو¿ کشی اور سہ طلاق کی آڑ میں حراساں کر کے ان کی نشل کشی کی جا رہی ہیں اور ان کے خلاف سازشیں رچائی جا ری ہیں ۔انہوںنے مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے ساتھ عدم رواداری کا جو سلسلہ شروع کیا گیا ہے اسے فوری طور پر روک دیا جائے اور مسلمانوں کو عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا جائے ۔