وادی کے 6اضلاع میں سڑکوں سے منی بسیں اور میٹاڈار گاڑیاں غائب

سرینگر// وادی میں کبھی منی بسوں کی بھر مار تھی اور ہر رابطہ سڑک پر مسافروں کیلئے منی بسین بڑی تعداد میں چلتی تھیں، لیکن اب آہستہ آہستہ منی بسیں اور میٹاڈار گاڑیاں غائب ہوتی جارہی ہیں۔ وادی کے بہت کم علاقوں میں چھوٹی منی بسیں یا میٹاڈار گاڑیاں چلتی ہیں لیکن جو بھی ایسی گاڑیاں چلتی ہیں انکے مالکان پچھلے دو برسوں سے مالی بدحالی کی شکار ہیں۔وادی میں پچھلے 10برسوں سے منی بسوں اور میٹاڈار گاڑیوں کی تعداد بہت حد تک کم ہوتی گئی ہے، جو قریب 12 ہزار کے قریب تھیں۔پہلے پہل ہر روٹ پر یہ گاڑیاں چلتی تھیں لیکن اب مشکل سے 4اضلاع میں چل رہی ہیں۔منی بس مالکان نے ان گاڑیوں کو یا تو سکولی بچوں کیلئے مخصوص کر رکھا ہے یا انہوں نے انہیں فروخت کر کے سومو گاڑیاں خرید لی ہیں۔ٹرانسپورٹ شعبے سے وابستہ منی بس مالکان،ڈرائیور و کنڈیکٹر نان شبینہ کے محتاج ہوگئے ہیں،جبکہ اس شعبے کو گزشتہ2برسوں کے دوران100کروڑ روپے کے خسارے سے دو چار ہونا پڑا ہے۔منی بس مالکان کا کہنا ہے کہ ڈرائیور اور کنڈیکٹر بھی وقت کے طوفان سے بچ نہ سکے۔ وادی میں قریب4ہزار500 منی بسیں سڑکوں پر دوڑتی ہوئی نظر آتی ہیں،جس میں قریب150سوراج مزدا گاڑیاں شامل ہیں۔ ضلع سرینگر میں 1600، گاندربل میں250کے قریب منی بسیں چلتی ہیں۔ اننت ناگ،سوپور اور بارہمولہ کے علاوہ قاضی گنڈ میں بھی کچھ منی بسیں چلتی ہیں۔منی بسوں سے قریب15ہزار کنبے براہ راست منحصر ہے،جو گزشتہ2برسوں سے وقت کے تھپیڑوں کا سامنا کر رہے ہیںاور ان کے چولہے بھی ٹھنڈے ہوگئے ہیں۔ ٹرانسپورٹروں کا کہنا ہے کہ منی بسوں سے وابستہ مالکان،کنڈیکٹروں اور ڈرائیوروں کو2019میں نامساعد صورتحال کے نتیجے میں قریب50کرورڑروپے کا سامنا کرنا پڑا،جبکہ گزشتہ برس کورونا لاک ڈائون کے نتیجے میں بھ40کروڑکا خسارہ برداشت کرنا پڑا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امسال کے لاک ڈائون کے نتیجے میں بھی اس شعبے کو قریب10کروڑ کا خسارہ برداشت کرنا پڑا ہے۔ دو برسوں کے دوران بیشتر ایام میں منی بسوں  کے پہیے جام رہے جس کے نتیجے میں ڈرائیوروں اور کنڈیکٹروں کا روزگار براہ راست متاثر ہوا،اور وہ دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔کشمیر منی بس فیڈریشن کے صدر شیخ محمد یوسف نے بتایا کہ حکام3برسوں میں سرینگر میں600منی بسیں کنڈم ہوئیں اور ان سے وابستہ ڈرائیور و کنڈیکٹر بے روزگار ہوئے اور مالکان بھی نئی گاڑیاں خریڈنے کی قوت سے بھی محروم ہوگئے ہیں۔شیخ محمد یوسف  نے بتایا کہ گزشتہ برس لاک ڈائون کے بعد سرکار نے ڈرائیوروں اور کنڈیکٹروں کو پیکیج دینے کا اعلان کیا،تاہم مالی سال کے آخری دن تک صرف2 لوگ ہی اس سے مستفید ہوئے اور باقی رقومات(لیپس) کر دئیے گئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گورنر کے مشیر کے کے شرما نے25کروڑ روپے بسوں اور منی بسوں کیلئے دینے کا اعلان کیا تھا،جس میں جموں اور وادی میں یکساں بنیادوں پر اس کو تقسیم کرنا تھا،تاہم جب پالیسی مرتب کی گئی،تو منی بسوں کو ثانوی درجہ دیا گیا اور بعد میں اس پیکیج کو سرد خانے کی نذر کردیا گیا اور آج تک وہ التواء میں ہے۔ شیخ محمد یوسف نے مزید بتایا کہ مسلسل لاک ڈائونوں اور بندشوں کے نتیجے میں اس شعبے سے وابستہ لوگوں کی مالی حالت اس قدر تنگ ہوچکی ہے،کہ وہ مفلوک الحال ہوچکے ہیں،اور مشکل سے دو وقت کی روزی روٹی کا بندوبست کر پا رہے ہیں۔ انہوں نے  کہا کہ ہڑتال ہو یا لاک ڈائون، کرفیو یا یا بندشیں، سب سے بڑی مار چھوٹی مسافر گاڑی مالکان کو ہی پڑرہی ہے۔