واہ رےسیاست!

ان  دنوں جب رافیل تنازعہ پر وزیر اعظم مودی سمیت بی جے پی کے تمام چھوٹے بڑے لیڈروں کی زبانیں گنگ ہو گئیں، ان کے پاس کوئی جواب نہیں رہ گیا تو اچانک بی جے پی ترجمان سمبت پاترا کوپاکستان کی یاد آگئی۔سیاست کی نیرنگیاں بھی عجیب ہیں۔ کون کب کہاں اور کس سے فائدہ اٹھا لے گا، یہ کہنا مشکل ہے۔ اس معاملے میں بی جے پی کو ید طولیٰ حاصل ہے۔ وہ خود کوایک دیش بھکت سیاسی جماعت کہلوانا پسند کرتی ہے۔ اس کے نزدیک اس روئے زمین پر ہندوستان کا سب سے بڑا دشمن اگر کوئی ہے تو وہ پاکستان( بمعنی مسلمان) ہے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ سیاسی حریفوں کو زیر کرنے کے لیے اکثر و بیشتر پاکستان سے ہی مدد لیتی ہے۔ ہر آڑے وقت میں اور ہر مشکل گھڑی میں جب کوئی سہارا نہیں ہوتا تو وہ مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے پاکستان کے کندھے پر بندوق رکھ دیتی ہے اور دنادن گولیاں چلانے لگتی ہے۔ اسی کے ساتھ پاکستان کی شان میں مغلظات کا نذرانہ بھی پیش کرتی رہتی ہے۔ گویا یہ کہا جا سکتا ہے کہ بی جے پی نے سیاسی مفاد پرستی کی خاطر پاکستان کو اپنا  لے پالک بنا رکھا ہے اور دشمن بھی۔ابھی جب رافیل تنازعہ پر وزیر اعظم مودی سمیت بی جے پی کے تمام چھوٹے بڑے لیڈروں کی زبانیں گنگ ہو گئیں، ان کے پاس کوئی جواب نہیں رہا تو اچانک بی جے پی ترجمان سمبت پاترا کو پاکستان کی یاد آگئی۔ انھوں نے پاکستان اور کانگریس کے لب ولہجے میں یکسانیت ڈھونڈ لی اور صرف یہی نہیں بلکہ کانگریس صدر راہل گاندھی پر مودی حکومت کے خلاف پاکستان سے ساز باز کا الزام بھی جڑ دیا۔ در اصل پاکستان کے سابق وزیر داخلہ رحمن ملک نے ایک ٹویٹ کرکے راہل گاندھی کی تعریف کی اور کہا کہ وہ اگلے وزیر اعظم ہوں گے۔ پاترا نے اس ٹویٹ کو بہانہ بنا کر اپنے مخصوص انداز میں راہل گاندھی کو نشانہ بنایا۔وزیر اعظم مودی نے بھی بھوپال میں ایک تقریر کرتے ہوئے الزام عاید کر دیا کہ کانگریس اندرون ملک مہا گٹھ بندھن بنانے میں ناکام ہو گئی ہے تو بیرون ملک گٹھ بندھن بنا رہی ہے اور اب دوسرے ملک کے لوگ یہ طے کریں گے کہ یہاں کا وزیر اعظم کون ہوگا۔بی جے پی صدر امت شاہ کب پیچھے رہتے، انھوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ کانگریس نے بی جے پی کے خلاف بین الاقوامی سازش رچی ہے۔ وہ اس سے قبل بہار کے اسمبلی انتخابات میں پاکستان کا نام لے چکے ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ اگر بی جے پی ہاری تو پاکستان میں پٹاخے چھوٹیں گے، لیکن بی جے پی ہار گئی تھی اور پاکستان میں کوئی ایک پٹاخہ بھی نہیں پھٹا تھا۔ بی جے پی کے ایک تیز زبان وزیر گری راج سنگھ بھی پاکستان کے کندھے پر بندوق رکھ کر گولی چلاتے رہتے ہیں۔ 2014 کے پارلیمانی انتخابات کے دوران انھوں نے یہ انکشاف کیا تھا کہ جو لوگ مودی کی مخالفت کر رہے ہیں وہ سب پاکستان حامی ہیں اور ان کو پاکستان چلے جانا چاہیے۔ ان کے علاوہ دوسرے چھٹ بھیا لیڈران بھی بی جے پی اور حکومت کے نظریات کی مخالفت کرنے والوں کو پاکستان بھیجنے کی بات کرتے رہتے ہیں۔امت شاہ اورگری راج کے گرو جی وزیراعظم نریندر مودی تو کانگریس کو نشانہ بنانے اور اسے بے عزت کرنے کے لیے کس حد تک چلے جائیں گے، کہا نہیں جا سکتا۔ گجرات انتخابات کے دوران انھوں نے ایک ایسا بے ہودہ الزام لگایا کہ بعد میں ان کے انتہائی قریبی دوست ارون جیٹلی کو پارلیمنٹ میں ان کے  مذکورہ بیان سے خود کو الگ کرنا پڑ گیا۔ مودی نے ایک ریلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھاکہ نئی دہلی میں کانگریس رہنما منی شنکر ایر کے گھر پر پاکستان کے ایک سابق وزیر خارجہ، ہندوستان کے ایک سابق نائب صدر (حامد انصاری) اور ایک سابق وزیر اعظم ڈاکٹرمن موہن سنگھ اور بعض دوسرے لوگوں کی میٹنگ ہوئی اور اگلے روز ہی منی شنکر نے مجھے ’’نیچ ‘‘کہا۔ مودی جی نے اس’’ انکشاف‘‘ کے بعد یہ بتانے کی کوشش کی کہ یہ تمام لوگ مل کر ہندوستان کے خلاف سازش کر رہے تھے تاکہ گجرات میں بی جے پی ہار جائے۔ ان کے اس بے بنیاد بیان پر پورے ملک میں زبردست ہنگامہ ہوا تھا اور لوگ مودی سے یہ سوال کرنے لگے تھے کہ کیا من موہن سنگھ اور حامد انصاری کی حب الوطنی پر شک کیا جا سکتا ہے؟ مودی کے پاس ا س کا کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ آئیں بائیں شائیں کر نے لگے۔ ان کو بھی ان لوگوں کی حب الوطنی پر کوئی شک نہیں لیکن محض سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے انھوں نے یہ فرضی کہانی سنائی۔
اب ذرا دوسرے پہلو کو دیکھا جائے۔ نریند رمودی کو جب وزیر اعظم کے منصب کا حلف لینا تھا تو انھوں نے سارک ملکوں کے سربراہوں کو بھی مدعو کیا اور ان سب سے مذاکرات بھی کئے۔ انھوں نے پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف سے سب سے زیادہ دیر تک ( متعینہ وقت سے بھی نصف گھنٹہ زیادہ ) بات چیت کی۔ جب وہ افغانستان کے دورے پر گئے تھے تو وہاں سے واپسی پر اچانک لاہور اُتر گئے یعنی بغیر بن بلائے نواز شریف کے گھر مہمان بن گئے۔ شادی میں شرکت کی، برتھ ڈے پارٹی منائی اور انھیں ساڑی اور شال کا تحفہ بھی پیش کیا۔انتخابات سے قبل پاکستان کے سر تاج عزیز نے کہا تھا کہ نریندر مودی ہندوستان کے وزیر اعظم بنیں گے، ایک مضبوط حکومت آئے گی اور بات چیت کا سلسلہ آگے بڑھے گا۔ نواز شریف نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا تھا۔ابھی جب حالیہ انتخابات میں عمران خان کو کامیابی ملی اور وہ وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئے تو ان کی خدمت میں کرکٹ کا بلا پیش کیا گیا۔ انہیں مبارک باد کا خط لکھا گیا اور ان سے بہت سی اُمیدیں وابستہ کی گئیں۔ خود عمران خان نے راولپنڈی کی ایک ریلی میں تقریر کرتے ہوئے مودی کو ایک ایماندار شخص قرار دیتے ہوئے ان کی ستائش کی۔مودی کے لاہور دورے کے بعد مبینہ دہشت گردوں نے پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملہ کر دیا تھا جس میں کئی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد مودی اور امت شاہ نے پاکستان کی آئی ایس آئی کو پٹھان کوٹ کے دورے کی اجازت دے دی ،حالانکہ یہاں سے جانے کے بعد آئی ایس آئی کی ٹیم نے خود ہندوستان پر الزام جڑ دیا کہ اس نے ہی اپنے فوجیوں کو مروایا ہے۔
جب جموں و کشمیر میں بی جے پی نے پی ڈی پی کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنائی تو پی ڈی پی کے قائد اور وزیر اعلیٰ مفتی سعید نے اسمبلی انتخابات کے پس منظر میں پاکستان اور علاحدگی پسندوں کا شکریہ ادا کیا۔ اس پر بی جے پی نے کچھ نہیں کہا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ بی جے پی کے کوٹے کے نائب وزیر اعلی نرمل سنگھ نے ایک بیان میں کہا کہ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ جن جنگ جوؤوں سےمسلح تصادم چل رہا ہے ان میں حزب المجاہدین کا کمانڈر برہان وانی بھی شامل ہے ،تو ہم اسے نہیں مارتے۔ یہ اور ایسی جانے کتنی مثالیں ہیں جن میں پاکستان اور بی جے پی اور اس کے لیڈروں کے مابین جگل بندی کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔اگر یہ معاملات کانگریس سے وابستہ ہوتے تو بی جے پی والے آسمان سر پر اٹھا لیتے۔ فرض کریں ڈاکٹر من موہن سنگھ نے لاہور کا دورہ کیا ہوتا تو ان کی تو حب الوطنی ہی ختم ہو گئی ہوتی۔ من ہوہن سنگھ نے تو پاکستان کے اصرار کے باوجود وہاں کا دورہ نہیں کیا۔ وہ اس موقف پر قائم رہے کہ عسکریت اور مکالمت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ اگر کانگریس کے دور میں آئی ایس آئی کو جانچ کے لیے بلایا گیا ہوتا تو بی جے پی والے ملک کے خلاف پاکستان کے ساتھ مل کر سازش رچنے کا الزام کانگریس حکومت پر لگا دیتے۔ گویا وہی کام کانگریس کرے تو ملک دشمن ہو گئی اور بی جے پی کرے تو دیش بھکت ہو گئی۔
پس نوشت: جب مرکز میں یو پی اے کی حکومت تھی تو بی جے پی والے سینہ ٹھونک ٹھونک کر کہتے تھے کہ ایک فوجی کے سر کے بدلے میں ہم دس فوجیوں کے سر لائیں گے۔ ہم یہ کریں گے اور وہ کریں گے، لیکن اب یہ باتیں طاق نسیاں کی زینت ہیں۔ اب نہ تو ایک کے بدلے دس سر ہیں اور نہ پاکستان کو سبق سکھانے کی سعی ۔ ہندوستانی فوج پہلے بھی پاکستانی فوج اور اس کی حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کے  نشاے پر ہے اور آج بھی ہے۔ مودی حکومت نے سرجیکل اسٹرائیک کا اتنا پروپیگنڈہ کیا کہ ایسا لگتا ہے کہ اس سے قبل ہندوستانی فوج نے کبھی کسی بہادری کا مطاہرہ ہی نہیں کیا۔ اس سے بھی سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اسی لئے دو سال بعداب اس پر جشن منایا جا رہا ہے۔ واہ رے سیاست
