والدین بیٹی کیلئے کان ،زبان اور آنکھیں بن گئے

گاندربل //گاندربل کے علاقہ کنگن کی رہائشی طیبہ شبیر جو کہ قوت گویائی اور قوت بینائی سے محروم ہے، نے حال ہی میں دسویں جماعت کے ظاہر کئے گئے نتائج میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امتیازی نمبرات حاصل کئے اور اپنی ذہانت اور قابلیت سے یہ ثابت کردیا جسمانی طور کمزور یا معذور افراد بھی بڑے بڑے معرکہ سر کرسکتے ہیں۔ پیشہ سے محکمہ تعلیم میں بحثیت استاد شبیر احمد تیلی کے گھر میں پیدا ہوئی طیبہ جسمانی طور کمزور تھی جب ڈاکٹروں نے شروع میں اس کی تصدیق کی تو اس وقت ان کی خوشیوں پر پانی پھیر گیا لیکن شبیر احمد اور اس کی اہلیہ شگفتہ شاہین کی ہمت اور حوصلہ کا دور شروع ہوا۔طیبہ شبیر کی والدہ شگفتہ شاہین جو کہ خود بھی محکمہ تعلیم میں استاد تعینات ہیں نے اپنی بیٹی کیلئے ہر ناممکن کو ممکن بنا دیا۔وہ اپنی بیٹی کیلئے کان، زبان اور آنکھیں بن گئی، پہلی جماعت سے لیکر دسویں جماعت تک پڑھنے، لکھنے کھانے پینے کیلئے کمر بستہ ہوگئی ۔جس کا صلہ اُن کو دسویں جماعت کے نتائج میں ملا جس کے امتحان میں طیبہ شبیر نے امتیازی نمبرات حاصل کرکے سب کا نام روشن کردیا۔طیبہ شبیر جو کہ کنگن میں موجود نجی تعلیمی ادارے سندھ ویلی ایجوکیشنل انسٹیچوٹ کنگن میں زیر تعلیم ہے۔ دسویں جماعت کے نتائج میں 500 نمبرات میں سے 478نمبرات حاصل کرکے اپنی ذہانت اور قابلیت سے اپنا سر فخر سے بلند کردیا۔طیبہ شبیر کے والدین موسم سرما کے تین ماہ کیلئے بژھ پورہ میں رہائش اختیار کرتے ہیں۔کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے شگفتہ شاہین نے بتایا کہ پیدائش سے ہی طیبہ شبیر کی قوت گویائی ، قوت بینائی سے کمزور اور قوت سماعت سے محروم ہونے کے باوجود بھی دسویں جماعت کے امتحان میں امتیازی نمبرات حاصل کرکے والدین،سکول، استاد اور اپنا نام روشن کردیا۔اگرچہ کتنی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اس کے باوجود بھی کبھی کمزور نہیں پڑی۔دل میں بیرسٹر کا خواب سجاکر اپنے پیروں پر کھڑا ہوکر معذور اور کمزور بچوں کے لئے سکول کھولنے کا ارادہ رکھنے والی طیبہ شبیر کی ہمت اور حوصلہ کافی بلند ہیں۔