والد کے نام خط!

میرےبابا! آج میں ہمت کر کے آپ کے سامنے کچھ باتوں کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔ یہ باتیں بولنے میں ہچکچاہٹ ہورہی ہے، مگر حالات ہی کچھ ایسے ہیں کہ میں بنا بولے بھی نہیں رہ سکتا۔ آج لگ بھگ چھبیس سال گزر گئے ہیں، جب سے میں آپ کی محنت کی کمائی کھا رہا ہوں۔ کسی حد تک یہ آپ کی ذمہ داری بھی تھی، مگر اب مجھے خود ہی شرم آنے لگی ہے کہ مجھے بھی اب اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہیے۔ ایک جوان دن میں کم از کم روٹی پچیس روپے کی کھاتا ہے اور دوسرے اخراجات کو ملا کر، لگ بھگ ساٹھ روپے کا خرچہ ہر دن آتا ہے۔ مگر میں یہ ساٹھ روپے کمانے سے قاصر ہوں۔ میری پوشاک، میری غذا، میری ضروریات اور دیگر اخراجات کا بوجھ آپ کے نازک کندھوں پر ہیں۔ ان سب چیزوں کا ہر روز اپنے آنکھوں سے مشاہدہ کرتا ہوں اور پریشانیوں کے نہ ختم ہونے والے دلدل میں ڈوبتا چلا جاتا ہوں۔ آپ کی ہر قربانی پر فدا ہونے کو جی کرتا ہے، مگر پیسوں کے بغیر کسی طرح فدائی ہو،اور یہ کیسے ممکن ہوتا ہے، وہ بھی آج تک سمجھ میں نہیں آیا ہے۔
       میں ہر روز اس کوشش میں ہوں کہ کہیں پر اچھی سی نوکری ملےاور آپ کےلئے سہارا بن سکوں۔ لوگوں کے سامنے ہاتھ بھی پھیلاتا ہوں، تو کبھی مایوس ہوکر بیٹھ جاتا ہوں۔ کھبی کسی امتحان کے لئے ساری محنت بروئے کار لاتا ہوں، تو کھبی رشوت کی لعنت سے تنگ آکر زندگی سے بھی اوب جاتا ہوں اور اُمید سے بھی نااُمید ہوجاتا ہوں۔ اس طرح ذہنی اُلجھنوں کا شکار ہوجاتا ہوں، جن سے میرا جسم کانپ جاتا ہےاور میری روح تک چھلنی ہوجاتی ہے ۔ کوئی بھی کتاب یا اخبار اس نیت سے خریدتا ہوں کہ اس میں کچھ ایسی معلومات اکٹھا ہوجائے، جو میرے لئے کسی کام آجائیںتاکہ میںآپ کے لئےآرام کا باعث بن سکوں۔ میں بچوں کو اس نیت سے بھی پڑھاتا ہوں کہ کچھ پیسے جمع ہوجائے تاکہ آپ کے لئے آسائش کے لئے تھوڑی سی راحت مہیا کرسکوں۔ حد سے زیادہ محنت اس لئے کرتا ہوں تاکہ آپ کےقرضے کا بوجھ کسی حد تک کم کرسکوں۔
     میرے ابو! میں اس بات سے بھی واقف ہوں کہ آپ کے کندھوں پر دو بیٹیوں کی شادیوں کا بوجھ ہے، جوآپ اُٹھانے کے قابل نہیں ہے۔ رسموں سے بھری اس دنیا میں دودو بیٹیوں کی شادیاں کروانا ایک مزدور محنت کش باپ کے لئے نہ صرف جسمانی اذیت ہے بلکہ روحانی عذاب بھی ہے۔ یہ بات بھی میرے ذہن میں ہر وقت گھومتی رہتی ہے۔ جب بھی یہ بات یاد آجاتی ہے،تو میں دھل جاتا ہوںاور پھر میری ہر ساعت اضطرابی کیفیت میں گذر جاتی ہےاور ہر گھڑی بے چین رہتا ہوں۔یہ عالم دن بھر ہی نہیں رہتا بلکہ میری راتیں بھی اسی عالم میں گذر جاتی ہیں۔کبھی کبھی رات بھر جاگ جاگ کر اس مسئلہ کا حل ڈھونڈتا رہتا ہوں۔