واگڈ ترال میں مختصر تصادم | 48سالہ جنگجو کمانڈر جاں بحق

ترال//جنوبی کشمیر میں لگاتار تیسرے روز بھی مسلح تصادم ہوا جس کے دوران ترال میں ایک سرکردہ جنگجو کمانڈر جاں بحق ہوا۔ یہ پچھلے  تین دنوں کے دوران مجموعی طور پر چھٹی تصادم آرائی ہے۔ ان جھڑپوں میں8 جنگجو اور پانچ فوجی اہلکارہلاک ہو گئے ہیں ۔
ترال تصادم آرائی
ترال قصبے سے 9کلو میٹر دور تحصیل آری پل کے واگڈ نامی گائوں میں بدھ کے روز بعد دو پہر 2بجے کے قریب پولیس ، سی آر پی ایف اور42آر آر کی ایک پارٹی جنگجوئو ںکی موجودگی کی اطلاع ملنے پر گائوں میں داخل ہوئے اور محاصرہ کرنے کی کوشش کی۔پولیس نے بتایا کہ فوج کی تلاشی پارٹی  ایک مشتبہ مکان کے نزدیک جونہی پہنچ گئی تو یہاں موجود ایک جنگجو کمانڈر نے فائرنگ کر کے فرار ہونے کے کوشش کی تاہم یہاں موجود فوجی اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی اور طرفین مین گولیوں کا مختصر تبادلہ ہوا، جس میں مذکورہ جنگجو جاں بحق ہوا۔ جھڑپ کے ساتھ ہی آئی جی پی وجے کمار نے پولیس کے ٹویٹر ہینڈل پر ایک ٹویٹ میں کہا’’ مارا جنگجوشمیم احمد صوفی عرف شمہ صوفی ہے جو ایک سرکردہ جیش کمانڈر ہے‘‘ ۔  48سالہ شمیم احمد صوفی ولدغلام احمد صوفی ساکن ستورہ ترال نے یکم اگست 2019میںجنگجوئوں کے صف میں شمولیت اختیار کی تھی اور علاقے میں جیش کو سرگرم کرنے کی وجہ سے فورسز کو انتہائی مطلوب تھا ۔آج تک انہیں پکڑنے کے لئے بہکوں تک چھاپے مارے گئے ۔ یہ معلوم نہیں ہوا کہ شمیم نے 48سال کی عمر ہونے کے باجود جنگجوئوں کی صف میں شمولیت کیوں اختیار کی تھی ؟۔اس کے5بچے ہیں جن میں3لڑکے اور2لڑکیاں شامل ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق مہلوک جنگجوکے ایک بھائی نذیر احمد صوفی کو2 200میں جنگجوئوں نے گولی مار کر ہلاک کیا تھا۔ وہ پی ایچ ای میکنیکل میں ملازم تھا۔اسی سال2002میں کچھ ماہ بعدمہلوک کی اہلیہ شمیمہ اختر کو بھی جنگجوئوں نے ہلاک کیا تھا۔خیال رہے کہ جنوبی کشمیر میں گزشتہ تین روز کے دوران ایک کمانڈر سمیت 8جنگجوجاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ 5فوجی بھی مارے گئے ہیں ۔
راجوری آپریشن
راجوری اور پونچھ کے درمیانی حدود میںجنگجوئوں کیخلاف آپریشن تیسرے روز بھی جاری رہا تاہم اس دوران طرفین کے مابین تازہ فائرنگ کا تبادلہ نہیں ہوا ۔’ڈھیرا کی گلی‘  علاقہ میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے اتوار کو ایک تلاشی مہم شروع کی گئی تھی جس کے دوران جنگجوئوں کی فائرنگ میں پانچ فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے جن مٰن ایک افسر بھی شامل تھا۔چمڑار جنگلات میں ابتدائی روز طرفین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا جس کے دوران ہلاکتیں ہوئی اور تین فوجی زخمی بھی ہوئے ۔ا س واقعہ کے بعددوسرے دن منگل کو بھی گولیوں کا تبادلہ ہوا لیکن جنگجو پھر فرار ہوئے۔لیکن تیسرے روز بدھ کو طرفین  مین کوئی آمنا سامنا نہیں ہوا۔غور طلب ہے کہ مذکورہ جنگلا تی علاقہ 30مربع کلو میٹر تک پھیلا ہوا ہے جس کا آدھا حصہ راجوری جبکہ آدھا حصہ سرحدی ضلع پونچھ کی حدود میں آتا ہے ۔سیکورٹی فورسز کی جانب سے بدھ کو تلاشی مہم کو مسلسل جاری رکھاگیا ۔ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس راجوری پونچھ رینج وویک گپتا نے منگل کے دن صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ علاقہ کی جغرافیائی صورتحال کو ذہن میں رکھتے ہوئے مہم کو جاری رکھا گیا ہے ۔
 
 

کپوارہ جنگل میں تلاشیاں

اسلحہ کی بھاری مقدار بر آمد

اشرف چراغ
 
کپوارہ //چک ریشی گنڈ کرالہ پورہ کپوارہ میں پولیس اور سیکورٹی فورسز نے زیر زمین چھاپے گئے اسلحہ کی بھاری مقدار ضبط کی۔ پولیس کے مطابق 162ٹیریٹوریل آرمی اور بی ایس ایف کیساتھ مل کر چک ریشی گنڈ جنگل میں اسلحہ کی موجودگی کی اطلاع ملی جس کے بعد یہاں تلاشیاں لی گئیں۔ممکنہ جگہ پر کھدائی کی گئی اور وہاں سے ایک زنگ آلودہ  اے کے 47رائفل،اسکے4 میگزین،720رائونڈ گولیاں،3وائر لیس سیٹ،8ڈیٹو نیٹر،3چینی ساخت کے گرینیڈ اورایک کمپاس بر آمد کیا گیا۔اس سلسلے میں کیس درج کیا گیا تاہم کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