’’وجودِ زن اور تصویر ِ کائنات‘‘کا جائزہ

  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نام کتاب: وجود زن اور تصویر کائنات
مصنفہ: روبی نسا خان
صفحات:145،اشاعت:2021
ناصر:میزان پبلشرسرینگر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سماج کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد سماجی فلاحی وبہبود ی کے لئے ،معاشرتی توازن،سیاسی نظام،معاشی صورت حال اور دیگر شعبوںمیں خواتین کے کردار کی اہمیت اور افادیت پر ہمیشہ زور دیتے ہیں کیونکہ سماج میںخواتین کی اہمیت اور عظمت  کو نظر انداز کرنے کا تو کوئی جواز ہی نہیں۔عورت ہر روپ اور ہر رشتہ میںوفاداری کی علامت ،مونس و غم خواراور محبت کا پیکر سمجھی جاتی ہے۔  زیر نظر  کتاب ’’ وجود زن  اور تصوریر کائنات  ‘‘ میں بھی  روبی نساء خان نے عورت کے مسائل و مشکلات پر تفصیل  سے بات کر نے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے جو کہ 15 ابواب پر مستمل ہے۔ جن کے عنوانات ،مفہو م و مطالب، سیاسی میدان میں خواتین کی شمو لیت، خواتین کے تناسب میں کمی ،تعلیم ، گھر یلو تشدد ، زچگی حقوق ، کم عمری  میں شادی ،خواتین کے ساتھ استحصال  کی انتہا ،۱۸ جنوری ۲۰۱۹ کا لل دید سانحہ ، صفر فی  صدا سٹا پ ڈیوٹی ،cyber crimes ،خوابوں کی تعبیر  ،عورت کے خواب اور پیغام ہیں۔ لفظ ’’عورت ‘‘ کو مختلف معنی میں وضاحت کی گئی ہے۔اگر کسی کامیاب انسان کے پس منظر میں کسی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے تو یہاں عورت کو کامیابی کی  سیڑھی قرار دیا جاتاہے ۔  اس سے ظاہر ہوا کہ عورت کے وجود میں کہیں نہ کہیں قوت عظمی ضرور موجودہیں۔عورت کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے روبی نساء خان لکھتی  ہیں:’’مستور عربی کا لفظ ہے اور اس کے  معنی پوشیدہ ے یعنی ڈھکی چھپی چیز کے ہیں ۔مستووات لفظ مستور سے تشکیل میںآیا ہے۔مستورات یعنی خواتین۔ بہت سی خواتین  اپنی ذات  کے معنی  و مفہوم  نہیں جانتی ہیں۔ویسے عوت بھی عربی کا لفظ ہے اور اس کے معنی چھپے ہوئے اعضاء کے ہیں۔۔عوت صنف نازک بھی ہے اور صنف بہتر بھی۔ عورت اپنے قدموں تلے جنت رکھنے  والی ہے۔۔۔جو مرد کو زندگی کے معنی سمجھاتی ہے  اور اسے زندہ رکھنے کا  محرک بنتی  جس کی  معنویت صرف  مرد سمجھتا ہے‘‘۔(وجود زن او ر تصویر کائنات ۔۔ص۔۔7 ) ۔اب اگر عورت زندگی کے معنویت سمجھانے میں مہارت رکھتی ہے  توپھر کیوں اور کیسی اس کی ذات میں احساس کمتری نے جنم لیا۔اس سلسلے میں یہ تہمت مردوں پر لگائی گئی ہے یاپھر عورت ہی عورت کی دشمن  ثابت ہوئی ہے۔یہ وہ مسلہ ہے جسے حل کرنے کے لیے روبی نسا ء  خان نے  کتاب میں ایک چھوٹی سی گزارش کی  ہے کہ سماج کے باشعور افراد خود پہچانیں ، خود شناخت کریںاور خود غور فکر کریںنیزعورت کی اس  صورت حال کا  جائرہ لے جس کو  ہر وقت  آلودہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عورت کی اس صورت حال کو مدد نظر رکھتے ہوئے روبی نساء رقمطراز ہیں:’’خواتین کو یہ کہہ کر وارثت  کے حق سے دور رکھا جاتا ہے کو ہم نے تو آپ کی شادی  دھوم دھام سے کی تھی ، شادی  میں زیور اور کپڑا بھی دے تھا۔اب وراثت کیسی ؟ وارثت مانگو گی  تو میکے والوں سے کٹ کر رہ جائو گی ۔۔تمہاری  زندگی میں کچھ بھی ہوجائے ۔۔پھر کبھی میکے کے دروازے پر مت آنا، اگر یہاں سے اپنی وراثت مانگو گی  تو سمجھ لو تم نے تو اپنا میکہ ہی بیچ دیا۔اس طرح خواتین کو مختلف طریقوں سے ڈرا کر اس کے حقوق چھین لئے جاتے ہیں‘‘۔( وجود زن او ر تصویر کائنات۔ص۔32) 
