وادی کی نم ناک کہانی: امسال کمسن بچی اور 8خواتین کا لہو گرایا گیا

 سرینگر//وادی میں سال2017کے دوران صنف نازک کا لہو بھی خاک میں مل گیا،جبکہ ایک کمسن بچی اور2شیر خوار بچوں کی مائوں سمیت8خواتین بندوق کا نشانہ بن گئی۔ 2016میں جس طرح کشمیری خواتین  پیلٹ،بندوق اور تشدد کا نشانہ بنی تھی،اس کا سلسلہ امسال بھی جاری رہا۔ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں اور پلوامہ کے علاوہ اسلام آباد میں6 خواتین جبکہ سرحدی ضلع کپوارہ میں ایک کمسن بچی سمیت2خواتین بندوق کا نشانہ بنا کر لقمہ اجل بن گئی۔اس دوران درجنوں خواتین مختلف واقعات کے دوران زخمی بھی ہوئیں۔سال کے آخری ماہ میں2خواتین جبکہ فروری، مارچ، اپریل، جولائی،  ستمبر اوراکتوبرمیںایک ایک خاتون بندوق کا نشانہ بن گئی۔شوپیان کے مضافاتی گائوں میں22اور23فروری دوران شب فوج اور جنگجوئوں کے درمیان فائرنگ میں ایک خاتون تاجہ بیگم اہلیہ غلام محمد میر ساکن مول چتراگام گولی لگنے سے جاں بحق ہوئی۔پولیس کے مطابق جھڑپ کے دوران تاجہ بیگم کو اپنے گھر میں آوارہ گولی لگی۔تاہم مقامی لوگوں نے پولیس کے بیان کو مسترد کیا۔ جگتیال ہایئہامہ کپوارہ میں15مارچ کو جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان معرکہ آرائی کے بیچ ایک 6سالہ معصوم بچی کنیزہ جاں بحق اور ایک کمسن لڑکا فیصل و پولیس اہلکار سمیت2افراد زخمی ہوئے ۔پولیس کے مطابق کمسن بچی جائے جھڑپ سے100میٹر دور آوارہ گولی لگنے سے لقمہ اجل بن گئی۔پلوامہ کے ٹہاب علاقے میں ہڑتال کے دوران11اپریل کو مبینہ طور پر ایک خاتون شمیمہ اختر اہلیہ نذیر احمد ٹیر گیس شلنگ سے دم گھٹنے کی وجہ سے لقمہ اجل بن گئی۔اہل خانہ نے بتایا کہ مذکورہ خاتون گھر میں تھی،اور اس دوران ٹیر گیس شلنگ بھی ہو رہی تھی،اور اس نے سینے میں درد کی شکایت کی،اور بے ہوش ہوئی،تاہم اگر اس کو اسپتال پہنچانے کی کوشش کی گئی،تاہم ڈاکٹروں نے اس کو مردہ قرار دیا۔پولیس کے مطابق انہیں بھی خاتون کی موت کی اطلاع ملی،تاہم موت کے وجوہات کا پتہ نہیں چلا۔یکم جولائی کودیالگام اسلام آباد میں جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان معرکہ آرائی کے دوران مخالف مظاہروں میں لشکر طیبہ کے معروف  کمانڈر بشیر احمد وانی عرف بشیر لشکری سمیت2جنگجو اور ایک44سالہ خاتو ن طاہرہ بیگم سمیت2عام شہری جاں بحق ہوئے۔پولیس کے مطابق دیگر شہریوں کو اگرچہ باہر نکالا گیا،تاہم مذکورہ خاتون کو عسکریت پسندوں نے انسانی ڈھال بنادیا،تاہم پولیس کے اس بیان کو مقامی لوگوں نے مسترد کیا۔جنوبی قصبہ ترال میں 21ستمبر کو وزیرتعمیرات نعیم اخترکے قافلے کونشانہ بنانے کیلئے گرینیڈپھینکاگیا ،جسکے نتیجے میں ایک جواں سالہ یونیورسٹی طالبہ پنکی کور ساکن ترال سمیت 3 تین عام شہری لقمہ اجل بن گئے۔سیرجاگیرترال میں22اکتوبر کو اسلحہ برداروں کی فائرنگ کے نتیجے میں 18سالہ مہما ن دوشیزہ  یاسیمن ساکن کھنموہ ہلاک،جبکہ روبینہ شدیدزخمی ہوگئی ۔10اور11دسمبر کی درمیانی رات  ’دوران شب برستی بارش میں انکائونٹر‘‘کے دوران ’’یونسولنگیٹ میں3عدم شناخت جنگجواورایک جواں سالہ خاتون میسرہ جاں بحق‘‘ہوئی۔میسرہ جان 3ماہ کے شیر خوار بچے کی والدہ تھی۔ سیکورٹی ایجنسیوںکے مطابق مذکورہ خاتون کراس فائرینگ کے دوران جاں بحق ہوئی۔18 دسمبرشام کو شوپیاں کے کیلر علاقے میں معرکہ آرائی میں2جنگجوئوں کے جاں بحق ہوجانے کے بعد19دسمبر کو فورسز کی گولی سے24سالہ روبی عرف بیوٹی جان زخموں کی تاب نہ لاکرلقمہ اجل بن گئی ۔پولیس کے مطابق خاتون کراس فائرنگ کے دوران لقمہ اجل بن گئی،تاہم مقامی لوگوں کے مطابق بیوٹی جان گھر میں اپنے شیر خوار بچے کے ساتھ موجود تھی،جس کے دوران فورسز کی طرف سے اندھا دھند فائرنگ کے دوران اس کو گولی لگی۔