واردات

افسانہ

بشیر اطہر

آئیے آئیے!!! چُھلہ رام کیسا آنا ہوا؟ گاؤں کے چوہدری دین دیال چارپائی پر بیٹھا حُقہ پی رہا تھا۔ اس کے ارد گرد گاؤں کے دوچار افراد اور بھی جمع تھے جو آپس میں باتیں کرتے تھے۔ چُھلہ رام آتے ہی دو زانو بیٹھ گئے ۔نمسکار…..چوہدری صاحب!!! چُھلہ رام نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔
چُھلہ رام سیدھے سیدھے بولو کیا کہنا ہے ۔
چوہدری صاحب….. سمرداس جو میرا ہمسایہ ہے……
ہاں….کیا ہواسمرداس کو؟
اس کو کچھ نہیں ہوا۔ وہ میرے خلاف کورٹ میں گواہی دینا چاہتا ہے کہ بنجر زمین میری نہیں آتما رام کی ہی ہے کیونکہ وہ اس کے متعلق سب کچھ جانتا ہے۔ بنجر ایک کنال کی اراضی تھی جس پر چُھلہ رام اور آتما رام کے درمیان کئی دہائیوں سے کورٹ میں قضیہ چل رہا تھا۔ دراصل وہ اراضی آتما رام کی ہی تھی مگر چُھلہ رام نے اُس وقت اس پر قبضہ کیا تھا جب آتما رام کے والد کا انتقال ہوا تھا۔ اس وقت آتما رام کی عمر صرف پانچ سال کی تھی اور چُھلہ رام نے اس کی یتیمی کا فائدہ اٹھا کر اس کی زمین کو اپنی زمین کے ساتھ ملایا تھا۔ پہلے پہلے اس جابرانہ قبضے سے سبھی واقف تھےمگر جب بزرگوں نے انتقال کیا تو نئی پیڑی اس بات سے واقف نہیں تھی۔چوہدری نے بھی اپنے والد سے سُنا تھا کہ وہ زمین آتما رام کی ہی ہے مگر چُھلہ رام کو اپنے پاس دیکھ کر بہت خوش ہوا اور من ہی من میں سوچنے لگا کہ آج سُمرداس کے خلاف ایک اور بکرا ملا اب میں ایک تیر سے دو شکار کروں گا۔چوہدری صاحب اورسمرداس کے درمیان اس بات پر کچھ مہینہ پہلے یہ جھگڑا ہوا تھا کہ سمرداس کے بیٹے کو چوہدری کی بیٹی سے پیار ہوا تھا اور وہ شادی کرنا چاہتے تھے۔ سمرداس ان کے گھر رشتہ لے کر گیا تو چوہدری کے چمچوں نے اس کو دھکے دیکر گھر سے نکال دیا۔ تب سے چوہدری صاحب نےسمرداس کو برباد کرنے کی قسم کھائی تھی مگر گاؤں میں یہ چرچا تھا کہ آتما رام کی بیٹی کی مدد سے چوہدری صاحب کی بیٹی رفو چکر ہوگئی۔ ادھر چوہدری صاحب کا ایک ہی بیٹا تھا مگر وہ ہکلا اور بہرا تھا۔ اب میں اپنے بیٹے کی شادی آتما رام کی بیٹی سے ہی کروا کے رہوں گا چوہدری سوچنے لگا….آتما رام کی بیٹی نے اس رشتے کو کئی بار یہ کہہ کرٹھکرایا کہ میں ایک تعلیم یافتہ ہوں اور چوہدری کا بیٹا ان پڑھ اور گنوار ہے۔
چوہدری صاحب اب کیا ہوگا،آپ کے پاس سفارش تو ہے اس لیے مجھے ان دونوں کے چُنگل سے آزاد کردیجئے۔
مگر میں نے اپنے والد سے بھی سُنا ہے کہ وہ زمین آتما رام کی ہی ہے۔
چوہدری صاحب وہ تو ہے مگر……
ارے! پگلے مگر کیا؟
چوہدری صاحب نے ارد گرد بیٹھے لوگوں سے کہا کہ وہ ایک طرف ہوجائیں تاکہ میں چُھلہ رام سے تنہا بات کروں اور وہاں سے سبھی اُٹھے۔
