والدین بچوں کی تربیت کیسے کریں؟

بچوں کا اپنے والدین سے رشتہ انتہائی اہم ہوتا ہے، جو پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے۔ابتدائی عمر سے شعور آنے تک بچوں کے لئےاچھا اور بہترماحول فراہم کرنا والدین کی ذمہ داری ہوتی ہے۔  بچے جس ماحول میں رہیں گے، اُس کا اثر اُن کی سوچ اور زندگی پر پڑتا ہے۔جب بچہ دنیا میں آ کر اپنی آنکھیں کھولتا ہے تو اس کے کانوں میں اذان دی جاتی ہے گویا اُسی وقت اُس کی تعلیم و تربیت کا آغاز ہو جاتا ہے۔اس لئے ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کس قسم کا ماحول اور کس قسم کی تعلیم کو دیتے ہیں۔
ماں باپ کی محبت بچوں کی تعلیم و تربیت میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے، آپ اپنے بچوں کے ساتھ جس شفقت اور محبت کے ساتھ پیش آئیں گے، آپ کے بچے بھی اُسی طرح  تربیت حاصل کریں گے ۔دنیا میں محبت اور شفقت سے بڑھ کر کچھ نہیں اور یہی شفقت بچوں کو ایک اچھا اور اعلیٰ انسان بنانے میں کار آمدبن جاتی ہے۔ جب بچے اسکول جانے کے لائق ہو جائیں تو انہیں لازماً آداب و اخلاق اور حسنِ عمل کی بنیادی تربیت فراہم کی جائے۔ والدین کو اپنے گھروں میں مذہبی اور روحانی ماحول تشکیل دینے کی کوشش کریں اور جھوٹ، بدزبانی اور لڑائی جھگڑے سے گریز کریںتو بچے خوش خلق اور پُر سکون طبیعت پائیں گے۔اپنے بچوں کو کھیلنے کے لیے کون سا کھلونا دینا ہے ،اِس میں بھی والدین کو بڑی احتیاط برتنی چاہیے۔
ظاہے کہ گھر کا ماحول وہ اہم عنصر ہے، جس کا گہرا اثر بچے کی زندگی پر مرتب ہوجاتا ہے۔ ایک بچہ ،زندگی کے ابتدائی لمحات سے ہی اپنے والدین پر منحصر ہوتا ہے، جو اس کی تمام ضروریات پورا کرتے ہیں۔ والدین ہی بچوں کے پہلے معلمین ہوتے ہیں، جواُن کے لیے رول ماڈل کا کردار ادا کرتے ہیں۔وہ بچے بہت خوش قسمت ہوتے ہیں ،جن کو اپنے والدین کی محبت و شفقت کے ساتھ ساتھ سےبہتر و سازگار ماحو ل فراہم رہتا ہے،جوکہ اُن کی کامیابی کاضامن بنتاہے۔
اگر والدین یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں کتنے کامیاب رہے ہیں تو اس کا اندازہ وہ اپنے بچوں کی تربیت کو دیکھ کر لگا سکتے ہیں ۔اگرچہ بچے اخلاقی طور پر اچھے ہیں تو یہ والدین کی اعلیٰ کامیابی ہے ۔گویااپنی کامیابی اور ناکامی کو پرکھنے کا حقیقی پیمانہ بچے ہوتے ہیں۔والدین اپنے بچوں کو چند احتیاطی تدابیر کے ساتھ اپنی زیرِنگرانی میں سوشل میڈیا کا استعمال کرنے کی اجازت ضرور دیںتاکہ وہ دینی ، دنیاوی،سماجی اور دیگر زندگی کےمعاملات سے بھی آشنائی حاصل کرتے جائیں۔
یا د رہے کہ بچے اپنے اسکول،اپنے محلے اور اپنے معاشرے میں دوستیاں قائم کرنے لگتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اِس عمر میں بچوں کے دوست بن کے رہیں اور اس معاملے   میں بھی اُن کے لیے صحیح راستے کی رہنمائی کریں۔
بچپن کی یہ عمر ہر لحاظ سے بچے کے لئے خوب پھلنے پھولنے کی ہوتی ہے۔ اس عمر میں بچوں کی نقل و حرکت والدین کی کڑی نظر ہونی چاہیے، بچوں کو گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹانے کے ساتھ اپنے ساتھ نماز ادا کرنے کا پابند بھی بنانا چاہئے اور معاشرے میں بڑھتے کچھ بُرائیوں،جرائم اور تشدد کے واقعات کے متعلق نقصانات کو بڑی احتیاط کے ساتھ آگاہ  کرنا چاہئے۔
ایک کہاوت ہے کہ گھر میں بچوں کے اچھے دوست بن جائیں تو بچے باہر کی بُری دوستی سے بچ جاتے ہیں۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے بچوں کو گھر میں اچھا دوستانہ ماحول مہیا کریں تاکہ آپ کے بچے بُری صحبت سے بچ سکیں۔بچے ﷲ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے اور اس کی حفاظت کرنا  ہرماں باپ کے لیے لازمی ہے۔
(| طالب علم قانون یونیورسٹی آف کشمیر)