وبائی دور اور شادیوں کا سیزن | جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنے کیلئے احتیاط لازمی

ایک ایسی صورت حال میں جب ایک طرف تقریباًساری دنیا ’کرونا وائرس‘ کے قہر کی تباہ کاریوںسے بُری طرح تلپٹ ہوچکی ہے اور دوسری طرف کچھ ممالک کی جانبدارانہ اور نسل پرستانہ پالیسیوںسے ایک بڑے عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے تواِن حالات میں بھی کشمیری قوم سنت ِنبوی ؐکی پیروی کرتے ہوئے نکاح خوانی کی مبارک مجلسوںکا سلسلہ جاری رکھی ہوئی ہیںاور اس طرح اپنی اس وادی ٔ کشمیر میں شادیوں کے سیزن میںتقریبات کے انعقاد کا سلسلہ بھی تسلسل کے ساتھ چل رہا ہے۔شہر ِ سرینگر میں شادی بیاہ کی تقریبات کے انعقاد کا سلسلہ اگر چہ ہر سال ماہِ اپریل سے ہی شروع ہوجاتا ہے مگر رواں سال میںکرونائی وباء کے پھیلائو کے پیش ِنظر ماہ ِمارچ کے تیسرے ہفتے میں ہی بھارت کی دوسری ریاستوں کی طرح جموں و کشمیر بھی لاک ڈاون نافذ ہوگیا،جو طول پکڑ کرماہِ جون تک جاری رہا ۔ اِس طویل لاک ڈاون کے دوران بھارتی مسلمانوں کی طرح جموں و کشمیر کے مسلمانوں کیلئے ماہ ِ رمضان کا مقدس مہینہ اور عید الفطرکی تقریب ِسعید بھی سرکاری احکامات اور احتیاطی تدابیرکی عمل آوری میں اختتام پذیر ہوئے،جس کے نتیجہ میں شہر سرینگر میں شادی بیاہ کی تقریبات کے انعقاد کا سلسلہ بھی مسدود ہوکر رہ گیا۔پھر جب ماہِ جون سے لاک ڈاون میں نرمی لائی گئی توکشمیر میںشادیوںکا سیزن شروع ہو ا،جو تا حال سرکاری شرطوںکے احداف کے مطابق چل رہا ہے ۔  
کرونا وائرس کے اس دور میں جہاں بیشتر کشمیری شادی بیاہ کی تقریبات کا انعقاد نہایت سادگی کے ساتھ محدود لوازمات اور احتیاطی تدابیر کے تحت کررہے ہیں اور خوشی کے ساتھ اپنے پیاروں کو ازداجی رشتوںمیں باندھ کر سُنت ِ نبوی ؐ کی پیروی کر رہے ہیںتو وہیں لوگوں کی ایک خاصی تعداد ،کہیں کھلم کھلا اور کہیں چوری چُھپے ان تقریبات میں بدعتوں، بُرائیوں، رسوماتِ بد، دکھاوے اور فضولیات جیسی خرابیوںسے باز نہیں آرہے ہیں،نہ خوف ِخدا کھا رہے ہیں اور نہ ہی احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی کوئی کوشش کرتے ہیںبلکہ اپنی اَنا،ہٹ دھرمی ،مالداری اور طاقت کے نشے میں سماجی بُرائیوں کو بدستور فروغ دے کر نہ صرف اپنی اور اپنے پیاروں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں بلکہ دوسروں کی زندگیوں کو بھی دائو پر لگارہے ہیں۔
ذرا غور کیجئے ۔کیا یہ سچ نہیںکہ کرونا ئی فضا میں ہم تا حال پہلی جیسی زندگی نہیں گذارہے ہیں،سماجی لحاظ سے کیا ہمارے معاشرے میں تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے،ہمارے خاندانی تعلقات نے نئے رنگ و روپ اختیار نہیں کئے ہیں،قربت کی جگہ دوری نے جگہ نہیں لی ہے ،مل بیٹھ کر بات چیت کرنے کی جگہ انفرادیت فروغ نہیں پائی ہے،رشتے ناطے بذریعہ ٹیلی فون،موبائیل،وہاٹس اَپ یا ای میل پر نبھائے نہیں جارہے ہیں۔مسجدوں،عبادت گاہوں،گھروں اور تفریح گاہوں میں مجلسیں اورمحفلیںمفقود نہیں ہوگئی ہیں،سماجی رابطے آن لائن نہیں ہوگئے ہیںتو اگر یہ سب کچھ کرونا کی وبائی بیماری کے پہلے پڑائوپر ہورہا ہے تو بھلا شادی بیاہ کی ایسی تقریبات پر اس بدلائو کا کوئی اطلاق نہیں ہوسکتا۔مانا کہ دنیا وی زندگی میں ایسے بدلائو سے سماج میںمنفی اثرات اُبھر سکتے ہیں لیکن وقت کے تقاضے کا خیال رکھنا بھی تو ضروری ہے اور انسانی جانوں کے تحفظ کا خیال رکھنا ہی تو انسانیت ہے کیونکہ وقت اور حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے ہیں ،کسی بھی وقت بدل جاتے ہیں۔
