’’واقعہ حول، شہر خاص کا میدان مقتل‘‘

سرینگر//بشری پاسداری تنظیم انٹرنیشنل فورم فار جسٹس نے سانحہ حول کی برسی کی مناسبت سے28صفحات پر مشتمل ایک تحقیقی رپورٹ’’واقعہ حول، شہر خاص کا میدان مقتل‘‘جاری کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وادی میں رونما ہوئے قتل عام میں ملوث اہلکاروں کو سزا دی جائے۔شہر خاص کے حول علاقے میں چکا چوند بازاروں اور مصروف زندگی کے بیچ 28بر س قبل ہوئے کشت خون کے کوئی بھی نشان اگر نظر نہیں آرہے ہیں تاہم آج بھی اہل علاقہ کے لوگوں کے دل میں خلش ضرور نظر آرہی ہے۔ 1990میں حول کی سڑکوںپرجوخون کی ہولی کھیلی گئی اس کے چھینٹے 3دہائی گزر جانے کے باوجود از جان ہوئے لوگوں کے رشتہ داروں اور اہل خانہ کے دلوں پر پیوست ہیں۔اس مناسبت سے منگل کو انٹرنیشنل فورم فار جسٹس کے چیئرمین محمد احسن اونتو نے پارتاپ پارک میں سانحہ کے حوالے سے ایک رپورٹ ’’واقعہ حول، شہر خاص کا میدان مقتل‘‘ پیش کیا۔اس موقعہ پر مسلم کانفرنس دھڑے کے چیئرمین شبیر احمد ڈار،مسلم خواتین مرکز کی سربراہ یاسین راجہ، معروف کشمیری شاعر مشتاق کاشمیری اور ٹریڈ لیڈر سجاد گل کے علاوہ دیگر لوگ بھی موجو دتھے۔ 28صفحات پر مشتمل سانحہ حول کی رپورٹ انگریزی اور اردو زبانوں میں منظر عام پر لائی گئی ہے،جس میں محکمہ پولیس، سی آئی ڈی،کرائم برانچ اور انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن کی تحقیقاتی ونگ کے رپورٹوں کو شامل کی گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق کمیشن کی تحقیقاتی ونگ نے دوران جانچ اس بات کا پتہ لگایا کہ اس سانحہ کے حوالے سے سی آر پی ایف نے بھی کورٹ آف انکوائرای کی ہے،جس میں کئی افسران سمیت15اہلکاروں کو مجرم قرار دیا گیا،تاہم یہ معلوم نہ ہو سکا کہ انہیں کوئی سزا بھی دی گئی یا نہیں۔ کمیشن کی رپورٹ میں پولیس اور کرائم برانچ کی تحقیقات کو جانبدارانہ قرار دیا گیا ہے،اور ان مختلف پہلوئوں کو اجا گر کیا گیا ہے،جن کو تحقیقاتی افسران نے یا تو پس پردہ کیا ہے، یا انہیں انجام دینے میں لاپرواہی کی ہے۔ کمیشن کی تحقیقاتی شعبے نے اس واقعے کی سر نو تحقیقات مرکزی تفتیشی ایجنسی’’سی بی آئی‘‘ سے کرنے کی سفارش کی ہے،تاہم انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن میں اس کیس سے متعلق عرضی پیش کرنے والے بشری حقوق کارکن محمد احسن اونتونے 2مارچ2018کو انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن میں جوابی دعویٰ پیش کرتے ہوئے درخواست کی کہ آئی جی کرائم کو ملوث سی آر پی ایف اہلکاروں کے خلاف زیر دفعہ302آر پی سی ایف آئی درج کرنے کی ہدایت دی جائیں،جبکہ غلام رسول بٹ،اس وقت کے کرائم کے تحقیقاتی افسر اور این سری ودھا اس وقت کے تحقیقاتی افسر جوایڈیشنل ایس پی بھی تھے،کو ملزموںکی مدد کرنے اور انہیں قانون سے بچانے کے علاوہ سرکاری ڈیوٹی سے غفلت شعاری کرنے کی پاداش میں کیس درج کیا جائے۔ تقریب پر محمد احسن اونتو نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بشری حقوق کے ریاستی کمیشن کو اس بات پر غور کرنا چاہے کہ محض معاوضہ فراہم کرنے اور ایس آراو دینے سے انصاف کی فراہمی پوری نہیں ہوتی،بلکہ ان اہلکاروں اور افراد کو سزا دی جانی چاہے،جو انسانی حقوق کی پامالیوں کے مرتکب ہو گئے ہیں۔شبیر احمد ڈار نے وادی کو سانحات کی سر زمین قرار دیتے ہوئے کہا کہ وادی کا کوچہ کوچہ اور گلی گلی مقتل گاہوں میں تبدیل کی جا چکی ہے اور ہر چوراہے پر خون کے دھبے ہی نظر آتے ہیں۔انہوں نے  بین الاقوامی برداری سے اپیل کی کہ وہ وہ ریاست میں’’ظلم و جبر کی چکی‘‘ کو بند کرنے میں اپنا رول ادا کرے۔