واٹر مین، صفائی کرمچاریوں کا احتجاجی مظاہرہ

 بھدرواہ //گندو کے سکولوں میںکام کر رہے پانی ڈھونے والے اور صفائی کرمچاریوں نے اپنے مطالبات کو لیکر احتجاجی مظاہرہ کیا۔مظاہرین  کا کہنا ہے کہ یہ د ودہائیوںسے اپنے فرائض انجام  دے رہے ہیںلیکن سرکار انکے اجرتوں کو ادا کرنے اور انکی ملازمت باقاعدہ بنانے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔ گندو سب۔ڈویژن کے درجنوں پانی ڈھونے والے اور صفائی کرمچاری زیڈ ای او آفس گندو میںاکٹھا ہوئے اور اپنی ملازمت کو باقاعدہ بنانے کے لئے احتجاجی مظاہرہ کر رہے تھے۔مظاہرین نے اپنے مطالبات منوانے تک اپنا احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ایسو سی ایشن کے صدر شبیر احمد نے کہا کہ باوجود مالی تنگدستی کے وہ گُذشتہ دو دہائیوں سے اپنے فرائض  اس امید کے ساتھ انجام دے رہے ہیں کہ حُکام انکی خدمات کو باقاعدہ بنائے گی۔انہوںنے متنبہ کیا کہ اگر دو مہینوں کے اندر انکے مطالبات پر غور نہیں کیا گیا تو وہ تمام سکولوں ک ومقفل کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ بیشتر پانی ڈھونے والے اور صفائی کرمچاریوں نے اپنی گھریلو اراضی سکولوں کی تعمیر کے لئے عطیہ دی ہے کیونکہ انہیں وعدہ کیا گیا تھا کہ انہیں اراضی کے بدلے میں ملازمت فراہم کی جائے گی۔ڈھڈکی کے سیف دین ڈھڈکی نے کہا کہ میرے والد نے یو پی ایس ڈھڈکی کے لئے اپنے مکانکے ارد و گرد زمین کا ایک بڑا ٹکڑا اس امید کے ساتھ عطیہ کیا کہ مُجھے حُکام کی جانب سے ملازمت فراہم کی جائے گی لیکن گُذشتہ16برسوں سے سکول میں کام کرنے کے باوجود اُسے ابھی تک باقاعدہ نہیں بنایا گیا ہے اور مُجھے فقط 500روپے سالانہ ادا کیا جاتا ہے۔بعدازاں مظاہریں نیایس ڈی ایم گندو کو مطالبات کی ایک فہرست پیش کی ۔مظاہرین میںرمیش کمار، محمد یونس، سیف الدین، شاہ محمد، برکت علی، عنایت اللہ ،شفقت حُسین،محمد اقبال ،ہوشیار سنگھ و دیگران شامل تھے۔