کرونائی وباء نے دنیا بھر میں قریباً ساڑھے آٹھ لاکھ لوگوں کی جان لے لی ہے اور ڈھائی کروڑ کے قریب لوگ متاثر ہوچکے ہیں۔امریکہ جیسے ترقی یافتہ و خوشحال ملک میں ہی دو لاکھ کے لگ بھگ افراد فوت ہوگئے ہیں جبکہ برازیل میں مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار تک پہنچ گئی ہے۔بھارت جیسے ترقی پذیر ملک جہاں کی ایک تہائی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کررہی ہے میں مرنے والوں کی تعداد اِکسٹھ ہزار سے زائد ہوئی ہے جبکہ بیس لاکھ کے قریب لوگ متاثر ہوچکے ہیںجبکہ روزانہ کی بنیاد پر متاثرین اور اموات کی تعداد میںبتدریج اضافہ ہورہا ہے۔زندگی بدستو ر ٹھپ ہے اور معیشت کا پہیہ بحال نہیں ہوپارہا ہے۔کروڑوں لوگ بے روز گار ہوگئے ہیں اور لاکھوں کی نوکریاں چلی گئی ہیں۔پانچ ماہ سے چلی آرہی اس ناگہانی آفت سے کشمیر کی صورت بھی اس سے مختلف نہیںہے۔سات سو سے زائد لوگ جان بحق ہوچکے ہیں اور متاثرین کی تعداد چھتیس ہزار پار کرچکی ہے۔بے کاری اور بے روزگاری عروج پر پہنچ گئی ہے،غریب اور پسماندہ طبقات کی زندگی ابتر بن گئی ہے،گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لئے کھانے کے مقدار کم کرنا پڑی ہیں۔سستے خوراک بازاروں سے غائب ہوئے ہیں۔ظاہر ہے کہ کرونا نے کشمیر کی پہلے ہی دَم توڑتی ہوئی معیشت کو بستر ِ مرگ پرپہنچا دیا ہے ،ایک اندازے کے مطابق تاجروں کے خسارے کا حجم چالیس ہزار کروڑ روپے تک جا پہنچا ہے،جس میں سب چھوٹے بڑے تاجر ،ٹرانسپورٹر ،ہاوس بوٹ و ہوٹل والے،دوکاندار طبقہ،ریڑے بان اور فُٹ پاتھوں پر کام کرنے والے لوگ شامل ہیں۔
 یاد رہے کہ عالمی سطح پر جو خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں وہ مستقبل کے حوالے سے نظر انداز نہیں کئے جاسکتے اور اگر احتیاطی تدابیر جاری نہ رکھی گئیں جیسا کہ اس وقت بازاروں،شاہرائوں،عبادت گاہوںیا شادی کی مجلسوںمیںدیکھا جارہا ہے ،یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کرونا کی جو نئی لہر بعض ترقی یافتہ ملکوں میں آچکی ہے ،آنے والے وقتوں میں بھارت میں کتنا قہر برپا سکتی ہے اور پھر کشمیر کا رُخ کرکے کتنی تباہی مچائے گی۔عالمی صحت ادارہ نے صاف کہہ دیا ہے کہ وباء کم سے کم دو سال تک ختم نہیں ہوگی۔برطانوی سائنس دانوں یہاں تک پیش گوئی کی ہے کہ یہ وباء کسی نہ کسی شکل میں ہمیشہ رہے گی ،میڈیکل تجربات کی روشنی میں جو اندازے لگائے گئے ہیں ان کے تحت کم سے کم موسم خزاں کے آخر تک اس کا زور ٹوٹنے والا نہیں۔کورونا ویکسین بنانے کے اب تک جتنے بھی تجربات روس،چین یا مغربی ممالک میں کئے گئے ہیں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکے،اسی وجہ سے عالمی صحت ادارہ نے خبردار کیا ہے کہ حفاظتی تدابیر سے غفلت نہ برتی جائے۔ماسک پہنیں اور کم از کم ایک میٹر کی دوری کا فاصلہ برقرار رکھیں۔ترقی یافتہ ملکوں میں کرونا کی نئی لہر کی اطلاعات اس امر کا تقاضا کرتی ہیں کہ بھارتی عوام سمیت کشمیری لوگ کسی خوش فہمی کا شکار نہ ہوں اور اپنے بچائو کی تدابیر سے غافل رہیں،ورنہ نتائج انتہائی تشویش ناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ ہم بار بار انہی کالموں میں کہہ چکے ہیں اور آج پھر دُہرا رہے ہیں کہ کورونا کی اس وبائی بیماری سے خود کو ،اپنے اہل و عیال کو ،اپنے پیارے عزیزوںاور اپنے ارد گرد کے ہمسایوں کو بچانے کے لئے ہمیں احتیاطی تدابیر کے ساتھ جینے کی عادت ڈالنا ہوگی ۔خود کو محفوظ رکھنا اور دوسروں کی حفاظت یقینی بنانا ہوگی،تبھی انسانی معاشرہ آگے بڑھ سکے گا ۔ہمیں طے کرلینا چاہئے کہ ہمیں اس بیماری سے ہر حال میں بچنا ہے اور احتیاطی ہدایات کے تحت زندگی کو چلانا ہے اوراحتیاط کے دائرے میں ہی اپنے دینی اور سماجی روایات کو بھی برقرار رکھنا ہے۔خدا بھی اُنہی کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرنے میں پہلوتی کرتے ہیں۔اس لئے احتیاط کا تقاضا ہے کہ ہر کسی مجلس ،محفل یاتقریب کے انعقاد کے دوران اپنی سرگرمیوں کا جائزہ لیں،متعلقہ انتظامی ادارے چوکس رہیں اور پیشگی حفاظتی اقدامات سے غفلت نہ برتیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال کا مقابلہ کیا جاسکے۔