وزیراعظم کا دورۂ کشمیر: مزاحتمی قیادت کااحتجاجی پروگرام جاری

سرینگر//مشترکہ مزاحمتی قیادت نے وزیراعظم ہند نریندر مودی کے مجوزہ دورہ ریاست کے پیش نظر احتجاج درج کرنے کیلئے 19مئی سنیچر کو لالچوک کی طرف پیش قدمی کرنے کی اپیل کرتے ہوئے حالیہ ہلاکتوں کے خلاف اقوام عالم کی توجہ مبذول کرانے کیلئے زور دار احتجاج کرنے کیلئے کہا ہے ۔اس ودران مشترکہ قیادت نے مرحوم مولوی محمف فاروق اور مرحوم عبدالغنی لون کی برسیوں کی مناسبت سے 21مئی کو مکمل ہڑتال کی اپیل کی ۔سید علی گیلانی ،میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے سوموار کو منعقدہ میٹنگ کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ حیدرپورہ میں منعقدہ ایک غیر معمولی نشست میں ریاست جموں کشمیر کی خون آشام سیاسی صورتحال پر تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے حریت پسند عوام کے نام اپیل میں 19؍مئی بروز سنیچر تاریخی لالچوک کی طرف پیش قدمی کرکے اس روز بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ ریاست کے خلاف اپنا پُرامن احتجاج درج کریں۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے احتجاجی مظاہرہ کرنے کی تفصیلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس روز چونکہ بھارت کے وزیر اعظم ریاست کا دورہ کرکے بیرونی دنیا کے ساتھ ساتھ بھارت کے عوام کو بھی یہ تاثر دینے کی کوشش کریں گے کہ ریاست جموں کشمیر کے لوگ بھارت کے ساتھ خوشی خوشی اپنی زندگی گزاررہے ہیں، جبکہ زمینی صورتحال جہنم زار بنی ہوئی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ افواج نے پوری ریاست بالخصوص ضلع شوپیان، اسلام آباد، کولگام اور پلوامہ کے مضافاتی علاقہ جات کو میدان جنگ میں تبدیل کردیا ہے۔ عسکریت پسندوںکے خلاف خانہ تلاشیوں کی آڑ میں عام لوگوں پر بندوق کے دہانے کھول کر خونین جنگی کارروائیوں میں آئے روز شدت لائی جارہی ہے۔ عام لوگوں کو خوف وہراس میں مبتلا کیا جارہا ہے، یہاں تک کہ حریت پسند سیاسی راہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف جنازوں میں شرکت کرنے کی پاداش میں بدنامِ زمانہ پبلک سیفٹی ایکٹ کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے انہیں اپنے گھروں سے دور جیل خانوں میں مقید کیا جاتا ہے۔ مشترکہ قیادت نے افواج اور انتظامیہ کے ہاتھوں حریت پسند عوام کے خلاف قتل وغارت گری کا بازار گرم کرنے، جیلوں میں مقید نظربندوں پر جسمانی تشدد ڈھانے، اظہارِ آزادیٔ رائے پر مکمل پابندی عائد کرنے اور جملہ انسانی حقوق کو پامال کئے جانے کی سامراجی اور نوآبادیاتی کارروائیوں کے خلاف 19؍مئی کو لالچوک میں دن بھر پُرامن احتجاجی مظاہرے میں شرکت کرنے کیلیے ریاست کے اطراف واکناف سے عام لوگوں کو تشریف لانے کی گزارش کرتے ہوئے کہا کہ اس روز اقوامِ عالم کے سامنے اپنے جائز مطالبۂ آزادی کو فلک شگاف نعروں کی گونج میں ایک بار پھر پیش کیا جائے گا جس کے لیے پچھلے 70برسوں سے بے مثال قربانیاں دی گئی ہیں۔ مشترکہ قیادت نے اس روز تمام کاروباری ادارے اور دفاتر کو مکمل طور بند رکھنے کی اپیل کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ لالچوک کا رُخ کرنے کے دوران نوجوان رضاکارانہ خدمات انجام دیکر نظم وضبط کو ہر حال میں بنائے رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے اجلاس میں تحریک حقِ خودارادیت کے حوالے سے آئندہ ایک ٹھوس لائحہ عمل تیار کئے جانے کیلیے ایک چھ رُکنی کمیٹی تشکیل دی گئی جو آنے والے ایام میں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے ذمہ دار اداروں بشمول مرکزی وضلع سطح کی ٹریڈرس فیڈریشن، بار ایسوسی ایشن، سول سوسائٹی، ایمپلائز یونین، ٹرانسپورٹ یونین، سٹوڈنٹس یونین، دانشور، صحافی، قلمکار حضرات کے علاوہ جملہ مذہبی انجمنوں کے سربراہوں اور سرکردہ اوقاف اداروں سے جامع اور وسیع البنیاد مشاورت کے بعد مزاحمتی قیادت کے سامنے اپنی تجاویز پیش کرے گی جس کے بعد آئندہ لائحہ عمل کو قوم کے سامنے پیش کیا جائے گا۔اس دوران مشترکہ مزاحمتی قیادت نے مرحوم  مولوی محمد فارق ، مرحوم خواجہ عبدالغنی لون اور شہدائے حول کے ایام شہادت کی مناسبت سے  21؍مئی کو مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کرنے کی اپیل کی ہے، جبکہ اس روز جملہ شہدائے کشمیر کو خراج عقیدت ادا کرنے کے لیے عیدگاہ سرینگر میں ایک عظیم عوامی جلسہ منعقد کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