چوہدری صاحب نے اپنا منہ چُھلہ رام کے کانوں سے لگایا اور کچھ کہا۔
میرا ضمیر اس کی اجازت نہیں دیتا ہے چُھلہ رام نے زور دار آواز میں کہا…..اس کے ہاتھ تھر تھر کانپنے لگے….
چھلہ رام! پھر بھی سوچئے….. ورنہ…..
چھلہ رام گھر گیا اور اپنے آپ سے کہتا رہا…. نہیں ایسا نہیں ہوسکتا… میں ایسا نہیں کروں گا….. چھلہ رام پھر سے سوچئے چوہدری کی باتیں چھلہ رام کے کانوں میں گونج رہی تھیں۔
اگلے روز صبح چھلہ رام چوہدری صاحب کے گھر پہنچا….. اب کیا فیصلہ لیا چُھلہ رام؟
چُھلہ رام کوبھی دولت نے اتنا اندھا کیا تھا کہ وہ پیسےکےلئےکوئی بھی کام کرنا چاہتا تھا حتاکہ وہ دوسرے کی زمینوں کو بھی اپنی عیاری سے اپنے قبضے میں کرلیتا تھا مگر آج اس کو یا تو چوہدری کی بات ماننی تھی یا بنجر کے ایک کنال زمین کو کھونا تھا۔
ہاں چوہدری صاحب میں وہی کروں گا جو آپ کہیں گے میں آج سے ہی اس کام پر لگ جاؤں گا مگر تاریخ یاد ہے نا چوبیس جون……
ہاں چوبیس جون…. مجھے یاد ہے چوہدری نے کہا۔
دس مئی کی تاریخ تھی لوگ ہڑبڑی میں اپنے اپنے گھروں کو بھاگ رہے تھے اور چوہدری صاحب اپنی گدی پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک نوکر تیزی سے اندر آیا۔ چوچوچوہدی صاحب غضب ہوگیا..
کیا ہوا؟ چوہدری صاحب نے حیران ہو کر پوچھا…..
چوہدری صاحب اپنے سمدھی جی سُمر داس کا قتل ہوا ہے!
ہو…… میں نے سوچا کہ کوئی مصیبت آن پڑی….. سمجھو کہ ایک بلا ٹل گئی…….
نہیں چوہدری صاحب بلا نہیں ٹلی بلکہ مصیبت آن پڑی…..
شُبھ شُبھ بولو کیا بولنا چاہتے ہو چوہدری صاحب نے غصے سے کہا…..
چوہدری صاحب قتل کا الزام آپ پر عائد کیا گیا……..
ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟
ایسا ہی ہوا جہاں پر سُمرداس کی لاش پائی گئی وہاں سے چَھلہ رام کا آدھار بھی پولیس کے ہاتھ لگ گیا اور جانچ پڑتال پر انہوں نے قتل اپنے ذمے لے لیا اور اس میں آپ کا نام بھی آگیا..
ابھی یہ باتیں ہی ہورہی تھیں کہ پولیس نے چوہدری صاحب کے پاس آکر ان سے کہا کہ یو آر انڈر ایریسٹ……سمرداس اور چوہدری صاحب کو ایک ہی ہتھکڑی پہنا دی گئی اور وہ ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے کہ یہ واردات آپ کے کہنے پر پیش آئی۔چوبیس جون کو چوہدری صاحب اور چُھلہ رام کورٹ کی کچہری میں کھڑے تھے….. زمین کا فیصلہ سُننے نہیں بلکہ اپنی واردات انجام دینے کے سلسلے میں اورجج نے ان دونوں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ ادھر سمر داس کے بیٹے اور چوہدری صاحب کی بیٹی نے چوہدری کے محل خانے میں آکر زندگی گزاری اور آتما رام کو بھی کورٹ نے کاغذات کی بنیاد پر بنجر کے زمین کا ایک کنال واپس دلا دیا۔
��
خانپورہ کھاگ بڈگام،موبائل نمبر؛7006259067