مگر راتوں کی اندھیروں میں روشنی کی کوئی کرن نظر نہیں آتی ہےاور پھر دن بھریہی فکر دامن گیر رہتی ہے کہ اگر وقت پر بہنوں کی شادی نہ ہوگی تو پھر آگے کیا ہوگا؟ لوگ کیا کہیں گے۔ کیسی کیسی عجیب و غریب باتیں کریں گے۔ہمارے پڑوسی کا بیٹا رشوت دے کر ایک اچھی نوکری پاگیا اور بہنوں کی شادی بھی بڑی دھوم دھام سے کر بیٹھا، مگر میں۔میں عمر بھر کتابیں خریدتا رہا اور آخر کار نہ صرف خود کے لئے بلکہ اپنے گھر والوں کے لئے بھی بوجھ بن گیا۔ یہ بات بھی مجھے چین سے نہیں بیٹھنے نہیں دیتی ہے۔ بابا! میں کھبی کھبی سڑک پر اس لئے چلتا پھرتا رہتا ہوں تاکہ اس بڑی دنیا کو دیکھ لوں۔ اس کی رعنائیوں کا مشاہدہ کر سکوں،اس کی حقیقت جان سکوں، پیسوں کی پیداوار کوپہچان سکوں۔ خوشی کہاں بستی ہے، اس کا ٹھکانہ ڈھونڈ سکوں۔ مگر پھر تھک ہار کر واپس گھر کی طرف موڑ جاتا ہوں۔ دل میں صرف یہ بات کانٹے کی طرح چھبتی رہتی ہے کہ گھر میں والد صاحب کے پسینے کی کمائی سے تیار کھاناکب تک کھاتا رہوں اوراُس وقت مجھے اس بات کا بھی احساس ہوتا رہتا ہے کہ اے میرے والد!آپ کتنے عظیم ہیں۔
میرے عزیز باپ!میں بہت شرمندہ ہوں۔ابھی تک میںآپ کے لئے کچھ نہیں کرسکا ہوں، مہربانی کر کے مجھے معاف کرنا۔میں نے ہمت نہیں ہاری ہے، میں اپنی طرف اپنی حیثیت کے مطابق ہر قسم کی کوشش کرتا رہتا ہوں اور کرتا رہوں گا ۔ مگر سب کچھ میرے ہاتھوں میں نہیں ہے۔ معاشی حالات، سماجی حالات، سیاسی حالات وغیرہ میرے اختیار سے باہر ہیں۔ میں صرف دل میں ایک اُمید کے سہارے جی رہا ہوں۔میں آپ کے لئے ضرور سہارا بنوں گا۔اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔ خدانخواستہ اگر میں نا اُمید ہوگیا، تو یہ آپ کے لئے اور بھی پریشانی کی بات ہوگی۔ میں کوشش کرتا رہوں گا اورہر معاملے میں اچھا بننے کی کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیںکروں گا، مگر میرے بابا! مجھے دوسروں کے ساتھ موازنہ کرنا۔ میں الگ ہوں اور کچھ الگ کام کرنا چاہتا ہوں۔ میں روتا ہوں، تو ڈرتا ہوں کہ دنیا کیا سوچے گی۔ بابا! یہ دنیاچور بازار ہے۔یہاں کے عزت دار تہذیب یافتہ طریقوں پر بڑی بڑی چوریاں کرتے رہتے ہیں،اور سبھی لوگ اُنہی کا احترام کرتے رہتے ہیں۔ شائستگی یہاں ہر چہرے پر ہے، مگر دل خونخوار بھیڑیوں جیسے ہیں۔ میں اچھا گھر بنانا چاہتا ہوں۔ تمہارا سہارا بننا چاہتا ہوں۔ کوئی اُمید بننا چاہتا ہوں۔ مجھے بھی احساس ہے، مگر خالی احساس درندوں میں کام نہیں آئے گا۔ جونہی اللہ کا کرم آجائے،میری اُمید بَر آئے گی اور میں آپ کے کام آسکوں گا ۔اِنشا اللہ وہ دن دور نہیں ہوگا ،بس آپ کی دُعا اور آپ کا ساتھ ہمیشہ میرے ساتھ ہو،اللہ ہم سب کا ناصر ہے۔والسلام!
 آپ کا بیٹا۔۔۔۔!!
(مدرس حسینی پبلک اسکول ایچ ایم ٹی
زینہ کوٹ سرینگر)