وبائی قہرمیں بچوں کی ذہنی صحت کا خیال رکھیں

اب لگ بھگ دو سال سے زیادہ عرصہ بیت چکا ہے، جب سے ہم کووڈ وباء میں جی رہے ہیں۔ سماجی افراتفری، سیاسی افراتفری، اقتصادی افراتفری اور ذہنی افراتفری نے لوگوں کو ہر طرف سے گھیررکھا ہے۔ ان سب میں ذہنی امراض نے لوگوں کو اپنے شکنجے میں زیادہ جھکڑا ہے۔ اس بیماری کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑرہاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے تناو اور افراتفری کو نہ سمجھ پاتے ہیں اور نہ ان میں اس قسم کے امراض سے مقابلہ کرنے کا شعور ہوتا ہے۔ اس سے ان کی پوری زندگیاں متاثر ہوتی ہیں۔ پرندوں جیسی آزاد زندگی گزارنے والے بچے جب لاک ڈاون کے زیر اثر آتے ہیں، تو ان میں ذہنی انتشارکے امکانات بڑھ جاتے ہیں ،جن سے چھٹکارا پانے کے لئے ایسے ایسے راستوں کا انتخاب کرتے رہتے ہیں، جس سے انفرادی، گھریلو اور معاشرتی سطحوں پر بگاڑ پیدا ہوجاتا ہےاور نتائج تباہ کں ثابت ہوتے ہیں۔ 
        ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ کہ یہاں پر ذہنی امراض اور مریضوں کو سماج سے جدا سمجھا جاتا ہے اور اس قسم کی بیماریوں کو ایک ناقابل ذکرگناہ سمجھا جاتا ہے۔  مختلف بیماریوں میں مبتلا لوگوں کو ایک نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جبکہ ذہنی امراض میں مبتلا افراد کو دوسری نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔بلکہ انہیں شرمندگی کا باعث سمجھا جاتا ہے۔بظاہر تو موجودہ دور میں چھوٹوں سے لے کر بڑوں تک ہر کوئی ذہنی انتشارمیں مبتلا ہو سکتا ہے۔ مگر فرق صرف اتنا ہے کہ بڑے تو کسی حدتک اس کا مقابلہ کرنے کی ہمت رکھتے ہیں مگرکم عمر اور چھوٹے بچے کسی بھی طرح اس صورتحال سے نبردآزما ہونے کے لئے تیار نہیں ہوتے ہیں۔ اس کے پیچھے بہت سارے وجوہات کا عمل دخل ہوسکتا ہے، مگر سب سے بڑی وجہ یہاں کا معاشرتی نظام ہی ہے۔ یہاں جس چیز کو فوقیت دینی ہوتی ہے، وہ آنکھوں سے اوجھل رہتی ہے۔ یہاں پہلے دن سے سکھایا جاتا ہے کہ سب بیماریاں تو بیماریاںہیں، مگر ذہنی امراض ،بیماری نہیں بلکہ ایک ایسا خوفناک روگ ہے،جس کا کوئی علاج ہی نہیں،گویا یہ پردے کے پیچھے چھپانے والا گناہ ہے۔ اس بات کو یکطرفہ رکھ کر اصلی موضوع پر آتے ہوئے اب یہ بات زیادہ اہمیت کی حامل ہے کہ ایسےبچوں کا خیال کیسے کیا جائے، جب دن بہ دن صورتحال بدتر ہوتی جارہی ہے۔ 
       ہمیں چاہئے کہ ذہنی انتشار کے شکار بچے کو انتہائی شفقت سے یہ بات ذہن میں بٹھائی جائے کہ یہ کوئی ایسا روگ نہیں جس کا علاج نہ ہوسکے۔بلکہ اُس کے ذہن میں یہ بات بٹھائی جائےکہ اُسے کوئی بیماری ہی نہیں ہے ۔البتہ احتاطاً وبا کے اس دور میں دوسرے بچوں سے دور رہنا ہے تاکہ بیماری نہ لگ جائے۔بچوں میں ایسا حوصلہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ مصیبتوں سے گزرنے کے قابل بن سکےاور انہیں بتایا جائے کہ مشکلوں کا مقابلہ کرنا ہی زندگی کا نام ہے۔ لاک ڈاون جیسی صورتحال سے مقابلہ کرنا زندگی کا ایسا باب ہے، جس میں پڑھنا،لکھنا بھی ضروری ہے اور اس سے ایسے اسباق حاصل کرنابھی لازمی ہےجو زندگی گزارنے میں کام آسکیں۔ تواریخی لحاظ سے بچوں کو علم دینا ضروری ہے کہ اس سے پہلے بھی وبائی بیماریاں ہوا کرتی تھیں اور پھر بھی لوگ جیا کرتے تھے۔ ان کو اس بات کا صحیح ادراک ہونا چاہئے کہ وباء زندگی کا ایک ضروری حصہ ہے، جو وقت وقت پر آکر ہمیں جگا دیتے ہیں کہ انسان کو سماج میں کیا کرنا چاہیے۔ دوسروں سے اس کا رشتہ کیا ہے۔ اگر باہمی رشتوں کے درمیان کوئی دراڑ پیدا ہو جائے، تو اس کا اثر کیا ہوتا ہے۔یعنی اپنے گھر میں ایک ایسا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے،جس میں چھوٹے بچے اپنی ہر بات دل کھول کر کرسکیںاور بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے آپ اپنے الفاظ بول سکیں تاکہ اُن کے دل کا بوجھ ہلکا ہو سکے۔اس طرح اُن میں دوسروں پر بھروسہ کرنے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جو چیز ضروری ہے وہ ہے کہ بچوں کو بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ یہ سمجھایاجانا چاہئے کوئی بھی بیماری کسی انسان کے لئےکوئی شرم کی بات نہیں ہے۔ یہ محض حالات اور کچھ دوسرے وجوہات کے نتائج ہوتے ہیں، جو ذہنی دباؤ  دوسری قسم کی بیماریوں کے روپ میں سامنے آتے ہیں۔ ان کو اس بات کی طرف مائل کرنا چاہیے کہ جو بھی ذہنی امراض میں مبتلا ہیں، ان سے انسانی روپ میں بات کرنی چاہیے۔ ان کو دھتکارنا دانائی کا کام نہیں ہے۔ اس سے اس قسم کی بیماریوں کے پھیلنے کے اسباب زیادہ ہیں۔ مزید یہ ہے کہ بچوں کو بچپن سے ہی وہ طریقے بتائے جائیں جس سے ایک انسان ذہنی امراض سے دور رہ سکتا ہے۔ وہ کونسے وجوہات ہیں جو ان امراض کے محرک ثابت ہوتے ہیں۔وہ کون لوگ ہیں جن سے ایک بچے کو ملنے اور زندگی گزارنے سے پرہیز کرنا چاہیے، جو ذہنی امراض کے باعث بن جاتے ہیں۔ کون سی ایسی نشانیاں ہیں، جس یہ پتہ چلے کہ ایک انسان ذہنی مرض میں مبتلا ہے۔ سب سے آخر میں جو بات ضروری ہے وہ یہ کہ ایسا ماحول ترتیب دیا جائے، جس سے ذہنی امراض بڑھنے کے امکانات کم ہو جائے۔ سیاسی اور سماجی سطحوں پر ایسے اقدامات اٹھائے جائیںکہ جس سے یہ ممکن ہوسکے کہ کم سے کم لوگ اس میں مبتلا ہو جائے۔ تنگ نظریات ، حسد ، بغض ، کرپشن ، مذہبی جنون،دیگر بُرائیوں سے جتنا ہوسکے پرہیز کیا جائے۔ سیاسی سطح پر بھی کوششیں کی جائیں کہ افراتفری کا ماحول بہت حدتک کم ہو،تاکہ لوگ خصوصاً کم عمر اور چھوٹے بچے آزاد ی محسوس کرسکیں۔ 
والدین پر لازم ہے کہ وقت کی نزاکت کو دیکھ کر ہر وہ کام کرنے کے پابند رہیںکہ جن سے بچوںکا فکر عمل برقرار رہ سکیںاور اس وبائی دور میں اُن کے ذہنی توازن متوازن رہ سکے۔  معاشرے کے سبھی ہمارے اپنے بچے ہیں، ان کا خیال کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ان سے محبت سے پیش آنا انتہائی ضروری ہے۔ ان کی غلطیوں کو نظر انداز کرکے انہیں صحیح اور درست سمت میں چلانے میں رہبری کرنے کی ضرورت ہے۔آیئے، ہم سب اپنی انفرادی سطح پر ان بچوں کی بھلائی کا خیال کریں۔