عورت کا ا صل اور حقیقی حسن ، اس کا حیا  اور نسوانیت ہے پھر یہی خصوصیات نشا نمو پاکر محبت ،وفا ،اخلاص ،  اور انس جیسے با وقار جذبوں کی شکل وصورت  میں ظاہر ہوتا ہے۔یہی وہ خصوصیات ہیںجس کی روشنی سے تصویر کائنات  میں رنگینی پیدا ہوتی  ہے۔ایک عورت جب ماں کادرجہ اختیار  کر لیتی ہے تو اس کے بعد بچے کی نہ صرف پرورش و پرداخت اور رہنمائی کا فریضہ انجام دیتی ہیں بلکہ زچگی کے دوران  کئی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے اور اپنے اس وجود کے ٹکڑے کو ہر آفت سے محفوظ رکھتی ہے تاکہ دونوں کی زندگی میں تندرستی  قائم رہی ۔بقول روبی نسا خان :’’دیگر حقوق  کی طرح خواتین کے بنیادی حقوق میں زچگی کے حقوق کافی اہمیت کے حامل ہیں۔سرکاری سطح پر کام کرنے والی حاملہ خواتین کو آٹھویں  مہینے سے لے کر پہلے چھ مہینے تک پورے تنخواہ کے ساتھ چھٹی ملتی ہے۔تاکہ اس عرصے  میں وہ اپنا اور اپنے بچے ک اچھی طرح سے خیال رکھ سکے ۔اس کے بعد وقتا فوفتا دو سال کے عرصے تک ان کو چھٹی دی جاتی ہے  تاکہ وہ بچے کی نگہداشت کے ساتھ ساتھ اس کو صحیح طریقے  سے دودھ بھی  پلا سکے ‘‘۔(  وجود زن او ر تصویر کائنات ۔ص۔87 )
    خواتین کو عزت و احترام سے نوازنا دراصل انسانیت کے احترام کے مترادف ہے ۔اگر ہم اپنی ماں کو عزت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں تو دنیا کی ہر خاتون کا احترام کرنا ہمارے لئے لازمی بن جاتا ہے ۔مختلف طریقے اپنا کر عورت کا  استحصال کرنا اور اسے کمزور وحقیر سمجھ کر اس زندگی کو تباہ و برباد کرنا ،ایک قو م کو برباد کرنے کے برابر ہیں۔اسلام نے ایک صالح معاشرے کی بنیادرکھی جہاں عورتوں کے حقوق کو غضب کرنا،  عورتوں پرظلم وجبر کرنا ،طاقت کابے جا استعمال کر کے بیٹیوں کی ولادت کو باعث رسوائی سمجھنا ایک سنگین  جرم قرار دیا ہے۔ انسان تو انسان بلکہ ہر چرند و پرندکے حقوق کا احترام کرنے کی تلقین کی  ہے۔اس کے پس منظر میں روبی نساء  لکھتی ہیں :’’سماج کو یہ بات ایمانداری سے تسلیم کرنی پڑے گی کہ عورت کسی بھی طریقے سے کم تر نہیں ہے۔ اور نا ہی اس کے استحصال کرنے کی اب کوئی گنجائش  ہے۔۔۔۔یوں تو دیکھنے سننے میں یہی  آیا ہے کہ اکثر جرائم  مرد حضرات ہی انجام دیتے ہیں لیکن جب ان سب چیزوں کا جائزہ باریک بینی سے لے جائے تو پتہ چلتا ہے کہ عورتیں بھی کئی قسم کے جرائم میں ملوث رہتی ہیں۔خصوصا اس کی وجہ حسد یا جلن ہوتی ہے‘‘(  وجود زن او ر تصویر کائنات۔ص۔104 )
 اسلام نے عورت کو ایک اعلی مقام عطا کیا جوقیامت تک ہمارے بہنوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ علاوہ ازیں خواتین کو  ایک ایسے  اعلی طرز حیات وتعلیم سے سنوارا جس سے انھیں دنیا و آخرت  میں کا میابی حاصل ہوسکتی ہے۔ معاشرے کے توازن کو برقرار رکھنے کے لئے ہمیں خواتین کی فلاحی و بہبودی کو بر قرار رکھنے کے لئے ان کے نیک ارادوں کو مزید قوت بخشنے ہوگی کیونکہ ایک  صالح معاشرہ تبھی وجود میں آسکتا  ہے جب مرد کے ساتھ ساتھ اس میں  لیک عورت کا بھی عمل دخل ہو۔ بقول  روبی نساء خان :’’آپ دوسروں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں۔اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی ذات کیا ہے؟  آپ کا وجود کیا ہے؟ لہذا ہر عورت کی عزت کرناا سیکھئے اور اپنے لئے عزت کمائے ۔۔اس ذات کی قدر جانئے  جو آپ کو دنیا  میں لے آئی ہیں ۔۔ایک وہ عظیم ہستی  جس کی وجہ سے آپ دنیا دیکھ رہے ہیں‘‘۔(وجود زن اور تصویر کائنات۔ص۔ 142 )
 ’’وجود زن اور تصویر کائنات ‘‘کے مطالعے ومشاہدے کو مدد نظر رکھتے ہوئے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ روبی نساء خان کشمیر میں تاننثیت کی ایک ؔ محترم آواز ہیں اور ان کا تجربہ قابل قدر ہے انھوں نے خواتین  کے معاملات و مسائل پر غور فکر کرنے کی دعوت دی ہے تاکہ وجود زن سے تصویر کائنات کی چمک دھمک بر قرار رہیں۔ لہذا سماجیات میں اس کتاب کی خاطر خواہ پذیرائی یقینی ہے۔
(  رعناواری سرینگر،رابطہ۔8899037492 )